لاک ڈاﺅن کے بعد سے نوعمروں نے گھر بیٹھے موبائلز پر کیا شرمناک کام شروع کردیا؟ تازہ تحقیق میں والدین کے لیے پریشان کن انکشاف سامنے آگیا

لاک ڈاﺅن کے بعد سے نوعمروں نے گھر بیٹھے موبائلز پر کیا شرمناک کام شروع ...
لاک ڈاﺅن کے بعد سے نوعمروں نے گھر بیٹھے موبائلز پر کیا شرمناک کام شروع کردیا؟ تازہ تحقیق میں والدین کے لیے پریشان کن انکشاف سامنے آگیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وباءاور لاک ڈاﺅن نے ہماری زندگیوں کو بہت کچھ تبدیل کیا ہے، حتیٰ کہ ہمارے روئیے تک بدل کر رکھ دئیے ہیں۔ اب برطانیہ سے ایک ٹیک کمپنی کے ماہرین نے اس حوالے سے ایک انتہائی شرمناک انکشاف کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق برطانوی ٹیک کمپنی ’سیف ٹو نیٹ‘ (SafeToNet)کے ماہرین نے ایک سافٹ ویئر کا استعمال کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ لاک ڈاﺅن کے دوران 16سال سے کم عمر کے لڑکے لڑکیوں میں ایک دوسرے کو اپنی فحش تصاویر اور ویڈیوز اور جنسیت سے متعلق پیغامات بھیجنے کی شرح میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ مارچ کے بعد اب تک ان قابل اعتراض اشیاءکے تبادلے کی شرح 182فیصد بڑھی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس تحقیق میں ماہرین نے ایک سافٹ ویئر کے ذریعے برطانیہ میں بھیجے گئے 7کروڑ آن لائن پیغامات کا تجزیہ کیا اور ان میں سے قابل اعتراض پیغامات کو الگ کرکے ان کا ماضی کی شرح سے موازنہ کیا۔ اس حوالے سے پروفیسر اینڈی فیپن کا کہنا تھا کہ ”یہ ایک تشویشناک خبر ہے جس کے متعلق والدین کو فکرمند ہونے کی ضرورت ہے۔ اس تحقیق میں یہ معلوم ہوا کہ اکثر لڑکے برہنہ تصاویر بھیجنے میں پہل کرتے ہیں۔ ہم نے کئی لڑکوں سے بات کی کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ تو اکثر نے جواب دیا کہ وہ جواب میں لڑکیوں کی برہنہ تصاویر حاصل کرنے کے لیے پہلے اپنی تصاویر بھیجتے ہیں۔“ پروفیسر اینڈی کا کہنا تھا کہ ”والدین کو علم ہونا چاہیے کہ ان کے بچوں کی برہنہ تصاویر آگے چل کر ان کے کیریئر کو تباہ کر سکتی ہیں۔ چنانچہ انہیں اپنے بچوں پر نظر رکھنی چاہیے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -