’میں نے دیکھا نیم برہنہ حالت میں انسان بھوتوں کی طرح لگ رہے تھے‘ ہیروشیما پر ایٹمی دھماکے کے بعد کیا منظر تھا؟ عینی شاہد خاتون نے لرزہ خیز تفصیلات بتادیں

 ’میں نے دیکھا نیم برہنہ حالت میں انسان بھوتوں کی طرح لگ رہے تھے‘ ہیروشیما ...
 ’میں نے دیکھا نیم برہنہ حالت میں انسان بھوتوں کی طرح لگ رہے تھے‘ ہیروشیما پر ایٹمی دھماکے کے بعد کیا منظر تھا؟ عینی شاہد خاتون نے لرزہ خیز تفصیلات بتادیں

  

ٹوکیو(مانیٹرنگ ڈیسک) 6اگست 1945ءکا دن انسانی تاریخ کا وہ تاریک اور شرمناک ترین دن تھا جب جاپان کے شہر ہیروشیما میں انسان نے انسانیت اپنے پیروں تلے مسل ڈالی۔ صبح سوا 8بجے ایک ایٹم بم گرا اور ہنستا بستا شہر بے گوروکفن لاشوں سے بھر گیا، عمارات یوں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں کہ کبھی تھیں ہی نہیں۔ آج اس انسانی المیے کو 75برس گزر چکے ہیں مگر اس کی تکلیف آج بھی دنیا کا ہر وہ شخص اپنے دل میں محسوس کرتا ہے جس کے سینے میں دل ہے۔ اس المیے کی 75ویں برسی پر ایک جاپانی خاتون نے اس دن کے حالات اپنی زبانی بیان کیے ہیں جو اس وقت 13سال کی لڑکی تھی۔ اس خاتون کا نام سیتسوکو ناکامورا ہے جس کی عمر اب 88برس ہے اور وہ اب کینیڈا میں رہتی ہے۔دی مرر کے مطابق سیتسو کونے کہا ہے کہ ”وہ پیر کی صبح تھی۔ ہم اپنے لکڑی سے بنی ایک عمارت کی دوسری منزل پر تھے۔ وہاں فوج کا ایک میجر ہمیں کچھ ہدایات دے رہا تھا۔ اچانک میں نے عمارت سے باہر نیلے اور سفید رنگ کی روشنی دیکھی جو پوری عمارت کو لپیٹ میں لے چکی تھی۔ ایک دھماکہ ہوا اور سب کچھ ہوامیں اڑنے لگا۔ میں بھی ہوا میں تیر رہی تھی۔ اگلے ہی لمحے میں ہوش کھو بیٹھی۔“

سیتسو کو کہنا تھا کہ ”مجھے ہوش آئی تو ہر طرف اندھیرا چھایا تھا۔ میں حرکت بھی نہیں کر پا رہی تھی۔ میرے اوپر بڑی بڑی لکڑیاں پڑی ہوئی تھیں اور میں موت کے دہانے پر تھی۔ اسی دوران میں نے کچھ خواتین کی آواز سنی۔ یہ آواز سن کر میں نے پکارا’ماں، میں یہاں ہوں، میری مدد کرو۔‘ اس کے ساتھ ہی ایک مردانہ آواز گونجی، ’ہمت مت ہارنا، میں آ رہا ہوں، تم سے کچھ فاصلے پر ہی روشنی ہے، رینگ کر اس کی طرف آنے کی کوشش کرو۔‘ اس آدمی نے کچھ لکڑیاں ہٹائیں اور میں رینگتی ہوئی ملبے سے باہر نکل آئی۔میرے ساتھ دو اور لڑکیاں بھی ملبے تلے دبی تھیں، وہ بھی اسی راستے سے باہر نکل آئیں۔ باہر نکل کر میں نے دیکھا کہ عمارت کو آگ لگی ہوئی تھی۔ میرے ساتھ اس کمرے میں 30لڑکیاں تھیں جنہیں میجر ہدایات دے رہا تھا۔ ہم تینوں کے علاوہ باقی سب کی سب زندہ جل گئی تھیں۔ “

سیتسوکو نے بتایا کہ ”جونہی میری آنکھیں اندھیرے سے باہر آنے کے بعد کچھ دیکھنے کے قابل ہوئیں، میں نے انسانیت کا جنازہ دیکھا۔ میرے اردگرد کٹے پھٹے ادھ ننگے جسموں کے ساتھ یوں رینگ اور چل رہے تھے کہ جیسے بھوت ہوں۔ ان کے کپڑے چیتھڑوں میں تبدیل ہو چکے تھے اور وہ لگ بھگ ننگے تھے۔ ان کے جسم کسی نہ کسی حد تک چلے ہوئے تھے اور گوشت کے لوتھڑے لٹک رہے تھے۔ ہر طرف خون، انسانی گوشت اور انسانی اعضاءبکھرے ہوئے تھے۔ کئی لوگوں کی خالی ہڈیاں تھیں، کہیں سے گوشت مکمل اڑ چکا تھا اور کہیں لوتھڑا لٹک رہا تھا۔ ایسے کئی لوگ بھی میں نے دیکھے جنہوں نے اپنی ایک یا دونوں آنکھوں کے دیدے اپنی ہتھیلیوں پر رکھے ہوئے تھے۔ کئی لوگ گر گئے اور ان کے پیٹ پھٹ گئے۔ یہ لوگ شہر کے مرکز سے دور جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ فوجیوں نے ہمیں کہا کہ ان لوگوں کے ساتھ ہم قریبی پہاڑی کی طرف جائیں اور اس کے اوپر چڑھ جائیں۔ اس تمام راستے میں ہم لاشوں کے اوپر چلتے رہے۔ پہاڑی کے دامن میں ٹریننگ فیلڈ تھی۔ وہ مکمل لاشوں اور قریب المرگ لوگوں سے بھری ہوئی تھی جو جاں کنی کے عالم میں تڑپ رہے تھے۔ہزاروں لوگوں کو میں نے دیکھا جو پانی کی بھیک مانگ رہے تھے۔ شہر میں کوئی ایک ڈاکٹر یا نرس نہیں بچی تھی جو کسی ایک زخمی کا بھی علاج کر سکتے۔یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد ہمارے لیے زندگی موت سے بھی بد تر تھی۔ ہم فاقوں پر مجبور ہو چکے تھے۔ اگلے دن قریبی شہروں سے لوگ ہیروشیما پہنچنے لگے اور زندہ بچ جانے والوںکی مدد اور مر جانے والوں کو جلانے کا انتظام کرنے لگے۔تب تک ہمیں احساس نہیں تھا کہ بم کی تابکاری کیا کرے گی۔ جو لوگ مدد کے لیے آئے تھے وہ بھی اس سے متاثر ہونے لگے، بہت سوں کے بال چھڑ گئے۔ بہت سوں کے جسم کے اندر خون بہنے لگا اور ان کی موت ہو گئی۔ اس کے بعد میں زندہ تو رہی لیکن یہ زندگی موت سے بدتر تھی۔“

مزید :

بین الاقوامی -