”یوم استحصال کشمیر“ اور چند یادیں!

”یوم استحصال کشمیر“ اور چند یادیں!
”یوم استحصال کشمیر“ اور چند یادیں!

  

عیدالاضحی کی دو چھٹیوں کے بعد آج جب قلم اٹھایا تو ذہن میں یادوں کا بہت بڑا ہجوم ہے۔ آج (5اگست) ملک بھر میں مقبوضہ کشمیر میں محبوس90لاکھ مسلمانوں پر ہونے والے بھارتی مظالم کے خلاف ”یوم استحصال کشمیر“ منایا جا رہا ہے، اس حوالے سے مضمون نگار حضرات نے بہت کچھ لکھا اور اکثر لکھنے والوں نے یہ ذکر کیا کہ تنازعہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان چار جنگیں ہو چکیں۔پہلی1947ء میں اور آخری 1971ء میں ہوئی،اس کے بعد سے اب تک کنٹرول لائن پر بھارت کی دیدہ دلیری جاری ہے اور قریباً روزانہ اس طرف سے گولہ باری کی جاتی ہے اور اس پار کی شہری آبادی نشانہ بنتی اور شہریوں کا جانی و مالی نقصان ہوتا ہے۔ پاکستان ہر خلاف ورزی پر احتجاج بھی ریکارڈ کراتا ہے۔ مجھے تو اس حوالے سے جنگ ستمبر1965ء یاد آ رہی ہے کہ اس کی کوریج بطور رپورٹر کی تھی،جبکہ اس  جنگ کی 6-7ستمبر کی شب اور1947ء میں مجاہدین کی پیش قدمی یاد آئی ہے۔ مجاہدین نے ہی مقبوضہ کشمیر کا یہ حصہ جو آج آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کہلاتا ہے، دشمن دین و ایمان سے آزاد کرایا تھا۔6-7ستمبر کی شب کا احوال مجھے اس وقت3بلوچ کے کمانڈر جنرل تجمل ملک(مرحوم) (تب وہ کرنل کمانڈنٹ تھے) اور کرنل نفیس انصاری (مرحوم)۔

(تب  میجر سکینڈ ان کمانڈ تھے) نے تفصیل سے بتایا تھا۔ محترم انصاری کے مطابق بھارت کی فوج نے دریا توی کے علاقے میں پاک فوج کی کامیابی سے بوکھلا کر 5-6ستمبر کی شب واہگہ کی بین الاقوامی  سرحد عبور کر لی اور حملہ کر کے لاہور پر قبضہ کا خواب پورا کرنے کی کوشش کی۔ تب سائیفین کا علاقہ فرنٹیئر فورس، درمیانی حصہ 3بلوچ کی زیر کمان دفاع کا تھا اور بھارتی بڑھتے ہوئے حملہ کو روکا بھی گیا۔6ستمبر کی صبح فضا سے بھی تعاون ملا اور جلو موڑ سڑک والے پل کے پار بھارتی فوج کے ٹینک کو بھی ناکارہ بنایا گیا، اسی روز بٹالین کمانڈر تجمل ملک کی سربراہی میں یہ طے کیا گیا  کہ سڑک والا پل موجود رہا تو بھارتی فوج کے ٹینکوں کا دباؤ برداشت کرنا مشکل ہو گا کہ بی آر بی نہر تو ایک خندق نما قدرتی دفاعی دیوار کا کام دے رہی تھی، لیکن یہ پل راستہ ضرور تھا، چنانچہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ انجینئر اور بٹالین کے جوانوں نے میجر نفیس انصاری کی قیادت میں نہر میں جا کر پل کی برجیوں میں سوراخ کئے اور ڈائنامیٹ لگائے، جس کے بعد یہ پل اڑا دیا گیا اور بھارتی ٹینکوں کے لئے براہِ راست گذر گاہ بند ہو گئی۔ اس کے بعد17روزہ لڑائی آر پار ہوتی رہی، ہماری افواج نے بہادری کی داستان رقم کی اور یہاں لاہور کا دفاع کیا۔ دوسری طرف میجر عزیز بھٹی(شہید) والی بٹالین نے بھی روکا تھا،جبکہ7ستمبر سے ہماری لڑاکا فوج کو فضائیہ کا بھی بھرپور تعاون مل گیا تھا۔

