پولیس کے شہدا کو سلام

پولیس کے شہدا کو سلام

  

یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر ان افسروں اور جوانوں کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،جنہوں نے اپنی جانیں دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے قربان کیں،یہ قربانیاں پیش کرنے والوں میں پولیس کے چھوٹے بڑے افسر،اہلکار اور دوسرا عملہ شامل ہے، ان جانثاروں کا تعلق پولیس کی کسی ایک فورس سے نہیں تھا،بلکہ ان میں پولیس کی ہر نوع کی فورس کے افسر اور جوان شامل تھے، زیر تربیت اہلکاروں نے بھی جانوں کے نذرانے پیش کئے، جب لاہور میں مناواں کے مقام پر واقع تربیتی مرکز پر دہشت گردوں نے منظم حملہ کیا، تو یہ زیر تربیت نوجوانوں ہی نے روکا، جب تک پولیس کی کمک نہ پہنچ گئی،ڈولفن فورس کے افسروں نے بھی شہادت کا رتبہ پایا، لاہور ٹریفک پولیس کے ڈی آئی جی احمد مبین عین اُس وقت ساتھی پولیس والوں کے ساتھ جامِ شہادت نوش کر گئے، جب وہ مال روڈ لاہور پر ریلی نکالنے والوں کو سمجھا بجھا رہے تھے کہ فوراً منتشر ہو جائیں، ریلی پر حملے کی اطلاعات ہیں، غالباً ریلی کے منتظمین اِس اطلاع کو سنجیدہ نہیں لے رہے تھے اور حیل و حجت کا مظاہرہ کر رہے تھے کہ چند لمحوں بعد ہی ایک خود کش بمبار نے حملہ کر دیا، جس میں احمد مبین سمیت کئی پولیس اہلکار شہید ہو گئے، ایسی دوسری مثالیں بھی موجود ہیں جب خطرے کی اطلاعات کے علی الرغم پولیس افسر اپنی ڈیوٹی پر ڈٹے رہے اور جانوں کا نذرانہ پیش کر کے امر ہو گئے۔

لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے شہدا کی یادگار پر حاضری دی اور پھول چڑھائے اور کہا کہ پولیس کے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو یاد کرنے کا دِن ہے، شہدا کی مغفرت کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی، وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ شہدا کے ورثا اور ان کے خاندانوں کی دیکھ بھال ہماری ذمے داری بھی ہے اور فرض بھی۔ پنجاب حکومت شہدا کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی، مسلم لیگ(ن) نے بھی شہدا کی قربانیوں کو یاد کیا اور کہا  پولیس کے شہدا قوم کے ہیرو اور اس کے ماتھے کا جھومر ہیں، پولیس نے مشکل حالات میں دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، جب دہشت گردی عروج پر تھی اور ایسی وارداتیں کثرت سے ہو رہی تھیں، امن کے لئے قربانیاں دینے والے شہدائے پولیس ہمارے لئے باعث فخر ہیں، شہدا نے اپنی جانیں قربان کر کے اپنا فرض نبھایا، ہمیں ان کے فرض کو زندہ رکھ کر اپنی ذمے داری نبھانا ہو گی۔2009ء میں پولیس کی ون فائیو بلڈنگ پر حملہ کیا گیا اُس وقت کے ایس پی سی آئی اے عمر ورک کی رہائش اسی عمارت میں تھی، وہ بھی تباہ ہو گئی اسی حالت میں وہ دھماکے کے بعد فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچے اور وہاں ایک زخمی پولیس اہلکار کو ریسکیو کرنے کی کوشش کی تو اُس نے کہا پہلے سویلین لوگوں کو بچایا جائے، ایثار کا یہ جذبہ ہر اُس مقام پر دیکھا گیا،جہاں جہاں دہشت گردوں نے پولیس کو نشانہ بنایا۔

پولیس کے فرائض کی نوعیت ایسی ہے کہ جرائم  پیشہ افراد کے ساتھ براہِ راست ڈیلنگ کی وجہ سے اس فورس میں بعض خرابیاں بھی در آئی ہیں، پولیس افسر اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز بھی کرتے ہیں اور دوسرے سرکاری محکموں کے مقابلے میں یہاں رشوت و بدعنوانی کے مواقع بھی زیادہ ہیں اور پولیس اہلکار بوجوہ اس کا شکار بھی ہوتے ہیں،جس کی وجہ سے پولیس سے شکایات بھی رہتی ہیں،لیکن اس کے باوجود یہ واحد سول فورس ہے جہاں اگر کوئی افسر یا اہلکار دہشت گردوں یا دوسرے جرائم پیشہ افراد کی گولیوں یا بموں کا نشانہ بنتا ہے تو اگلے ہی لمحے دوسرے لوگ اس کی جگہ ذمہ داری سنبھالنے کے لئے پوری طرح تیار اور مستعد ہوتے ہیں، بموں اور گولیوں کی بوچھاڑ میں فرائض کی ادائیگی کے لئے آگے بڑھ کر ذمے داری کے لئے تیار رہنا بڑے دِل گردے کا کام ہے، یہی وجہ ہے کہ جب کوئی پولیس اہلکار یا افسر ایسی شہادت کو گلے لگاتا ہے تو وہ اُن ساتھی پولیس اہلکاروں کا کفارہ بھی ادا کرتا ہے،جو کسی وجہ سے عوام کی نگاہ میں پسندیدہ نہیں ہوتے، جان کا نذرانہ پیش کرنے والے ایسے پولیس افسر عوام کی نگاہ میں بڑی قدر  و منزلت رکھتے ہیں،ہر سال یوم شہدائے پولیس کے موقع پر احسان و تشکر کے مظاہرے دیکھے جاتے ہیں اور حسب ِسابق اِس بار پھر شہدا کو  بھرپور انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

