کشمیر پر نئی حکمت ِعملی کی ضرورت

کشمیر پر نئی حکمت ِعملی کی ضرورت
کشمیر پر نئی حکمت ِعملی کی ضرورت

  

بھارت نے ایک سال قبل جو کالا قانون پاس کیا اس کے بعد سے اب تک کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن برقرار ہونا نا صرف افسوسناک ہے بلکہ قابل مذمت بھی ہے۔ 

ہندوستان کو مسلہ کشمیر پر عالمی سطح پر جس قسم کی مذمت کا سامنا ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا۔ حالانکہ بھارتی آئین میں کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے پر ہندوستان اور دنیا بھر میں اس پر احتجاج ریکارڈ کروایا گیا مگر حسب معمول انڈیا کے سر میں جوں تک نہیں رینگی۔ کشمیر میں اس وقت تک مواصلات کے تمام ذرائع بند ہیں اور ہندو آباد کاری زورو شور سے جاری ہے۔ مسلمانوں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھر پور کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کا کردار بھی صرف مذ متی قرار دادوں اور پا نچ فروری اوراب پانچ اگست کو ملک گیر احتجاج سے بڑھ کر اور کچھ نہیں پاکستانی حکومت کی طرف سے کوئی عملی اقدامات ابھی تک نہیں  کیے گئے کہ جن کی اْمید موجودہ حکومت سے کی جارہی تھی بہرحال دوسری طرف حکومت کا حال ہی میں نیا سیاسی نقشہ دنیا کے سامنے لانا اس مقصد کی طرف پہلا قدم ہے ضرور ہے مگر اس پر ابھی بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اس مسئلے کے حل کے لیے نیا لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا۔ اب روائتی طریقوں سے ہٹ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کو دنیا بھر میں دوست ممالک کی لابنگ کو مضبوط کرنا ہو گا اس موضوع پر عالمی ضمیر کو جنجھوڑ کر جگانا ہو گا، مسئلہ کشمیر کے حل کیلیے مستقل بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔ دنیا بھر کے میڈیا کو اس مسئلہ پر مسلسل آگاہی فراہم کرنی ہو گی، پاکستان نے ترکی اور ملائیشیا کے ساتھ مل کر جو انٹرنیشنل ٹی وی لانے کی بات کی تھی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ہو گا، دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کے محققین کو اس پر ریسرچ پیپر لکھنے کی دعوت دینا ہو گی، ہر یونیورسٹی کو شعبہ تاریخ  میں کشمیر کی داغ بیل ڈالنے کی ترغیب دلانا ہو گی۔ بھارت کو آئینہ دکھا کر اس کا مکرو چہرہ دنیا کے سامنے واضع کرنا ہو گا۔ بھارتی مصنوعات کا بائی کاٹ مستقل بنیاد پر کرنا ہوگا،بھارت کی کراچی، بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دھشت گرد کاروائیوں کا بھانڈا پھوڑنا ہو گا۔اس کے علاوہ اور بہت سے کام ہیں جن کو تسلسل اور عمل کا رنگ دینا ہو گا۔اب وقت گزر چکا ہے کہ اس مسئلے پر پاکستان کو اپنی ستر سالہ پالیسی پر نظر ثانی کر نا ہو گی اس مسئلے کے حل کے لیے نششتند،ً گفتندً اور برخاستند کی پالیسی کو ترک کرنا ہو گا۔  

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان قراردادوں اور احتجاجوں کا کوئی اثر کیوں نہیں ہوتا۔ اقوام عالم کی طرف سے اس قدربے حسی کیوں ہے،حالانکہ کشمیریوں کے ایک سال کے لاک ڈاؤن نے پوری دنیا کو لاک ڈاؤن میں ڈال دیا ہے مگر بے حسی اْسی طرح برقرار ہے۔ میرے نزدیک اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری اپنی خارجہ پالیسی کی ناکامی معلوم ہوتی ہے۔ہمیں اس بات کا احساس ہو نا چاہیے کہ آزادی خدا کی دی ہوئی وہ نعمت ہے کہ جس کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ عظیم نعمت جانیں قربان کیے اور لہو کا نذرانہ دئیے بغیر نہ تو ملتی ہے اور نہ ہی خر یدی جا سکتی ہے اس لیے ہمیں اپنی آزادی کی نعمت کو کشمیری مسلمانوں کی آزادی کی کاوش میں لگانے کی ضرورت ہے۔ 

کشمیری جو اپنے پاکیزہ لہو کا خراج پیش کر رہے ہیں وہ یقینناً ایک دن ضرور رنگ لائے گا۔ کب تلک ان مظلوم کشمیریوں کو ان کا حق نہیں ملے گا‘ آخر کب تک ان کی صدا کو اقوام عالم کے مردہ ضمیروں کے سامنے دبنا ہو گا آخر کب یہ نام نہاد مسلمان حکمران کشمیریوں کا عملی طور پر ساتھ دینگے‘ آخر کب تک ان کے مقدر میں یہ ظلم و جبر کی تاریک راتیں رہیں گی‘ آخر کب ترکی کی طرح پاکستان بھی حوصلہ کرے گا اپنی فوج کو ان مظلوموں کی مدد کیلئے بھیجے گا۔کیا ان کشمیریوں نے اس وقت کیلئے ہمارا ساتھ دیا تھا کہ ان مظلوم کشمیریوں کا خون بہے‘ اور ان کی بیٹیوں کی عصمتیں تار تار ہوتی رہیں‘ اور ہم خاموش تماشائی بنے رہیں۔اس بے غیرتی کی زندگی سے تو موت لاکھ درجے بہتر ہے کہ جو اپنا حق اس غاصب اور مکار دشمن سے نہ لے سکے جس کے ظلم و بربریت کا شکار لاکھوں کشمیری مسلمان گاجر مولی کی طرح شہید کئے جارہے ہیں۔ جس دن سے کرفیو لگا ہے اس دن سے ایک رات بھی حرام ہے کہ کسی درد دل رکھنے والے انسان کو سکون کی نیند آئی ہو‘ نجانے یہ دنیا کے حکمران کیسے آرام کی نیند سو جاتے ہیں‘ کیسے ان کو ان مظلوموں کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں۔ حکمران تو ایک طرف کچھ سیاسی حلقوں کی حرکات و سکنات پر نظر دوڑائیے تو لگتا ہے کہ ان جیسے بے ضمیر لوگ تو شاید دنیا میں پیدا ہی نہیں ہوئے‘ ان ضمیر فروشوں نے اصل میں کشمیر کی آزادی کی تحریک کو گزشتہ سال اس قدر اہم موڑ پر دفن کرنے کی کوشش کی کہ جب حکمران کسی حد تک عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے میں کامیاب ہورہے تھے اْس وقت کا آزادی مارچ اْس وقت آڑے نہ آیا ہوتا تو تحریک آزادی کشمیر کوئی اور شکل اختیار کر چکی ہوتی اس وقت اس تحریک کی کمر میں خنجر گھونپا گیا اور آزادی مارچ جو بے وقت کی راگنی سے بڑھ کر کچھ نہیں‘ تھا۔اس طرح کے معاملات کو سختی سے نمٹنا چاہیے تاکہ قومی کاز کو کبھی نقصان نہ پہنچے۔ 

بہر حال اس مسئلہ کو حل کروانے کے لیے جہد مسلسل کی ضرورت ہے حالات خواہ کیسے بھی ہوں حکومت کو اپنے سارے وسائل بروِکار لا کراس مسئلے کو دنیا کے سامنے نئی جہد کے ساتھ اجاگر کرنا ہو گا۔ بانی پاکستان نے فرما دیا تھا کہ اس مسئلے  کے حل کے بغیر ہماری بقاء ممکن نہیں یہ ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے آسان لفظوں میں ہماری شہ رگ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -