فنکاروں کا یو م آزادی جوش و خروش سے منانے کا عزم 

فنکاروں کا یو م آزادی جوش و خروش سے منانے کا عزم 

  

  لاہور(حسن عباس زیدی)شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات اس برس بھی یوم آزادی پورے جوش و خروش سے منائیں گے۔فنکاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قیام کو 75برس گذر چکے ہیں لیکن ابھی تک ہم اپنے ملک کو شاعر مشرق علامہ اقبال اور بانی پاکستان قائد اعظم کا پاکستان نہیں بناسکے جس کی بے شمار وجوہات ہیں، جن پر قیامِ پاکستان سے لے کر ابھی تک بحث جاری ہے۔کوئی سیاستدانوں پرالزام لگا رہا ہے تو کوئی عوام کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے،کوئی اس کی ذمہ داری حکمرانوں پر ڈالتا ہے تو کوئی اسے بیرونی سازش قرار دیتا ہے،غرض ہرکوئی اپنی اپنی زبان بول رہا ہے لیکن ہم میں سے کسی نے بھی آج تک اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ سب سے مشکل کام ہی خود احتسابی ہے۔ہریوم آزادی پر ہم وطن سے محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں،سبزہلالی پرچم بھی لہراتے ہیں،ملی نغمے بھی گاتے ہیں۔پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگاتے ہیں لیکن ہمارا عمل کیا ہے، کسی بھی بڑے شہر کی سڑکوں پر جاکر دیکھ لیں،جہاں عوام نے آزادی کے نام پر ایک اودھم مچایا ہوا ہے، نہ ماں بہن کی عزت کی جارہی ہے اور نہ بزرگوں کی،کہیں ون ویلنگ ہورہی تو کہیں موٹر سائیکلوں سے سائلنسرنکال کر دھوم دھڑکے،کیا آزادی اسی چیز کا نام ہے؟ جس کے جی میں جو آئے کرتے جائیں،نہ کوئی روکنے والاہو اور نہ کوئی ٹوکنے والا۔کبھی کسی نے آج تک یہ کیا ہے کہ یوم آزادی پر سب مل کر اپنے محلے کی صفائی ہی کرلیں یا کسی ضرورت مند کی مدد ہی کردیں۔