پل اڑانے کی حکمت عملی اور عمل یوں یاد آیا کہ ہمارے والد صاحب کئی بار 1947ء والی مجاہدین کی جنگ کے قصے سناتے اور ہم اپنے حضرت مولانا ابو الحسنات سے بھی مستفید ہوتے تھے۔والد محترم کے مطابق جو خود اس جہاد میں شریک رہے،مجاہدین پُرجوش اور سرگرم تھے، بعض ہلکی پھلکی غیر تربیتی غلطیوں کے باوجود کامیابی ان کے قدم چوم رہی تھی، مجاہدین بھاری اسلحہ سے محروم ضرور تھے،لیکن اپنے اسلحہ سے لیس اور جذبہ ئ شہادت سے معمور تھے، ان کی پیش قدمی مسلسل جاری تھی، حتیٰ کہ ایک وہ دن بھی تھا جب مجاہدین نے ”کٹھوعہ“ کے زمینی پل کو ہدف بنایا اور اسے نشانے پر لے لیا۔ یہ شب فیصلہ کن ثابت ہوتی اگر یہ پل ٹوٹ جاتا تو بھارت کا زمینی راستہ وادیئ کشمیر سے منقطع ہو جاتا اور اس سے مجاہدین کو بہت ہی فائدہ ہوتا اور پھر سری نگر بھی ان کے قدموں میں ہوتا۔مجھے آج بھی یہ سب اپنے والد (مرحوم) اور علامہ ابو الحسنات کی بات چیت اور روایت ہی کی وجہ سے یاد ہے اور اس پر یقین بھی یوں ہے کہ 65ء ستمبر کی جنگ میں جلو موڑ کے زمینی پل کی اہمیت دفاع کرنے والوں سے معلوم ہوئی تھی،والد صاحب کہتے تھے اگر اس دوران فائر بندی نہ ہوتی تو آج کشمیر کے تنازع کی بھی یہ صورتِ حال نہ ہوتی اور کشمیر کی قریباً ساری وادی آزاد کشمیر ہی کا حصہ ہوتی۔

آج جب حکومت نے نیا پاکستانی نقشہ منظور کر کے جاری کیا تو مجھے بھی یہ سب یاد آ گیا کہ ہم سے کئی مواقع ضائع ہوئے۔ 1965ء میں دریا توی تک پاک فوج کی کامیاب رسائی اور پھر ستمبر65ء کی سترہ روزہ جنگ کے حوالے سے بحث ہوتی اور اسے متنازعہ بھی بنایا جاتاہے،لیکن یقین مانیئے میجر عزیز بھٹی(شہید نشانِ حیدر) سے 3بلوچ اور فرنٹیئر فورس کے نوجوان افسروں کے عظیم جذبہ جہاد نے بھارتی منصوبہ خاک میں ملا دیا کہ وہ لاہور کی فتح کے خواب دیکھ رہے تھے۔ سیز فائر کے بعد میری اس علاقہ میں آمدورفت مسلسل رہی، اِس لئے اس حصہ لڑائی کے ایک ایک روز سے واقف اور لکھ بھی چکا ہوں۔اگر یہ کہا جائے کہ صحا فتی پیشہ ورانہ زندگی میں یہ پہلا موقع تھا، جب مجھے سرگرمی سے سترہ روزہ جنگ، اس سے پہلے اور بعد کے حالات کی رپورٹنگ کا اعزاز حاصل ہوا۔ یوں ایک خاص تعلق بنا تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ تب والی(65ء) کی 3بلوچ بٹالین میرا عشق تھی اور ہے، اس بٹالین کے دُنیا سے رخصت ہونے والے میجر جنرل تجمل ملک، کرنل نفیس انصاری، کیپٹن اقبال چیمہ تو یاد آتے ہیں تاہم تب سٹاف افسر خالد انور(ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل) میجر نواز اور میجر شاہ بھی نہیں بھولتے۔

آج حالات بہت تبدیل ہو چکے، ہمارے محترم کرنل غلام جیلانی خان کی تحقیق اور اس کی روشنی میں تجزیہ کہ زمانہ بہت آگے بڑھ گیا۔ آج کا موازنہ 65ء ہی کے حالات سے کیا جائے تو آج اگر جنگ ہوتی ہے تو اس کے نقصان کا اندازہ اعداد و شمار سے نہیں لگایا جا سکتا۔ تاہم مودی سرکار نے جو اقدامات کئے اور جن کے جواب میں گذشتہ روز(5اگست) احتجاج ہوا یہ کشیدگی موجود اور اس کے بڑھنے کے امکان ہیں۔ بہرحال ہم مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے۔ اللہ ہی سے فتح و نصرت کی استدعا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -