کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی بھونڈی چال

کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی بھونڈی چال

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لئے ڈرامائی طریقِ کار اختیار کیا، وزیر داخلہ نے پارلیمینٹ کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا میں آئین کا آرٹیکل 370ختم کرنے کی تجویز پیش کی جس پر صدر بھارت کے دستخط پہلے ہی حاصل کر لئے گئے ہیں، جو تجویز پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں پیش کی گئی ہے اس کے مطابق جموں و کشمیر کی ”تنظیم نو“ کی جائیگی اور آرٹیکل 370کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر مرکز کے زیر اہتمام ریاست یا یونین ٹیریٹری ہو گی جس کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہو گی اور وہاں لیفٹیننٹ گورنر تعینات کیا جائیگا جبکہ لداخ مرکز کے زیر اہتمام ایسا علاقہ ہو گا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہو گی۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی چہ میگوئیاں تو عرصے سے ہو رہی تھیں اور ساتھ ہی اس کی مخالفت بھی کی جا رہی تھی یہاں تک کہ وہ جماعتیں، جو باقاعدگی سے بھارت کے لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیتی ہیں اور بھارتی سسٹم کے اندر رہ کر ہی اپنے حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں، اس تجویز کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور ہوئیں، چند دن سے کشمیر کے اندر فوجی دستوں کی تعداد میں جو اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا یا تریوں اور سیاحوں کو جس طرح ریاست سے نکل جانے کا حکم دیا جا رہا تھا اور جس طرح اسلحے اور گولہ بارود کی نئی کھیپ ریاست میں پہنچائی جا رہی تھی اس سے لگتا تھا کہ کشمیر میں کچھ ہونے والا ہے، ہر کشمیری پریشان حال اور اپنے مستقبل کے بارے میں تشویش میں مبتلا تھا جس کا اظہار سینئر حریت لیڈر سید علی گیلانی نے اپنے ایک ٹویٹ میں بھی کیا جسے ایس او ایس کا نام دیا گیا۔ لگتا ہے یہ سارا اہتمام اس ردعمل کو روکنے کے لئے کیا گیا جو کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے خلاف کشمیر میں متوقع ہے جس کی ایک جھلک راجیہ سبھا میں بھی نظر آئی جب کشمیر سے تعلق رکھنے والے کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد نے ایوان میں کہا ”ہم ہندوستان کے آئین کی حفاظت کے لئے اپنی جان کی بازی لگا دیں گے ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں، آج بی جے پی نے اس آئین کا قتل کیا ہے“ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ”آج کا دن انڈیا کی جمہوریت میں سیاہ ترین دن ہے“ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کی قیادت کی جانب سے 1947ء میں دو قومی نظریئے کو رد کرنا اور انڈیا کے الحاق کا فیصلہ بیک فائر کر گیا ہے، انڈیا کی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370کا خاتمہ جس سے انڈیا جموں و کشمیر میں قابض قوت بن جائیگا۔ اس اقدام کے برصغیر پر تباہ کن اثرات ہوں گے۔

آئین سے آرٹیکل 370خارج کرتے ہوئے آئینی ترمیم کا مروجہ طریق کار اختیار نہیں کیا گیا مودی حکومت نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اکثریت رکھنے کے باوجود یہ طریقِ کار اس لئے اختیار نہیں کیا کہ اسے ناکامی کا خدشہ تھا، جو طریق کار اپنایا گیا اس کی بھارت کی آئینی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی، وزیر داخلہ نے راجیہ سبھا میں جو تجویز پیش کی اس پر صدر کے دستخط پہلے سے حاصل کر لئے گئے حالانکہ طریقِ کار کے مطابق کوئی بھی مسودۂ قانون پہلے پارلیمنٹ کی منظوری کے لئے پیش کیا جاتا ہے اور پھر صدر کے دستخط حاصل کئے جاتے ہیں اور یہ تو کوئی قانونی مسودہ تھا ہی نہیں یہ آئینی ترمیم کا معاملہ تھا آئین سے ایک آرٹیکل صرف دو تہائی اکثریت سے ہی نکالا جا سکتا تھا شاید یہی وجہ تھی کہ جب بھی اس آرٹیکل کو آئین سے نکالنے کی بات کی گئی تو دو تہائی اکثریت کے حصول میں ناکامی کے خدشے کے پیش نظر حکومت پیچھے ہٹ گئی لیکن بی جے پی نے نہ صرف اس طریقِ کار سے انحراف کیا بلکہ صدر کے پہلے سے دستخط حاصل کر کے گھوڑے کے آگے گاڑی باندھ دی، گویا ایک صدارتی آر ڈی ننس کے ذریعہ آئین میں غیر آئینی ترمیم کر دی گئی جس کی بھارت تو کجا دنیا کے کسی جمہوریت پسند ملک میں کوئی مثال ملنا مشکل ہے۔

اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر متنازع علاقہ ہے جس کا تصفیہ کشمیریوں کے استصواب رائے کے ذریعے ہونا ہے، اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر یہ مسئلہ آج بھی موجود ہے یہ الگ بات ہے کہ بھارت پوری ڈھٹائی سے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا رہتا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ بھارتی آئین کے مطابق کشمیر بھارت کا حصہ ہے لیکن آج بھارت نے اپنے ہاتھوں سے وہ بنیاد بھی ڈھا دی اور آئین کی مٹی اپنے ہاتھوں سے پلید کر دی، کشمیر کی خصوصی حیثیت کو محض اس لئے بدل دیا کہ مسلمان اکثریت کی اس ریاست میں کوئی بھی غیر ریاستی باشندہ جائیداد خریدنے کا حق نہیں رکھتا، کشمیری شہریوں کو خصوصی حقوق حاصل ہیں جس کی وجہ سے ریاست میں آبادی کا تناسب مسلمانوں کے حق میں ہے۔متنازعہ علاقہ ہونے کے باوجود کشمیریوں کو بعض ایسے حقوق حاصل تھے جس کی وجہ سے ریاست کے اندر تھوڑی تعداد میں ہی سہی ایسے عناصر بھی موجود تھے جو انتخابات میں حصہ لیتے تھے اب ان کے لئے بھی بھارت کے ساتھ جڑے رہنے کا کوئی جواز نہیں رہ گیا اور کشمیر کی پوری قیادت ایک ہی موقف پر متحد ہو گئی ہے اور وہ ہے بھارتی تسلط سے پوری آزادی، اس وقت ساڑھے آٹھ لاکھ فوج کشمیر میں موجود ہے جو اس لئے جمع کی گئی ہے کہ کشمیری حریت پسند بھارت کی مرکزی حکومت کے اس غاصبانہ اقدام کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کریں گے اور اس انگار وادی میں بھارتی حکومت کو جلد ہی معلوم ہو جائیگا کہ اس نے جو جن بوتل سے باہر نکالا ہے اسے واپس بند کرنا کتنا مشکل ہو گا جس کشمیر کے حالات پہلے ہی قابو میں نہیں تھے اب کس طرح کنٹرول میں آئیں گے بھارتی منصوبہ سازوں نے عجلت میں احمقانہ اقدام کرتے ہوئے شاید اس پر غور نہیں کیا۔

بھارت کا اگر یہ خیال ہے کہ اس کے اس عجوبہ روزگار اقدام سے ریاست کے اندر جاری آزادی کی تحریک دم توڑ جائیگی تو یہ اس کی خام خیالی ہے کیونکہ اس سے پہلے بھارت کی سیکیورٹی فورسز تشدد کا ہر حربہ آزما کر دیکھ چکیں، کشمیریوں کا جذبہ حریت سرد نہیں پڑا کشمیری نوجوانوں کی شہادتیں ان کے اس جذبے کو اور جو ان کر دیتی ہیں اور جنازوں کے جلوس اس کے گواہ ہیں ویسے تو آزادی کی تحریک عشروں سے جاری ہے لیکن برہان وانی کی شہادت نے اس تحریک کو جو تازہ ولولہ دیا تھا وہ اب تک سنگینوں اور گولیوں کے سائے تلے بھی پورے جوش و جذبے سے جاری ہے۔ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کی خواہش بی جے پی کی حکومت کے رہنماؤں کے ذہنوں میں بڑے عرصے سے کلبلا رہی تھی اب اس نے یہ کام بھی کر ڈالا ہے تو دیکھنا ہو گا کہ حریت و آزادی کے جذبے کے سامنے یہ تجویز کتنا عرصہ ٹھہرتی ہے۔

مزید : رائے /اداریہ