وطن کی محبت کے نام پر ہزاروں روپے خرچ کردیں گے لیکن کسی ضرورت مند کے لئے ایک سوروپیہ بھی نہیں نکال سکتے کیا یوم آزادی اسی کا نام ہے کہ سارادن سڑکوں پر ہلہ گلہ اور دوسروں کوتنگ کرکے تسکین حاصل کریں۔کیا ہمارے بزرگوں نے اسی پاکستان کا خواب دیکھا تھا؟در حقیقت آزادی جیسی نعمت کی قدران لوگوں سے پوچھی جانی چاہیے جو آج بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں،کشمیر اور فلسطین جیسے ملک آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اگر ہمیں ایک الگ ملک نصیب نہ ہوتا تو شاید ہم بھی آج آزادی حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہوتے اور یہ لوگ جو آج بازاروں گلیوں میں ہلڑ بازی کرتے نظرآتے ہیں وہ کسی انگریز یا ہندو کے گھر باتھ روم کی صفائی کررہے ہوتے۔پاکستان میں کئی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں لیکن پاکستان کوویسا ملک نہیں بنا سکیں جس کا خواب علامہ اقبال اور قائداعظم نے دیکھا تھا۔آج ملک میں کرپشن،بدامنی اوربد دیانتی اور نفسا نفسی کا راج ہے۔ہم پاکستان کی سالگرہ منا رہے ہیں اس موقع پر ہمیں ملکر عہد کرنا چاہیے کہ ہم پاکستان کو جنت نظیر بنانے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں گے اور ایسے لوگوں کا انتخاب کریں گے جو ملک کی ترقی کیلئے کام کریں اور اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنی ذمہ داری بھی پوری کریں۔ نہایت افسوس کا مقام ہے جس نوجوان نے کل ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے وہ مناسب راہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے تباہی کے کنارے پہنچ گیا،آج کے نوجوانوں کی اکثریت بے مقصد زندگی گزار رہی ہے،ان کے لئے ”ٹک ٹاک“ اور”پب جی“ ہی سب کچھ ہے۔ سیاستدان نوجوانوں کو ووٹ کے لئے تو استعمال کرتے ہیں لیکن ان میں قومی شعور اجاگر کرنے کی کوشش بالکل نہیں کرتے جس کا نتیجہ ہے کہ ہمارا نوجوان شتر بے مہار بن کے رہ گیا ہے۔ہر سال کی طرح تمام لوگ یوم آزادی ملک کے نغمے تو گائیں گے لیکن اس کی ترقی میں عملی کردار کے لئے کچھ نہیں کریں گے۔ یوم آزادی کس طرح منایا جائے اور ہم سب کی ذمہ داری کیا ہے اس بارے میں شوبز سے وابستہ افراد سے بات چیت کی گئی جنہوں نے اس بارے میں خیالات کا اظہار ا پنے اپنے انداز سے کیا۔ اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اداکار ایوب کھوسونے کہا کہ ہم خوش نصیب قوم ہیں جسے آزادی کا سورج دیکھنا نصیب ہوا۔ ہمیں آزادی کی قدر کرنی چاہیے،مگر صد افسوس کے ہم آج بھی لڑائی جھگڑوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔جیسے عید کی خوشیاں گھر گھر منائی جاتی ہیں،اسی طرح جشنِ آزادی بھی گھر گھر منایا جاتا ہے۔آزادی کی اہمیت ان لوگوں سے پوچھیں جنہیں یہ نعمت نصیب نہیں ہے ہم قومی مفاد کی بجائے ذاتی مفادکے لئے لڑتے ہیں جب سے پاکستان قائم ہوا ہے دشمن  اسے کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے جسے ہم سب نے مل کر ناکام بنانا ہے۔اداکارہ نیلم منیر خان نے کہا کہ جشن آزادی منا لینا ہی کافی نہیں بلکہ ہمیں اس دن کی روح کو سمجھنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ آخر الگ ملک حاصل کرنے کی ضرور کیوں پیش آئی؟آج بھائی بھائی کو مار رہا ہے، مہنگائی،غربت اور بھوک کے سائے قوم پر ہر دم منڈلا رہے ہیں ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ پاکستان کو ویسا بنانے کی کوشش کریں جس کا خواب علامہ اقبال اور قائداعظم نے مل کر دیکھا تھا۔اداکارہ ماہ نورنے کہا کہ جشن آزادی پر ملک میں سبز ہلالی پرچم ہر طرف دکھائی دیتا ہے۔ اس دن کو باقاعدہ ایک ایونٹ کے طور پر منائے جانے سے لوگوں کے جوش و خروش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے لیکن جس طرح ہم اس ایک دن پر اکٹھے ہوتے ہیں کیا سارا سال اسی طرح متحد نہیں رہ سکتے؟لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے سیاستدان اپنے اپنے مفادات کی بنا پر قوم کو اکٹھا ہونے ہی نہیں دیتے۔اداکار جاوید شیخ نے کہا کہ ہمارا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کے بڑوں نے پاکستان کو بنتے دیکھا۔ہم نے اپنیبزرگوں سے سنا ہے کہ پاکستان کو کس طرح حاصل کیا؟ اس کیلئے کتنی قربانیاں دیں؟ ہمیں اپنے بچوں کو یہ بتانا چاہیے کہ پاکستان بنانے کیلئے ہمارے بڑوں نے کتنی طویل جدوجہد کی یہ انہی کی جدوجہد کا ثمر ہے کہ ہم آج آزادی سے سانس لے رہے ہیں۔ ہمیں اس آزادی کی قدر کرنی چاہیے۔سٹار میکر ڈائریکٹر جرار نے کہا کہ ہم لوگ آزادی کا جو مطلب14اگست والے دن لیتے ہیں اس کا مطلب ہرگزوہ نہیں ہے،اس قومی دن پر ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ ہم پاکستانی ہیں کیونکہ دنیا بھر کی نظریں ہم پر ہوتی ہیں اس لئے ہمارا ہر عمل ذمہ داری والا ہونا چاہیے۔اداکار ہ مریم نور شیخ نے کہا کہ گر ہم لوگ مخلص ہوکر اپنے ملک کے لئے کام کریں تو یہ ملک دنیا میں سب سے آگے ہوتا لیکن ایسا نہیں ہوسکا کیونکہ ہم لوگ اجتماعی نہیں بلکہ ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں،سب سے پہلے ہمیں پاکستان کے بارے میں سوچنا چاہیئے۔اداکارہ ثنانے ک

مزید :

کلچر -