افسروں کی مال کماؤ مہم، ٹھل حمزہ،سرکاری گندم میں بڑے پیمانے پر ریت، بھوسہ ملانے کا انکشا ف

  افسروں کی مال کماؤ مہم، ٹھل حمزہ،سرکاری گندم میں بڑے پیمانے پر ریت، بھوسہ ...

  

  رحیم یارخان(بیورو رپورٹ) نواحی علاقہ ٹھل حمزہ میں محکمہ فوڈ کے  اہلکاروں نے گندم میں ریت اور بھو سہ مکس کر کے گورنمنٹ کو کروڑوں روپے نقصان پہنچادیا۔ خریداری مرکز گندم ٹھل حمزہ کے انچارج رئیس وزیراحمد AFCاور انسپکٹر محمدافضل نے کسانوں سے گندم خرید کر گورنمنٹ کا کوٹہ پورا کرنے کے لئے اس میں ریت بھوسہ مکس کرکے نا صرف کوٹہ پورا کیا بلکہ گورنمنٹ کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوگیا۔  بھوسہ ملی(بقیہ نمبر12صفحہ6پر)

 گندم خرید ی گئی ہر بوری میں تقریباً ایک چوتھائی مٹی، ریت، کنکراور بھوسہ شامل کیا گیافلورملز مالکان  کے پاس غیرمعیاری مضرصحت اور ناقص گندم پہنچی تو ملز مالکان کی چیخیں نکل گئیں انہوں نے فوری طورپر اپنا اجلاس بلاتے ہوئے مٹی، ریت، کنکراور بھوسہ ملی گندم لینے سے صاف انکار کردیا۔ ملز مالکان کا کہنا ہے کہ ناقص اور غیرمعیاری گندم کسی صورت نہیں خرید سکتے اگر ایسی گندم خریدیں تو ہمیں 50ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک جرمانہ کردیاجاتا ہے اور ہمارا کوٹہ بھی بند کردیاجاتا ہے۔ فلورملز ایسوسی ایشن رحیم یارخان نے مذکورہ گندم خریدنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کروڑوں روپے کے چالان گندم خریداری کے لیے سرکاری خزانے میں جمع کرا چکے ہیں۔ گندم لیتے ہیں تو نقصان ہوتا ہے نہیں لیتے تو جمع شدہ رقم ضائع جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق فوڈ سنٹر ٹھل حمزہ کے AFCرئیس حمزہ کے فوڈ گرین انسپکٹر محمدفیصل اور دیگر عملہ نے مبینہ طورپر زمینداروں سے گندم خرید کرہمیں مٹی، ریت، کنکراور بھوسہ شامل کرکے اس کو ڈبل کردیا ہے۔ اس طرح 77ہزار بوری کی خریداری میں مذکورہ افسران نے کروڑوں روپے کا غبن کیا ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی وزیر خوراک علیم خان کے پی اے عمر سلطان سے رابطہ کیا اورانہیں تمام فوٹو اور ویڈیو بھجوائی اور انہیں کہا کہ سینئر صوبائی وزیر خوراک علیم خان کے نوٹس میں تمام معاملہ لایا جائے گا اور اس پر باقاعدہ انکوائری ہوگی۔  انچارج فوڈ سنٹر ٹھل حمزہ رئیس وزیراحمد نے کہا کہ چونکہ ہمارے علاقے میں بارشیں اور ڑالہ باری تھی اسی لیے ایسی گندم خرید ی اوپر سے ہمارے محکمے کے افسران اور ڈپٹی کمشنر رحیم یارخان کا بھی آرڈر تھا کہ ہر صورت میں گندم خریداری کا ٹارگٹ مکمل کیا جائے اسی لیے ایسی گندم ہی خرید کرسکے ہیں۔

انکشاف

مزید :

ملتان صفحہ آخر -