کورونا اور لاک ڈاؤن کے باعث مزارات کی آمدن میں کمی

کورونا اور لاک ڈاؤن کے باعث مزارات کی آمدن میں کمی

  

لاہور(فلم رپورٹر)کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے پنجاب کے 8بڑے مزارات کی آمدنی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کئی فیصدکمی ہوئی ہے۔باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ برس مزار پیر مکیؒ 19لاکھ، میاں میرؒ 3، مادھولعل ؒ3، بی بی پاکدامنؓ 20، دربار بہاؤ الدین زکریاؒکی آمدن 10 لاکھ کے قریب بڑھی تھی۔محکمہ اوقاف کے ذرائع کے مطابق کرونا وائرس کے آنے سے قبل بھی درباروں کی آمدنی میں 17فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جبکہ کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے مزاروں کی آمدنی میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ مزاروں پر حاضری دینے والے زائرین کی تعداد 50فیصد سے بھی کم ہوگئی ہے۔محکمہ اوقاف نے مزارات کی آمدنی کو چیک کرنے کے لئے گزشتہ ماہ سے آن لائن مانیٹرنگ کا آغاز بھی کردیا ہے۔ذرائع سے حاصل کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق حضرت علی بن عثمان الہجویریؒ المعروف داتادربار کے مزارکی اضافے کے ساتھ 23کروڑ سے زائد ریکارڈ آمدنی ہوئی تھی۔کیلنڈر سال 2018 اور 2019 کے جنوری سے نومبر تک کی امدنی کا موازنہ کیا گیا جس کے دوران معلوم ہوا کہ سال 2018کے مقابلے میں گزشتہ سال حضرت علی بن عثمان الہجویریؒ المعروف داتا دربار میں ایک کروڑ روپے، حضرت پیر مکیؒ کے مزار سے 19لاکھ، دربار حضرت میاں میرؒ سے 4لاکھ، دربار حضرت مادھو لعل حسینؒ سے 2لاکھ روپے، دربار حضرت بی بی پاکدامنؓ سے 20لاکھ روپے، دربار حضرت غوث بہاو الدین زکریاؒسے 10لاکھ روپے، دربار حضرت شاہ شمس 8لاکھ روپے اور دربار حضرت شاہ رکن عالم ؒسے 11لاکھ روپے کی اضافی امدنی ہوئی تھی۔ان اعداد و شمار میں کمی یا زیادتی ممکن ہے یاد رہے کہ محکمہ اوقاف کے اعلی حکام نے فیصلہ کیا تھا کہ محکمہ اوقاف کے زیر انتظام چلنے والے مزارات کے کیش بکس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا جس کے متعلق ہفتہ وار اور ماہانہ رپورٹ تیار کی جائے گی اور کم آمدن حاصل کرنے والے مزارات کے ایڈمنسٹریٹرز اور منیجرز سے بازپرس ہوا کرے گی اس حوالے سے ترجمان محکمہ اوقاف کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -