ایک لڑکی کے پیچھے سڑک پر مردوں میں لڑائی ہوگئی، جھگڑا بڑھا تو خاتون نے ایک تیسرے مرد کو۔۔۔ ایسا کام کردیا کہ پولیس والے بھی حیران پریشان رہ گئے

ایک لڑکی کے پیچھے سڑک پر مردوں میں لڑائی ہوگئی، جھگڑا بڑھا تو خاتون نے ایک ...
ایک لڑکی کے پیچھے سڑک پر مردوں میں لڑائی ہوگئی، جھگڑا بڑھا تو خاتون نے ایک تیسرے مرد کو۔۔۔ ایسا کام کردیا کہ پولیس والے بھی حیران پریشان رہ گئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بنگلورو(نیوز ڈیسک)بھارتی شہر بنگلورو سے نیلامنگلا جانے والی شاہراہ پر ہفتے کے روز لوگوں کو ایک عجیب ڈرامہ دیکھنے کو ملا۔ باوی کیرے جنکشن کے قریب بس ٹرمینل پر ایک خاتون کی وجہ سے دو مردوں میں لڑائی ہو گئی، مگر پھر اس ڈرامے کا انجام ایسا غیر متوقع ہوا کہ جس کی توقع کسی کو بھی نہیں تھی۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ خاتون بس ٹرمینل پر پہلے سے موجود تھی، ایک شخص اس کے ساتھ موجود تھا اور دوسرا بعد میں آیا۔ جیسے ہی دوسرا شخص وہاں پہچا تو دونوں مردوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی اور انہوں نے ایک دوسرے کی خوب درگت بنائی۔ اس دوران وہاں ایک بڑا ہجوم جمع ہو گیا اور کچھ ہی دیر بعد پولیس کی ایک گاڑی بھی وہاں پہنچ گئی۔

پتا یہ چلا کہ ایک دوسرے کی بوٹیاں نوچنے والے دونوں مرد اس خاتون کے عاشق تھے۔ ان میں سے ایک کا نام چکابدارکلا اور دوسرے کا سداراجو ہے جبکہ خاتون کا نام ششیکلا بتایا گیا ہے۔ وہ دونوں ششیکلا سے شادی کے طلبگار تھے اور ایک کی کوشش رہتی تھی کہ دوسرا اس کی محبوبہ کے قریب نا پھٹکے۔ ہفتے کے روز سداراجو ششیکلا کے پیچھے بس ٹرمینل پر پہنچا اور اس کے پیچھے چکابدارکلا بھی پہنچ گیا، جس کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کو خوب پھینٹی لگائی۔

جب پولیس موقع پر پہنچی تو دونوں کو بمشکل قابو کر کے پوچھا کہ انہیں کیا تکلیف تھی جو ایک دوسرے کی جان کے ایسے دشمن ہو رہے تھے۔ دونوں نے سینہ تان کر بتایا کہ وہ ششیکلا کے عاشق ہیں اور اسی کی وجہ سے یہ جنگ ہو رہی تھی۔ جب پولیس نے ششیکلا کی جانب دیکھا تو وہ ایک اور نوجوان کا ہاتھ تھامے کھڑی تھی۔ ا س کا کہنا تھا کہ وہ ان دونوں میں سے کسی کے ساتھ بھی شادی نہیں کرنا چاہتی بلکہ اپنے دوست، جس کا اس نے ہاتھ تھام رکھا تھا، کے ساتھ جانا چاہتی تھی۔ اب بھلا پولیس کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ ششیکلا کو اس کے دوست کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی گئی اور حیرت کے مارے ایک دوسرے کا منہ تکتے چکابدارکلا اور سداراجو کو پولیس دنگا فساد کرنے کے جرم میں پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئی۔ 

مزید : ڈیلی بائیٹس