سہاگ رات پر میاں بیوی نے آپس میں سب سے خوفناک معاہدہ کرلیا، عمل کرنے لگے تو ایک کی جان ہی چلی گئی، ایسا کیا تھا؟ جان کر ہر شخص کانپنے لگ جائے

سہاگ رات پر میاں بیوی نے آپس میں سب سے خوفناک معاہدہ کرلیا، عمل کرنے لگے تو ...
سہاگ رات پر میاں بیوی نے آپس میں سب سے خوفناک معاہدہ کرلیا، عمل کرنے لگے تو ایک کی جان ہی چلی گئی، ایسا کیا تھا؟ جان کر ہر شخص کانپنے لگ جائے

  

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) حقیقی زندگی میں رونما ہونے والے بعض واقعات ایسے لرزہ خیز ہوتے ہیں کہ شاید دنیا کی ڈراؤنی ترین فلمیں بھی ان خوفناک واقعات جیسی ڈراؤنی نہیں ہو سکتیں۔ امریکا میں دو سال قبل پیش آنے والا ایک واقعہ ایک ایسی ہی مثال ہے، جسے جرائم کی تاریخ کے بھیانک ترین واقعات میں بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔

یہ دسمبر 2014 کی بات ہے کہ جب ریاست مشی گن سے تعلق رکھنے والے جوڑے جیسن اور کیلی نے شادی کی۔ ان دونوں نے اپنی شادی کی پہلی رات ایک ایسا معاہدہ کیا کہ جس کا تصویر شایدہی کسی نئے نویلے جوڑے کے وہم و گمان میں بھی گزرا ہو۔انہوں نے وعدہ کیا کہ ان دونوں میں سے جو بھی بے وفائی کا مرتکب ہوا اس کے محبوب یا محبوبہ کو قتل کر دیا جائے گا۔

دو سال تو خیریت سے گزرے مگر پھر کیلی کو کرس نامی ایک بزنس مین سے محبت ہو گئی۔ چند ماہ بعد جیسن کو ان کے تعلق کا علم ہو گیا اور ایک روز رات کا کھانا کھاتے ہوئے جیسن نے اس موضوع پر بات کی۔ کیلی نے تسلیم کر لیا کہ وہ کرس کے ساتھ خفیہ تعلق استوار کئے ہوئے ہے، اور پھر جیسن نے شادی کی رات کیا گیا معاہدہ اسے یاد دلایا۔ کیلی کا جواب تھا ’’ٹھیک ہے، میں معاہدے پر عمل کے لئے تیار ہوں۔‘‘

اگلے دن کیلی نے کرس سے کہا کہ جیسن شہر سے باہر گیا ہوا ہے لہٰذا وہ اسے گھر پر ملنے آ جائے۔ جب کرس آیا تو جیسن اس کا منتظر تھا۔ اس نے سر میں گولی مار کر کرس کو قتل کر دیا، لیکن یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ ابھی کچھ ایسا باقی تھا جو شاید اس قتل سے بھی بڑھ کر رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔

جیسن اور کیلی نے کرس کی لاش کے ٹکڑے کئے اور کچھ گوشت فریج میں رکھنے کے بعد باقی اعضاء کو پلاسٹک کے بیگز میں بند کر کے قریبی جنگل میں پھینک آئے، لیکن ابھی کچھ اس سے بھی بڑھ کر بھیانک ہونے والا تھا۔چند دن بعد انہوں نے اپنے ہمسایوں کو دعوت پر بلایا اور کرس کا گوشت باربی کیو کر کے انہیں کھلایا۔ ایک سال بعد ان بدقسمت ہمسایوں کو اس دعوت کے متعلق کچھ ایسا معلوم ہونے والا تھا جو زندگی بھر ڈراؤنا خواب بن کر ان کا تعاقب کرتارہے گا۔

ہوا کچھ یوں کہ کرس کے قتل کے چند ماہ بعد کیلی کو اس کی یاد ستانے لگی۔ وہ اپنے محبوب کے قاتل، یعنی اپنے شوہر جیسن سے نفرت کرنے لگی۔یہ نفرت ایسی شدید ہوئی کہ ایک رات موقع پا کر اس نے جیسن کو قتل کر دیا۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ نشے کی زیادتی کے باعث اس کے شوہر کی موت ہو گئی تھی۔ جب پوسٹمارٹم کیا گیا تو معلوم ہوا کہ جیسن نشے کی زیادتی سے بے ہوش ضرور ہوا تھا لیکن اس کی موت دم گھٹنے سے ہوئی تھی۔ اس انکشاف کے بعد پولیس نے کیلی کو حراست میں لے لیا اور اس سے تفتیش شروع کر دی۔ بالآخر اس کی ہمت جواب دے گئی اور اس نے سارا کچھ پولیس کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔

کیلی پر مقدمہ چلایا گیا اور اسے 65 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ وہ جیل میں قید کی سزا کاٹ رہی ہے لیکن اس کے ہمسائے، جنہیں اس نے دعوت پر بلایا تھا، اس دعوت کے ہولناک انکشافات سامنے آنے پر نیم پاگل ہو کر رہ گئے ہیں۔ صرف وہی نہیں بلکہ کیلی کو جاننے والا ہر شخص ایک عجیب قسم کی دہشت میں مبتلاء ہے۔ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اس نے ایک، دو نہیں بلکہ نو مردوں کو قتل کیا ہے۔ نجانے وحشت کی اس داستان کے کتنے باب ابھی پوشیدہ ہیں۔ 

مزید : ڈیلی بائیٹس