اچھا کام اور اس کا انعام

 اچھا کام اور اس کا انعام

  

              گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد آج سکول میں پہلا دن تھا،سب طلباء اور طالبات خوش اور پْرجوش دکھائی دے رہے تھے۔ان کی خوشی کی ایک وجہ اور بھی تھی کہ چھٹیوں سے پہلے پرنسپل صاحب نے اسمبلی میں اعلان کیا تھا کہ چھٹیوں کے دوران جن طلباء نے کوئی اچھا اور مفید کام کیا ہو گا ان کو ایک بڑا انعام دیا جائے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سکول کھلنے سے ایک دن پہلے سکول کے دفتر میں آ کر اپنے کام کی تفصیل دینی ہو گی اور اپنا نام لکھوانا ہو گا،اور سب بچے اپنا اپنا کام لکھ کر جمع کروا چکے تھے،بس اسی لئے آج بچے بہت خوش اور پْرجوش تھے کہ دیکھیں کس کا کیا اچھا کام اور کس کا کیا انعام نکلتا ہے۔

    سکول کا میدان پْررونق دکھائی دے رہا تھا،ہر طرف دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ایک کونے میں اساتذہ کی سٹیج نما نشستیں تھیں،جن کے درمیان میں پرنسپل صاحب تشریف فرما تھے۔جیسے ہی وہ ڈائس پر آئے طلباء اور طالبات نے زور زور سے تالیاں بجانا شروع کر دیں۔وہ سب منتظر تھے کہ اب پرنسپل صاحب انعام پانے والوں کے ناموں کا اعلان اور کام کی تفصیل بتائیں گے،کیونکہ یہ بات راز میں تھی کہ کس نے کیا اچھا کام کیا ہے۔

    پرنسپل صاحب نے پہلے انعام کا حقدار لاریب کامران کو قرار دیا۔لاریب کامران تالیوں کی گونج میں سٹیج پر پہنچی۔پرنسپل صاحب نے لاریب سے کہا کہ وہ اپنے اچھے کام کی تفصیل خود ