وفاقی وزرا کی باتیں حقیقت پر مبنی نہیں،وفاق اپنی نااہلی کی ذمہ داری ۔۔۔سندھ حکومت نے آٹا بحران پرایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی حیران رہ جائے گا

وفاقی وزرا کی باتیں حقیقت پر مبنی نہیں،وفاق اپنی نااہلی کی ذمہ داری ۔۔۔سندھ ...
وفاقی وزرا کی باتیں حقیقت پر مبنی نہیں،وفاق اپنی نااہلی کی ذمہ داری ۔۔۔سندھ حکومت نے آٹا بحران پرایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی حیران رہ جائے گا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ حکومت نے کہا ہے کہ کچھ وفاقی وزرا نے ایسی باتیں کی جو حقیقت پر مبنی نہیں ہیں،وفاق اپنی نااہلی کی ذمہ داری سندھ حکومت پر ڈالنے کی کوشش کررہا ہے، اس وقت بھی صوبہ سندھ کی جانب سے گندم پر سبسڈی نہ دئیے جانے کے باوجود یہاں نہ صرف عوام کو نہ صرف سستے داموں آٹا میسر ہے بلکہ وافر مقدار میں میسر ہے جبکہ پنجاب میں یومیہ 5 کروڑ روپے کی سبسڈی دئیے جانے کے باوجود وہاں کی عوام کو آٹا یا تو میسر نہیں اور اگر ہے بھی تو مہنگے داموں میسر ہے، 

تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی،وزیر خوراک ہری رام کشوری اور فلور مل ایسوسی ایشن سندھ کے صدر چوہدری محمد یوسف کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےوزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اس وقت کچھ وفاقی وزرا جنہیں ہم اچھے وزرا کہتے ہیں وہ اس طرح کی باتیں کررہے ہیں، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ وزراء  وفاق اور دیگر صوبوں کی نااہلیوں اور کوتاہیوں کا ملبہ سندھ حکومت کے سر ڈالنے کی کوشیشوں میں مصروف ہیں لیکن سندھ حکومت نے  گندم کے حوالے سے جو منصوبہ بندی کی اور جو ٹارگٹ بنایا گیا تھا اسے  ہم نے پورا کیا ہے،حکومت سندھ کی  جانب سے فلور ملز کو 3 ماہ کا کوٹہ ذخیرہ کرنے کی اجازت دئیے جانے کے باعث آج صوبے میں نہ صرف آٹا اور گندم وافر مقدار میں مقررہ قیمتوں  پر دستیاب ہے بلکہ ہماری جانب سے اس وقت تک کسی قسم کی کوئی سبسڈی بھی نہیں دی گئی کیونکہ ہم ستمبر کے آخر میں سبسڈی دیتے ہیں۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہمیں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وفاقی حکومت نے ذخیرہ اندوزوں سے ساز باز کرکے اور ان کی ملی بھگت سے ملک میں گندم کے بحران کو پیدا کیا ہے، آج پی ٹی آئی کے وزراء  جنہیں سعید غنی صاحب چول وزراء  کہتے ہیں وہ اس نااہلی اور نالائقی کا ملبہ سندھ حکومت پر ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

اس موقع پرفلور ملز ایسوسی ایشن سندھ کے صدر چوہدری محمد یوسف نے صوبائی وزیر کے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ خوراک سندھ کا گندم کے حوالے سے کردار قابل ستایش رہا ہے،سندھ حکومت کی جانب سے فلور ملز کو اعتماد میں لینے اور ہمیں 3 ماہ تک کا ذخیرہ کرنے کی اجازت دینے کا اعتماد کرنا اس وقت پورے ملک میں صوبہ سندھ اور یہاں کے عوام کے مفاد میں بڑا فیصلہ قرار پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کل گندم کا 76 فیصد پیداواری علاقہ ہونے کے باوجود ان کی غلط پالیسیوں کے باعث آج سب سے زیادہ مشکلات سے دوچار ہے،صوبہ پنجاب نے فلور ملز کو گندم کی خریداری نہیں کرنے دی اور آج یہ صورتحال ہے کہ صوبہ پنجاب روزانہ 5 کروڑ کی سبسڈی دینے کے باوجود اس کا عوام کو براہ راست یا کسی اور صورت فائدہ نہیں ہورہا ہے بلکہ وہاں آٹے کی قیمت صوبہ سندھ کے مقابلے زیادہ ہیں۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -