ساون کی شجر کاری، تحفظ کی ضرورت!

ساون کی شجر کاری، تحفظ کی ضرورت!

اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان نے پودا لگا کر موسم برسات کی شجر کاری مہم کا آغاز کیا ہے۔ وزیر اعظم کے اعلان اور ہدایت کے مطابق پورے ملک میں پانچ سال کے دوران پانچ ارب پودے لگائے جانا ہیں اور اس کا آغاز گزشتہ موسم بہار کی شجرکاری مہم سے ہوا۔ اس مہم کے لئے صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ مختلف محکمے اور متعلقہ شعبے بھی سرگرم ہیں اور ان کی طرف سے لاکھوں پودے لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز بھی ایسے اعلانات سامنے آئے ہیں۔شجر کاری ہمارے ملک کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے کہ یہاں جنگل کا رقبہ مطلوبہ تعداد سے کہیں کم ہے۔ ماحولیاتی آلودگی زیادہ اور لینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہے کہ ٹمبر مافیا لکڑی چوری کے لئے درخت کاٹتا تو پہاڑوں میں رہنے والے برف باری کے موسم میں چولہے جلاتے ہیں۔ یوں درخت کم ہوتے چلے گئے۔برصغیر کی تقسیم سے قبل محکمہ جنگلات درختوں پر نمبر لگاتا تھا اور یوں نہ صرف گنتی پوری ہوتی تھی بلکہ درخت کاٹنے کی تاریخ متعین کر کے متبادل پودے لگانے کا وقت بھی مقرر تھا۔ شجر کاری ہوتی تو اس کی دیکھ بھال بھی کی جاتی تھی یوں جنگل کا رقبہ مساوی رہتا۔ قیام پاکستان کے بعد آبادی بڑھی اور نئی بستیاں بنیں۔ جبکہ اب رہائشی کالونیوں کا رواج ہے۔ اس کے لئے زرعی اراضی اور پہاڑوں کی کٹائی ہوتی ہے۔ اس کی زد میں درخت بھی آتے ہیں اس لئے جہاں شجر کاری ایک ضرورت ہے۔ وہاں پودوں کی حفاظت لازم ہے کہ وہ درخت بن سکیں اور یہ بھی ضروری ہے کہ پہلے سے موجود درختوں کو کٹائی اور چوری کے عمل سے روکا جائے۔ ملک کے ہر حصہ میں درختوں کی کمی کو پورا کرنا لازم ہے اس کے لئے جہاں سب محکمے اور شعبے شجر کاری میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ حفاظت کے بھی ذمہ دار ہوں۔ وزیر اعظم نے یہ سلسلہ خیبرپختون خوا سے شروع کیا تھا۔ وہاں بھی متنازعہ ہو چکا اور ابھی تک ٹمبر مافیا کو بھی قابو نہیں کیا جا سکا اس لئے ضروری ہے کہ صوبوں اور وفاقی دارالحکومت میں جو شجر کاری ہو اس کا حساب اور پرورش کی گنتی بھی رکھی جائے۔

مزید : رائے /اداریہ