پولیس سروس کی کشش اپنی جگہ ہے،لیکن اس میں خدمات انجام دینے والوں کی زندگی کانٹوں سے بھی بھری پڑی ہے، دور سے خوشنما نظر آنے والی اس سروس میں شمولیت کرنے والے جب اس کا حصہ بنتے ہیں تو انہیں ان خطرات کا اندازہ ہوتا ہے جو ہروقت ان کے سامنے اور گردو پیش میں موجود ہوتے ہیں، معمولی اہلکاروں اور معمولی درجے کے افسروں کی زندگی کو اگر قریب سے دیکھیں تو اُن کے خاندانوں کے دُکھوں کا بھی اندازہ ہوتا ہے، بہت سے خاندان ایسے بھی ہوتے ہیں، جن کے عزیز جب اِس جہان سے رخصت ہو گئے تو اُن کی جانب کما حقہ‘ توجہ نہ دی جا سکی، اُن کے بچوں کو تعلیم کے حصول میں مشکلات بھی درپیش ہوتی ہیں، شہدا کے بوڑھے والدین کو بسا اوقات مناسب طبی سہولتیں بھی دستیاب نہیں ہوتیں،شہدا کے نام پر پولیس کے کئی ادارے کام تو کر رہے ہیں،لیکن ضرورت ہے کہ ان اداروں کی خدمات کا دائرہ وسیع کیا جائے تاکہ پولیس کے شہدا کے بچے محسوس نہ کریں کہ اُن پر پوری توجہ نہیں دی جا رہی، ایسے شہدا کے خاندان بھی ہیں، جنہیں شکایت ہوتی ہے کہ اُن کے بیٹے یا بھائی کی شہادت کے بعد انہیں نظر انداز کیا گیا اور انہیں معمولی معمولی کاموں کے لئے دفتری سرخ فیتے کی مشکلات درپیش رہیں ایسے خاندانوں کے مسائل اگر ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں تو پولیس کی نیک نامی میں بھی اضافہ ہو گا اور یہ تاثر بھی نہیں پھیلے گا کہ شہدا کے لواحقین اور عزیز و اقارب کو نظر انداز کیا جا رہا ہے،اسی طرح ریٹائرڈ پولیس اہلکاروں پر بھی خصوصی توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔

شہدا کے بچوں کی تعلیم اور دوسری ضروریات پوری کرنے کے لئے شہدا کے لئے مخصوص بجٹ میں اضافے کی ضرورت بھی محسوس کی جاتی ہے، کبھی کبھار یہ بھی ہوتا ہے کہ پہلے سے مخصوص فنڈ بھی وقت پر ریلیز نہیں ہوتے اور شہدا کے خاندان اس سلسلے میں گِلہ گزار  ہوتے ہیں اس وقت جو بھی انتظامات موجود ہیں اُن پر اس انداز میں نظرثانی کی ضرورت ہے کہ جہاں جہاں کوئی کمی یا کوتاہی موجود ہے اسے دور کر دیا جائے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق اگر ان میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تو وہ کم سے کم وقت میں ہو جانی چاہئے،بہتر طبی خدمات کے لئے پولیس کے لئے مخصوص ہسپتال بھی بنایا جا سکتا ہے۔حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، اُن کی پالیسیاں بھی وقت کے ساتھ ساتھ بدل جاتی ہیں،ایسی بدلتی پالیسیوں سے اگر شہدا کے خاندان یا ان کے بچے متاثر ہو رہے ہوں تو ان میں اصلاح کی ضرورت ہے، حکومت کی اپنی سیاسی ترجیحات جو بھی ہوں شہدا کے خاندانوں کی ویلفیئر ہر حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے، ایسے اقدامات ہی سے معلوم ہو گا کہ شہدا کی خدمات کا زبانی کلامی تذکرہ ہی نہیں ہو رہا، عملاً ان کے خاندانوں کا بھی بھرپور خیال رکھا جا رہا ہے اور شہیدوں کے ورثا کو کسی قسم کی شکایات کا موقع نہیں دیا جا رہا،جن شہدا نے خون کا نذرانہ پیش کیا اُن کے خاندانوں کی عزت و تکریم کا خیال بھی حکومت اور معاشرے کا فرض ہے۔

https://dailypakistan.com.pk/20-Sep-2020/1186449

مزید :

رائے -اداریہ -