سعودی وزیر توانائی کا روسی ہم منصب سے تیل کی مارکیٹ پر تبادلہ خیال

  سعودی وزیر توانائی کا روسی ہم منصب سے تیل کی مارکیٹ پر تبادلہ خیال

ریاض (این این آئی)سعودی عرب 2020ء کی پہلی سہ ماہی کے اختتام تک تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے سمجھوتے پر مکمل یک سوئی سے عمل درآمد جاری رکھے گا تاکہ عالمی سطح پر تیل کے ذخائر اپنی فطری سطح پر آجائیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے ماسکو روسی ہم منصب الیگزینڈر نوواک سے ملاقات کے بعد ایک ٹویٹ میں کہی۔ انھوں نے روسی وزیر توانائی سے تیل کی مارکیٹ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔خالد الفالح نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہم دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری، سرمایہ کاری،ترقی اور باہمی تجارت کے فروغ کے لیے اس طرح کی ملاقاتوں اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔واضح رہے کہ سعودی عرب اور روس نے جولائی میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے تیل بر آمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک اور غیر اوپیک ممالک کے درمیان تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے سمجھوتے میں توسیع سے اتفاق کیا تھا۔اس ڈیل پر دو جولائی کو اوپیک کے ہیڈ کوارٹر ویانا میں دستخط کیے گئے تھے۔اس میں میکسیکو، بحرین، عْمان اور قزاقستان بھی شامل ہیں مگر امریکا اس سمجھوتے کا حصہ نہیں ہے حالانکہ وہ اس وقت ماہانہ پیداوار کے اعتبار سے دنیا میں تیل کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ملک بن چکا ہے۔روس کی آمدن کا بڑا دارومدار تیل اور گیس کی برآمدات پر ہے۔اوپیک اور غیر اوپیک ممالک نے دسمبر 2018ء میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی مارکیٹ میں استحکام کے لیے یکم جنوری سے پیداوار میں 12 لاکھ بیرل یومیہ کمی کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

سعودی عرب نے 2017ء میں پہلی مرتبہ روس اور تیل پیدا کرنے والے دوسرے غیر اوپیک ممالک سے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں استحکام کے لیے پیداوار میں کٹوتی سے اتفاق کیا تھا۔اوپیک میں تیل پیدا کرنیوالے چودہ ممالک شامل ہیں اور وہ دنیا کا ایک تہائی تیل پیدا کرتے ہیں۔

ش

مزید : عالمی منظر