سو میں ایک؟

 سو میں ایک؟
 سو میں ایک؟

  

ایک صوفی کو سیر و سیاحت کا بہت شوق تھا۔وہ اپنے گدھے پر سوار ہر کر مختلف خانقاہوں میں جاتا اور دوسرے صوفیاء کرام کے سا تھ مل کر ذکر اذکا ر میں مشغول ہو جاتا تھا۔ایک دفعہ وہ ایک خانقاہ میں گیا اور باہر اصطبل میں اپنا گدھا باندھ دیا۔اندر جاکر وہ باقی صوفیا سے ملا اور ذکر میں مشغول ہو گیا۔کچھ دیر  بعد اُس کے لیے کھانا لایا گیا تب اُسے اپنا گدھا یاد آگیا۔اُس نے خادم سے کہا کہ میرا گدھا باہر اصطبل میں بندھا ہو ا ہے اُس کے لیے بھی دانے اور گھاس کا بندوبست کر دو۔خادم نے کہا کہ لاحول ولاقوۃ،اس بار ے میں آپ کیوں فکر کرتے ہیں یہ تو میر ا بہت پُرانا کا م ہے۔کچھ دیر کے بعد صوفی نے پھر کہا کہ گھاس کو ضرور تَر کر لینا کیونکہ گدھے کے دانت کمزور ہیں۔

صوفی نے جب دیکھا کہ خادم باہر نہیں جارہا تواُس نے خادم کو پھر کہا کہ ہاں جا کر گدھے کی پیٹھ سے پالان اُتار کر رکھ دو اور زخمی پیٹھ پر مر ہم بھی لگادو۔خادم نے کہا  لاحول ولاقوۃ،ان حکمتوں کو چھوڑئیے اس خانقاہ میں ہزاروں لو گ آتے ہیں اور سب خوش جاتے ہیں۔صوفی نے پھر کچھ دیر بعد کہا کہ اصطبل کے فر ش کو صاف کر دینا اور اگرفر ش تَرہو تو اُس پر مٹی ڈال کر اُس کو خشک کر دینا،خادم نے کہا  لاحول ولاقوۃ، آپ باربار کیوں تکلیف کر رہے ہیں اور مجھے ان سب باتو ں سے شرم آتی ہے۔میں سب انتظامات ٹھیک کر دوں گا اور یہ سب کہہ کر خادم اپنے آوارہ اور اوباش دوستوں کے پا س چلاگیا۔اس طرح سا ری رات بوڑھاگدھا،بھوکااصطبل میں بندھا رہا۔ گدھا پہلے ہی بہت کمزور تھا اور رات بھر کی سردی اور بھوک سے اُس کی حالت اور زیادہ خراب ہو گئی۔

جب صبح ہو ئی تو خادم آیا اور اصطبل سے گدھا لاکر صوفی کے حوالے کر دیا۔صوفی جب گدھے پر سوار ہو ا تو گدھے نے چلنے کی بجائے منہ کے بل گرناشروع کردیا۔جیسے جیسے صوفی زور لگاتا اُس کو چلانے کے لیے اُتنا ہی گدھا گرتے گرتے سنبھلتاتھا۔ اس طرح خانقاہ کے باہر لو گو ں کا ہجوم لگ گیا اور لو گ بھی باربار گدھے کی آنکھوں کو دیکھتے کہ اس کو ہو ا کیا ہے۔اُ س کی آنکھیں کیوں لال ہیں یا پھر لو گ باربار گدھے کی ٹانگ اُٹھا کر دیکھتے کہ کہیں گدھے کے پاؤں کے نیچے پتھر نہ اٹکاہو۔آخر کا رجب کو ئی مسئلہ سمجھ نہ آیا تو لو گوں نے صوفی سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے،گدھا کیوں نہیں چل رہا۔صوفی نے جو اب میں کہا کہ جس گدھے نے رات بھر سوائے لاحول ولاقوۃ کے کچھ نہ کھایا ہو، اُس کا چلنا اس طرح کا ہی ہوگا۔یہ واقعہ میں نے مولانا رومؒ کی کتا ب مثنوی سے لیا ہے جو  اپنے اندر بہت سارے سبق پوشیدہ رکھتا ہے۔آپ ؒفرماتے ہیں " کہ بہت سے لوگ آدمی خور ہو تے ہیں اور ا ن کی سلامٌ ٌعلیک پر کبھی اعتبار نہ کرو۔اے انسان، جب اور کسی کو تیراغم نہیں تو ضروری ہے کہ اپناکام تو خودکرے۔

" ہماری روز مرہ کی زندگی میں بھی خادم کی طرح کے بے شمار لو گ ہمیں ملتے ہیں، جو  ہماری محبت اور مدد کا ہمہ وقت دعویٰ کرتے ہیں مگر جب ساتھ نبھانے کاوقت آتا ہے تو خادم کی طرح اپنے اوباش دوستوں میں گم ہو جاتے ہیں۔"بخاری ومسلم" کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول حضر ت محمدﷺ نے فرمایا "کہ لوگو ں کی مثال بھی اونٹوں کی سی ہے کہ سو(100) ہو ں تو اُن میں سے کو ئی ایک آدھ ہی سواری کے قابل نکلتا ہے"۔اسی لیے کہا جا تا ہے کہ بیوی کی وفاداری اور ساتھ کا پتا غربت میں اور دوست کی وفا،یارانے کا پتہ مصیبت میں چلتا ہے۔سو(100)آدمیوں میں سے ایک ہی آدمی کا م کا نکلتا ہے،ورنہ محبت اور پیار کا خالی دعویٰ تو ہر کو ئی کر تا ہے۔ایسے بہت سے آپ کے دوست، رشتے دار یا کو لیگز ہو تے ہیں، یہ سب ٹال مٹول Procrastination  کے ما ہر ہو تے ہیں۔آپ کو کہیں گے اوربڑے ہی اعتماد کے سا تھ کہ میں دیکھ رہا ہوں، میں کر رہاہوں، آج کل میں ہی آپ کا کام ہو جا ئے گا،کا فی دنو ں سے میں جائزہ لے رہاہو ں، ہر مشکل میں میں تمھارے سا تھ کھڑا رہوں گا وغیرہ۔

جو مصیبت میں چھو ڑ جاتے ہیں 

ایسے لو گو ں سے بے رُخی کر لو

پو ری دنیا  میں اب ایک نیا Concept چل رہا ہے "Team Building" کا اور اس میں لیڈر یا کوئی بھی ادارہ کسی بھی شخص کو اپنی ٹیم میں شامل کر نے سے پہلے اُس شخص کو پو ری طر ح سے جانچتا ہے کہ آیا اُس شخص میں ٹال مٹول کی عا دت تو نہیں۔دنیا میں آج تک جتنے بھی کامیا ب لو گ گزرے ہیں اُن میں سب سے بڑی خوبی اپنے کاموں کی ذمہ داری خود  لینا تھی۔

وہ لوگ اپنی ذمہ داری Responsiblity کو خود محسوس کر تے تھے اور اپنے کاموں کو ٹال مٹو ل کے لیے دوسروں پر نہیں چھوڑتے تھے۔امام ابو نعیم کی روایت ہے کہ آقا ﷺ نے فرمایا ہے "کہ جو آدمی اپنا بو جھ آپ اُٹھا لیتا ہے وہ تکبر سے بری ہے"۔کسی نے امر یکہ کے مشہور ٹر ینر انتھونی رابنز Anthony Robbinsسے پو چھا کہ ہیرو کی تعریف کیا ہے یعنی ہیرو کس کو کہتے ہیں توانتھونی رابنزنے بڑاخوبصوت جواب دیا"  کہ ہیرو وہ ہو تا ہے جو اپنی ذمہ داری کو خود سے قبول کر تا ہے"۔

اگر آپ دنیا کے تما م ہیرو جن کو دنیا آج بھی یاد کرتی اور اُن کی مثالیں دیتی ہے، کا مطالعہ کر یں تو آپ کو پتا چلے گا کہ اُن میں دو خوبیا ں بہت واضح اور عیاں نظر آتی ہیں۔ایک اپنے کاموں کی خودذمہ داری لینا اور دوسرا اپنے کامو ں کے بارے میں ٹال مٹول نہ کرنا۔یہ دو خویباں ایسی ہیں جو کسی بھی انسان کو کامیاب ہو نے میں سب سے زیادہ مدد دیتی ہیں۔مولا علی کرم اللہ وجہہ نے کیا خوب فرمایا تھا" کہ اعمال کے سلسلے میں جلدی کرو زندگی اِنقلاب پذیر ہے، مر ض اُسے بے کا ر کر دینے والے ہیں یا موت اُچک لینے والی ہے"۔اگر ہمیں زندگی میں کچھ بڑا مقصد حاصل کر نا اور اُس کو پا ئے تکمیل تک پہچانا ہے تو ہمیں اُس کی ذمہ داری کو قبول کر نا ہو گا اور ٹال مٹول سے خود کو نجات دینی ہو گی۔    

مزید :

رائے -کالم -