پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ،باہمی قانونی معاونت  کا بل کثرت رائے سے منظور،اپوزیشن تقسیم ہو گئی

 پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ،باہمی قانونی معاونت  کا بل کثرت رائے سے ...
 پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ،باہمی قانونی معاونت  کا بل کثرت رائے سے منظور،اپوزیشن تقسیم ہو گئی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں باہمی قانونی معاونت کا قانون وضع کرنے کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا، بل کے  مطابق  پاکستان کسی دوسرے ملک  سے یا دوسرا  ملک پاکستان سے قانونی معاونت حاصل کر سکے گا،جس میں گواہوں، مشکوک افراد، قصور وار یا مجرموں کی جگہ یا ان کی شناخت کے بارے میں پوچھا جا سکے گا،  کسی شخص کی حوالگی پاکستانی اور عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی تو اسے حوالے نہیں کیا جا سکے گا، ہر چھ ماہ بعد اتھارٹی اسمبلی اور سینیٹ میں رپورٹ پیش کیا کرے گی،قانون کی ہر چھ ماہ بعد پارلیمانی نگرانی ضروری ہوگی، بل  پر اپوزیشن جماعتیں تقسیم ہو گئیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے بل کی حمایت کی تاہم جے یو آئی(ف)جماعت اسلامی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی  اورنیشنل پارٹی  کے ارکان نے بل کی  شدید مخالفت کی  اور  اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر شدید احتجاج کیا۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں وفاقی وزیر برائے داخلہ اعجاز احمد شاہ نے فوجداری معاملات میں باہمی قانونی معاونت کا قانون وضع کرنے کا بل" باہمی قانونی معاونت(فوجداری معاملات)  بل 2020پیش کیا،  مسلم لیگ  ن  اور پیپلز پارٹی کی جانب سے  بل  سے  اپنی  ترامیم  واپس لے لیں گئیں   جبکہ  وفاقی وزیر برائے قانون فروغ نسیم نے  بل میں ترامیم پیش کیں، ترامیم کی منظوری کے موقع پر اپوزیشن جماعتیں تقسیم ہو گئیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ارکان  نے بل کی حمایت جبکہ  جے یو آئی(ف)، جماعت اسلامی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی  اور نیشنل پارٹی  کے ارکان نے بل کی شدید مخالفت کی  اور کھڑے ہو کر احتجاج کیا، سینیٹر مشتاق احمد مسلسل نعرے لگاتے رہے، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ہمیں    یہ نامنظور ہے اس کو مسترد کرتے ہیں، چینی چوروں، آٹا چوروں کوپکڑو،پاکستان کے پاؤں میں بیڑیاں نہ ڈالو، آئی ایم ایف کی غلامی نامنظور،چینی چوروں کے خلاف قانون سازی کرو،مافیا کے خلاف قانون سازی کرو، سینیٹر عثمان خان، سراج الحق اور مولانا اسعد محمود نے بھی کھڑے ہو کر احتجاج کیا ،    احتجاج کرنے والے بعض اپوزیشن ارکان کی جانب سے عسکری سپیکر نامنظور،جبری قانون سازی نامنظور،سلیکٹڈ قانون سازی نامنظور،بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی غلامی نامنظور کے نعرے بھی لگائے گئے۔

  اس موقع پر  وزیر دفاع  پرویز خٹک اور  پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عامر ڈوگر احتجاج کرنے والے  ارکان کے پاس گئے  اور انہیں منانے کی کوشش کی لیکن وہ انہیں منانے میں ناکام ہو گئے، اپوزیشن کی بعض جماعتوں کے احتجاج کے دوران ہی  بل میں  ترامیم منظور ہو تی رہیں جس کے بعد بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا،  بل کے مطابق کسی شخص کی حوالگی پاکستانی اور عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی تو اسے حوالے نہیں کیا جاسکے گا۔ ہر چھ ماہ بعد اتھارٹی اسمبلی اور سینیٹ میں رپورٹ پیش کیا کرے گی،قانون کی ہر چھ ماہ بعد پارلیمانی نگرانی ضروری ہوگی۔ قانون کی منظوری کے بعد پاکستان دوسرے ممالک کو قانونی معاونت فراہم کر سکے گا،اس قانون کے تحت پاکستان کسی دوسرے ملک  سے یا دوسرا  ملک پاکستان سے قانونی معاونت حاصل کر سکے گا  جس  میں گواہوں، مشکوک افراد، قصور وار یا مجرموں کی جگہ یا ان کی شناخت کے بارے میں پوچھا جا سکے گا، کسی کیس میں تحقیقات کے لیئے  شواہد کی تلاش کے لیئے سرچ وارنٹ کا حصول، تفتیش کے دائرہ کار میں آنے والی جائیداد کی قرقی، تفتیش یا تحقیقات کے دوران کیس میں معاونت حاصل کرنے والے شخص کو اس کی مرضی کے ساتھ پاکستان بلایا جا سکے گا یا پاکستان سے باہر اسے دوسرے ملک بھیجا جا سکے گا، کسی شخص کے پاس موجود الیکٹرانک معلومات جو کسی کمپیوٹر میں موجود ہوں وہ بھی فراہم کی جا سکیں گی، کسی شخص کی معلومات جو کسی سروس پرووائڈر کے پاس ہوں انہیں بھی دوسرے ملک کے ساتھ شیئر کیا جا سکے گا۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -