”اگر او آئی سی وزرائے خارجہ کی سطح کااجلاس طلب کرنے میں ناکام رہتی ہے توپھر پاکستان۔۔۔“شاہ محمود قریشی کا دبنگ بیان سامنے آگیا

”اگر او آئی سی وزرائے خارجہ کی سطح کااجلاس طلب کرنے میں ناکام رہتی ہے توپھر ...
”اگر او آئی سی وزرائے خارجہ کی سطح کااجلاس طلب کرنے میں ناکام رہتی ہے توپھر پاکستان۔۔۔“شاہ محمود قریشی کا دبنگ بیان سامنے آگیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کشمیر کے بارے میں اس کے وزرائے خارجہ کی کونسل (سی ایف ایم) کے اجلاس کے انعقاد کے حوالے سے پیر کھینچنا بند کرے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہامیں ایک بار پھر احترام کے ساتھ او آئی سی کو بتا رہا ہوں کہ وزرائے خارجہ کی کونسل کا اجلاس ہماری توقع ہے،اگر آپ اس کو طلب نہیں کرسکتے ہیں تو پھر میں وزیر اعظم عمران خان سے اسلامی ممالک کا اجلاس طلب کرنے پر مجبور ہوں گا جو مسئلہ کشمیر پر ہمارے ساتھ کھڑے ہونے اور مظلوم کشمیریوں کی حمایت کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر او آئی سی وزرائے خارجہ کی سطح کااجلاس طلب کرنے میں ناکام رہتی ہے تو پاکستان او آئی سی کے باہر سیشن میں جانے کے لئے تیار ہوگا۔ ایک اور سوال کے جواب میں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان مزید انتظار نہیں کرسکتا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ دسمبر میں سعودی درخواست پر کوالالمپور سمٹ چھوڑ دیا تھا اور اب پاکستانی مسلمان جو مملکت کے لئے اپنی جان دینے کے لئے تیار ہیں ، ریاض سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ "اس معاملے پر قیادت دکھائیں،ہماری اپنی حساسیتیں ہیں۔ آپ کو اس کا احساس کرنا ہوگا۔ خلیجی ممالک کو یہ سمجھنا چاہئے۔شاہ محمود قریشی نے واضح پیغام دیا کہ ہم کشمیریوں کے دکھوں پر اب خاموش نہیں رہ سکتے۔

اس سے قبل شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے لئے وزرائے خارجہ کانفرنس کی اہمیت کی وضاحت کی تھی۔ تب انہوں نے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر امت مسلمہ کی طرف سے واضح پیغام بھیجنے کی ضرورت ہے۔اگرچہ گزشتہ سال اگست سے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر کشمیر سے متعلق رابطہ گروپ کی میٹنگ ہو رہی ہے اور او آئی سی کے آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن نے مقبوضہ وادی میں حقوق کی پامالی کے بارے میں بیانات دیئے ہیں ، لیکن اس میں کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔وزرائے خارجہ کے اجلاس کو طلب نہ کرنے کے پیچھے ایک بڑی وجہ سعودی عرب کی طرف سے کشمیر سے متعلق خصوصی طور پر پاکستان کی درخواست کو قبول کرنے سے گریز کرنا ہے۔

مزید :

قومی -