محکمہ پولیس، ریونیو اور سی اینڈ ڈبلیو میں تعینات کرپٹ ملازمین کی جبری ریٹائرمنٹ کا فیصلہ

  محکمہ پولیس، ریونیو اور سی اینڈ ڈبلیو میں تعینات کرپٹ ملازمین کی جبری ...

  

 لاہور(لیاقت کھرل)وزیر اعظم عمران خان کو محکمہ پولیس اوردیگرمحکموں کیخلاف بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں اوربے قاعدگیوں کی رپورٹ پیش کی گئی ہے۔کرپشن میں ملوث ملازمین کے خلاف کارروائی کیلئے متعلقہ اداروں کوٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔اس میں ملازمین کی جبری ریٹائرمنٹ اور ان کیخلاف مقدمات بھی درج کئے جائیں گے۔ مانیٹرنگ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال 2019-20کے دوران محکمہ پولیس سمیت سرکاری اداروں میں اصلاحات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ محکمہ پولیس سمیت سرکاری اداروں میں مالی بے ضابطگیوں اوربے قاعدگیوں میں 200فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔ محکمہ پولیس میں اصلاحات کے لئے اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود محکمہ پولیس میں مبینہ کرپشن سمیت دیگر شکایات میں 200فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ محکمہ ریونیو اورکمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ میں بھی مالی بے ضابطگیوں اوربے قاعدگیوں سمیت کرپشن کے حجم میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اسی طرح محکمہ ایکسائز،تعلیم اورضلعی حکومتوں سمیت دیگرصوبائی وفاقی اداروں میں اختیارات کے غلط استعمال سمیت مبینہ کرپشن کی شکایات کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ مانیٹرنگ کمیٹی کی پیش کردہ رپورٹ پر کرپشن میں ملوث افسران اورملازمین کے خلاف گھیراتنگ کرنے کا حکم دے دیا گیاہے۔محکمہ پولیس پنجاب کے ترجمان نے روزنامہ پاکستان کو بتایاکہ محکمہ پولیس میں نئے سرے سے اصلاحات کا نفاذ کیا جارہا ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک نے بتایا کہ تمام محکموں میں نئے سرے سے اصلاحاتی پیکیج کا نفاذ عمل میں لایا جا رہا ہے۔اس تناظر میں سرکاری افسران اور ملازمین کو ہر قسم کے کاروبار اور ٹریڈنگ سمیت پرائیویٹ بزنس سے روک دیا گیا ہے۔

جبری ریٹائرمنٹ 

مزید :

صفحہ آخر -