بیروت میں خوفناک دھماکے سے 3 لاکھ لوگ بے گھر، اور کیا کچھ تباہ ہوگیا؟ انتہائی افسوسناک تفصیلات سامنے آگئیں

بیروت میں خوفناک دھماکے سے 3 لاکھ لوگ بے گھر، اور کیا کچھ تباہ ہوگیا؟ انتہائی ...
بیروت میں خوفناک دھماکے سے 3 لاکھ لوگ بے گھر، اور کیا کچھ تباہ ہوگیا؟ انتہائی افسوسناک تفصیلات سامنے آگئیں

  

بیروت(مانیٹرنگ ڈیسک) لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر گزشتہ دنوں ایک ہولناک دھماکہ ہوا جس نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ میل آن لائن کے طابق بندرگاہ پر واقع ایک ویئرہاﺅس میں ہونے والے اس دھماکے سے شہر کی 50فیصد سے زائد عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور 3لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اب تک 150افراد کے ہلاک اور 5ہزار سے زائد زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ سینکڑوں لوگ تاحال لاپتہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ دھماکہ اس قدر خوفناک تھا کہ جس ویئرہاﺅس میں یہ دھماکہ ہوا اس کا نام و نشان مٹ گیا اور اردگرد کی 50سے زائد بلند و بالا عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ صرف ایک بلڈنگ ایسی بچی ہے جسے اس دھماکے سے نقصان نہیں پہنچا۔ اس دھماکے کو چھوٹے ایٹم بم کے دھماکے سے تشبیہ دی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک ویلڈر کی غلطی سے ہوا۔ اس ویئرہاﺅس میں 2ہزار 750ٹن امونیم نائٹریٹ ذخیرہ کیا گیا تھا۔ 

ابتدائی طور پر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ویئرہاﺅس میں ایک ویلڈر کام کر رہا تھا اور اس کی چنگاریاں امونیم نائٹریٹ پر پڑنے سے دھماکہ ہو گیا۔ اس دھماکے سے لبنان معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے اور عالمی برادری مشکل کی اس گھڑی میں لبنان کی مدد کے لیے آگے بڑھ رہی ہے تاہم لبنان کے شہری، بالخصوص بیروت کے رہائشی اس قدر خوفزدہ ہیں کہ ان کا کہنا ہے کہ اب لبنان کبھی واپس اپنی اصل حالت میں نہیں آ سکے گا اور یہ تباہی ملک کو برباد کر دے گی۔ ڈاﺅن ٹاﺅن بیروت میں واقع دھماکے سے تباہ ہونے والے ’لی گرے ہوٹل‘ کے 32سالہ منیجر حسن زیطر کا کہنا تھا کہ”اس دھماکے نے لبنان کے مقدر میں تباہی لکھ دی ہے۔ اس کا الزام حکمران اشرافیہ کے سر جاتا ہے۔ “ واضح رہے کہ ماہرین کے اندازے کے مطابق اس دھماکے سے لبنان کو 5ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -