کشمیر ایشو کو انٹرنیشنل کورٹ آفس جسٹس میں حل کرایاجائے، وکلاء

کشمیر ایشو کو انٹرنیشنل کورٹ آفس جسٹس میں حل کرایاجائے، وکلاء

  

 ملتان (خصو صی ر پو رٹر)ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان میں وکلا کی جانب سے کشمیریوں کے  استحصال کے خلاف سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سینمار میں ہائیکورٹ بار کے عہدیداران، سینئر وکلاء سمیت نوجوان وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر صدر ہائیکورٹ بار(بقیہ نمبر42صفحہ6پر)

 چوہدری طاہر محمود، جنرل سیکرٹری سجاد حیدر سپرا، سابق صدر ہائیکورٹ بار حبیب اللّٰہ شاکر و دیگر کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کشمیر میں ظلم اور بربریت ہو رہی ہے ہم اپنے افکار اپنے خیالات  اپنے ایمان کے مطابق ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ پوری دنیا میں اسلامی امہ پر مظالم ہو رہے ہیں انہوں نے کہا اسوقت امت مسلمہ کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ اگر حق مانگنے سے نہ ملے تو اسے چھیننا پڑتا ہے۔سمینار سے خطاب کرتے ہوئے وکلاء نے کہا کہ مودی سرکار نے اضافی افواج کے ذریعے کشمیریوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے افواج کی چڑھائی کرنے سے کشمیریوں کے حق ارادیت کو نہیں دبایا جا سکتا ہے۔ وکلاء کا کہنا تھا کہ کشمیر کو پہلی بار پاکستان کا حصہ دیکھایا پاکستان کا نقشہ تبدیل کرنا ایک احسن اقدام ہے۔ بار سے پوری دنیا کو پیغام دیتے ہیں کہ کشمیر ہمارا ہے اور ہم اسے لیکر رہیں گے اس موقع پر سیمینار میں  سابق صدر ڈسٹرکٹ بار اللہ دتہ کاشف، ممبر پنجاب بار داؤد احمد وینس،  سینیر وکلاء میں میاں عباس، ایڈووکیٹ رانا لیاقت، راؤ اقبال، رانا اشرف،  ایڈووکیٹ ندیم احمد کانجو، سجاد ٹانگرہ سمیت وکلاء کی کثیر تعداد نے بھی خطاب کیا۔اجلاس کے بعد وکلا نے ہائیکورٹ بار سے احتجاجی ریلی بھی نکالی۔اس مو قع پرحریت رہنما مشال ملک نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ 5 اگست کشمیر کی حق خودارادیت کا برترین دن ہے۔ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے لگا کر دوبارہ کشمیر پر قبضہ کیا۔ پہلے انڈین آرمی کا اب بھارتی عوام کا قبضہ ہے۔ اس دور کی جنگیں ہتھیاروں سے نہیں قانون سے لڑی جاتی ہیں۔ بھارت نے صدارتی آرڈیننس نافذ کرکے کشمیروں کو اپنی ہی زمین پر ریفیوجی بنا دیا ہے۔ بھارت نے کشمیری تحریک کو بہت نقصان پہنچایا۔ پہلے توپوں اور گولیوں سے 70 سالہ کشمیرں جدوجہد کو دبایا گیا۔ ایکٹ کے بعد کشمیریوں کی ملکیت اور شناخت کا حق بھی بھارتی شہریوں کو دیا جارہا ہے۔ کورونا کے دنوں میں پانچ لاکھ بھارتی شہریوں کو ڈومیسائل سمیت رہائشی  سرٹیفکیٹ جارہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی شہریوں کے لیے دو لاکھ گھروں کی تعمیر کی گئی۔ 8 لاکھ بھارتی فوج اور 6 لاکھ مزدوروں کو بھی سرٹیفکیٹ دیے جارہے ہیں۔ یہ بہت بڑا دھوکا ہے۔ جو کہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کیا جارہا ہے۔  ہزاروں ایکڑ متنازعہ اراضی بھی فروخت کی جارہی ہے۔ سیاحتی مقامات بھی بھارتیوں بھی فروخت کیا جارہا ہے۔  وکلاء  سے اپیل ہے کہ لائرز کمیشن بنا کر ملک بھر کے ہائیکورٹ بار قانونی طریقہ کار طے کریں۔اس معاملے کو سیکورٹی کونسل اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے جاکر حل کرایا جائے۔ جس تیزی کے ساتھ کشمیر میں بھارتی آرہے ہیں انہیں ڈر ہے کہ کشمیر کو منی انڈیا نہ بنا دیا جائے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے تحریک پاکستان بلائی تھی اسی طرح اب وکلاء بھی تحریک چلائیں اور کشمیر میں ہونے والے مظالم بارے دنیا کو آگاہ کریں۔ ویڈیو بیان کے آغاز پر انہوں نے بار صدر، سیکرٹری  اور سینئر وکلاء  کا شکریہ اور جلد ملتان آکر اولیاء  اللّٰہ کے درباروں پر حاضری دینے کا بھی اعادہ کیا۔

وکلاء

مزید :

ملتان صفحہ آخر -