لاہور پولیس کے ہاتھوں مبینہ طورپر شہری مردانہ صفات سے محروم، پولیس کا موقف بھی آگیا

لاہور پولیس کے ہاتھوں مبینہ طورپر شہری مردانہ صفات سے محروم، پولیس کا موقف ...
لاہور پولیس کے ہاتھوں مبینہ طورپر شہری مردانہ صفات سے محروم، پولیس کا موقف بھی آگیا

  

لاہور (ویب ڈیسک) ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور شہزادہ سلطان نے تھانہ ڈیفنس سی پولیس کی جانب سے مبینہ تشدد محنت کش رفیق کو مردانہ صفات سے محروم کرنے پرایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو تین دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

دوسری جانب محنت کش محمد رفیق نے لاہور پولیس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لئے بورے والا عدالت میں درخواست دیدی، جبکہ عدالت نے اس کا طبی معائنہ کروانے کے لئے مقامی ہسپتال کو احکامات جاری کر دیئے ہیں۔

روزنامہ جنگ کے مطابق انچارج انوسٹی گیشن ڈیفنس سی کا کہنا ہے کہ الزامات بے بنیاد ہیں تھانے میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکٹر ڈی فیز ڈیفنس کے رہائشی ڈاکٹر کرنل (ر) قمر محمود کی گھریلو ملازمہ رخسانہ کے مبینہ طور پر رفیق سےناجائز تعلقات تھے، جس پر رخسانہ کے باپ نے ڈاکٹر قمر محمود سے اعتراض کیا کہ ان کی بیٹی کو غیر بندہ ملنے آتا ہے، اس دوران ڈاکٹر قمر محمود کے گھر سے اڑھائی لاکھ کے قریب مختلف اوقات میں چوری بھی ہوئی، جس پر ڈاکٹر قمر محمود نے پولیس کے ذریعے مقدمہ نمبر 522درج کروایا۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -