پاکستان ایک پرامن اور مستحکم افغانستان دیکھنے کا خواہاں،امن،ترقی اور  خوشحالی دونوں برادر اسلامی ممالک کا مشترکہ ایجنڈا ہے:اسد قیصر

 پاکستان ایک پرامن اور مستحکم افغانستان دیکھنے کا خواہاں،امن،ترقی اور ...
 پاکستان ایک پرامن اور مستحکم افغانستان دیکھنے کا خواہاں،امن،ترقی اور  خوشحالی دونوں برادر اسلامی ممالک کا مشترکہ ایجنڈا ہے:اسد قیصر

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپیکرقومی اسمبلی اسدقیصرنےکہاہےکہ پاکستان افغانستان کےساتھ اپنےتعلقات کوبڑی اہمیت دیتاہے اورعوامی واقتصادی رابطوں کو فروغ دے کر انہیں مزید وسعت دینے کا خواہشمند  ہے،پاکستان ایک پرامن اورمستحکم افغانستان دیکھنےکاخواہاں ہے،ایک مستحکم اور پر امن افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پوری خطے کی ترقی و خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔

افغان پارلیمنٹ کےسپیکر میر رحمن رحمانی سے ویڈیولنک پر گفتگو کرتے ہوئےسپیکر اسد قیصرنےکہاکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین تعلقات مشترکہ مذہب، اخوات، تاریخ، ثقافت اور زبان کے لازوال رشتوں پر استوار ہیں جبکہ امن، ترقی اور  خوشحالی دونوں برادر اسلامی ممالک کا مشترکہ ایجنڈا ہے،پاکستان خطے اور علاقائی سطح پر امن کا خواہاں ہے اور خطے کی ترقی اور خوشحالی چاہتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کی پارلیمانوں میں رابطوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی پارلیمانوں میں قائم فرینڈشپ گروپس دونوں ممالک کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، دونوں ہمسایہ ممالک میں زراعت اور تجارتی شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں جنہیں دونوں ممالک کی عوام کی فلاح کے لیے بروئےکار لایا جا سکتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی ترقی و خوشحالی کے لئے کوششیں مزید تیز کرنے اور دونوں ہمسایہ ممالک کی پارلیمانوں میں دوطرفہ تعلقات اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ  کے لیے خصوصی کمیٹیاں قائم کرنے پر اتفاق کیا۔اسد قیصر نے افغان سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو پارلیمانی وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

سپیکر افغان وولوسی جرگہ میر رحمان رحمانی نے کہا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور انہیں مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے سپیکر اسد قیصر کی پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں گہری دلچسپی کو سراہتے  ہوئےاسد قیصر کا شکریہ ادا کیا اور  کہا کہ یہ ان کے لیے باعث اعزازہے کہ انہیں برادر ملک پاکستان کے دورے کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔ انہوں نے پارلیمانی وفد کے ہمراہ پاکستان کا جلد دورہ کرنے کا یقین دلایا۔ 

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -