بلوچستان، صاف پانی کی فراہمی کیلئے 13.5ارب روپے مختص

    بلوچستان، صاف پانی کی فراہمی کیلئے 13.5ارب روپے مختص

  

 اسلام آباد (اے پی پی) بلوچستان حکومت نے صوبے کے عوام کو پینے کا صاف پانی  فراہم کرنے کے لئے 513 نئے  منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے 13.5 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ بدھ کو بلوچستان حکومت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ منصوبے رواں مالی سال کے دوران مکمل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا ان منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ جس میں کوئٹہ کو ڈیم سے پانی کی فراہمی کے منصوبے، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا قیام اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے کچھ منصوبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ ہی صوبے میں پانی کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔بلوچستان حکومت صوبے کے مختلف شہروں میں کینال واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کے لئے کام کر رہی ہے تاکہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نہر کے پانی کو صاف کرنے کے لئے ضلع سبی، جعفرآباد، نصیر آباد، اوستہ محمد اور صحبت پور کی آٹھ واٹر سپلائی سکیموں پر کینال واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سبکازئی ڈیم سے ژوب شہر کو پانی کی فراہمی کا کام جاری ہے اور کوئٹہ شہر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منگی ڈیم منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ برج عزیز خان اور بابر کچ ڈیموں کا فزیبلٹی اسٹڈی جاری ہے جو کوئٹہ شہر اور آس پاس کے علاقوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کرے گا۔ عہدیدار نے بتایا کہ گوادر، پسنی اور آس پاس کے علاقوں میں شادی کور، اکرہ کور ڈیموں کے ذریعے پائپ لائنوں کے ذریعے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی جارہی ہے جو پہلے ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے صوبے کے ہر ضلع میں واٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے ہیں۔ بلوچستان حکومت نے گوادر میں تیزی سے ترقی پذیر بندرگاہی شہر کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے متعدد اسکیمیں بھی شروع کی ہیں۔

پانی کی فراہمی کے منصوبوں کا پہلا مرحلہ کل تین مراحل میں سے مکمل ہوچکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوادر شہر کو پانی کی فراہمی کے لئے بے  پلانٹوں کے قیام پر کام آخری مراحل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پلانٹ اگلے دو سے تین ماہ میں سمندری پانی کو صاف کرنے کے لئے کام کریں گے۔ ڈیسیینیشن پلانٹ کے قیام سے گوادر شہر کو روزانہ کی بنیاد پر پندرہ لاکھ گیلن پینے کا صاف پانی ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے کیونکہ سابقہ حکومت نے اس اہم مسئلے پر کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے مسئلے کو حل کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہدف کے حصول اور صوبے کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

مزید :

کامرس -