بھارتی مظالم، خصوصی حیثیت ختم کرنے کیخلاف قرار داد متفقہ طور پر منظور

        بھارتی مظالم، خصوصی حیثیت ختم کرنے کیخلاف قرار داد متفقہ طور پر منظور

  

 اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور اس کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی اور کشمیری عوام کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائیگا،دفاعی کمیٹی نے میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی ترمیمی بل 2020 متفقہ طور پر منظور کرلیا جبکہ سیکرٹری داخلہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کیخلاف تحریک استحقاق لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے دفاعی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین امجد علی خان کی زیر صدارت ہوا جس میں گزشتہ اجلاس کے منٹس کی منظوری دی گئی سندھ اور بلوچستان کے کنٹونمنٹس کے علاقو ں میں  جنرل سیلز ٹیکس سے متعلق معاملات بھی اجلاس میں زیر غور آئے تاہم اس معاملے پر مزید پیش رفت کیلئے سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں سے جواب مانگا گیا سائبر کرائم سے متعلق پی ٹی اے، ایف آئی اے اور متعلقہ اداروں سے بریفنگ مانگی گئی تھی کہ صوبوں اور وفاق میں سائبر کرائم سے نمٹنے کے لئے کیا اقدامات اٹھائے گئے تھے اس حوالے سے وفاقی سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کو طلب کیا گیا تھا لیکن وہ اجلاس میں شریک نہ ہوئے جس پر کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کیا اراکین کی مشاورت کے بعد سیکرٹری داخلہ کے خلاف تحریک استحقاق لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور یہ معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھی بھجوا دیا گیا ہے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کرنے اور بھارتی مظالم کے خلاف یوم استحصال کی مناسبت سے قرار دادمذمت بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی جس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم و ستم کی نہ صرف مذمت کی گئی بلکہ عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا عملی کردار ادا کرے  پاکستان کے نقشے میں مقبوضہ کشمیر کو شامل کرنے کے حکومت پاکستان کے اقدام کی مکمل حمایت کی گئی اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ کشمیری عوام کی اخلاقی،سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھی جائے گی اور دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا جائیگا۔  

دفاعی کمیٹی اجلاس

مزید :

صفحہ آخر -