بابری مسجد کی جگہ رام مند کی تعمیر کا اقدام سیکو لر بھارت پر بد نما داغ بنا رہیگا: پاکستان 

        بابری مسجد کی جگہ رام مند کی تعمیر کا اقدام سیکو لر بھارت پر بد نما داغ ...

  

  اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان نے ایل او سی پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور گورو اہلووالیہ کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا،جبکہ تار یخی بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا مسجد کے مقام پر مند ر کی تعمیر نام نہاد بھارتی جمہوریت کے منہ پر ہمیشہ بدنما داغ رہیگا،1992 ء میں بی جے پی کی طرف سے مسجد شہید کرنے کے تکلیف دہ مناظر آج بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں،بھارت مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کی حفاظت یقینی بنائے، دوسری طرف پاکستان نے اپنے سیاسی نقشے کے بارے میں بھارتی وزارت امورخارجہ کا بیان یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا بھارت مکاری اور حقائق مسخ کرکے غیرقانونی طورپر مقبوضہ جموں وکشمیر میں 5 اگست 2019 سمیت اپنے غیرقانونی اور ناقابل قبول اقدامات کسی صورت چھپا نہیں سکتا۔ بد ھ کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی ناظم الامور کی طلبی ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیاء زاہد حفیظ چوہدری نے کی، اس موقع پر بھارتی ناظم الامور کو احتجاجی مراسلہ بھی تھمایا گیا جبکہ ا یل او سی پر سیز فائر خلاف ورزی پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ ترجمان کے مطابق بھارتی فورسز لائن آف کنٹر و ل، ورکنگ باؤنڈری پر مسلسل نہتی شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں، رواں برس بھارت 1877 بار جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کرچکا،جن میں 15 معصوم شہری شہید اور 144 زخمی ہوئے ہیں، بھارت کا معصوم شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا قا بل مذمت اور اشتعال انگیزی خطے میں امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہے، بھارت ان حرکتوں سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا۔ نئی دہلی اقوام متحدہ سلا متی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے، بھارت 2003ء کے فائر بندی انتظام کی پاسداری کرے، ترجمان کے مطابق نہتے شہر یوں کو نشانہ بنانا عالمی قوانین و اقدار کے منافی ہے، بھا ر ت اقوام متحدہ فوجی مبصر مشن کو ایل او سی پر کام بھی کرنے دے۔ترجمان نے کہا پاکستا ن بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کی شدید مذمت کرتا ہے۔بابری مسجد پانچ صد یو ں تک موجود رہی،بھارتی سپریم کورٹ کے غلط فیصلے کی رو سے مندر کی تعمیر بھارت میں اکثریت کی طرفداری کرتی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور ا ن پر حملے کئے جاتے ہیں۔ او آئی سی کی طرف سے صدیوں پرانی مسجد کو شہید کرنے کیخلاف متعدد قراردادیں منظور کی گئی ہیں۔ بی جے پی بھارت کو ہندتوا راشٹرا بنانے پر گامزن ہے۔5اگست کے دن ایودھیا میں ہونیوالا واقعہ اسی کا عکاس ہے۔ رواں سال بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا،سٹیزن ایکٹ سی اے اے اور این آر سی جیسے قوانین لائے گئے۔ بی جے پی مقبوضہ کشمیر میں بھی آبادیاتی تبدیلی کی گھناؤنی کوششوں میں ہے۔ یہ سب بھارت میں بڑھتی انتہاپسندی کی علامت اور علاقائی امن کیلئے خطرہ ہیں۔ ترجمان نے کہا ایک ایسے ملک کی طرف سے اس نوع کے الزا مات دوسروں پر تھونپنا نہایت مضحکہ خیز ہے جو توسیع پسندی کی اپنی سرشت سے مجبور اور کھلم کھلا ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کرتا ہے۔ بھارت 1947 ء سے جموں وکشمیر کے حصو ں پر غیرقانونی طورپر قابض اور دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے، پاکستان کا موقف واضح اور غیرمبہم ہے۔ تنازعہ جموں و کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے کشمیریوں کو ان کا ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت دینے میں ہے۔ پاکستان کی حکومت، قیادت اور عوام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں وخواہشات کے مطابق تنازعہ جموں وکشمیر کے حل کے پختہ عزم پر کاربند ہیں۔ پاکستان کی طرف سے جاری کردہ سیاسی نقشہ اس دائمی عہد کا پختہ اعادہ ہے۔

پاکستان

مزید :

صفحہ اول -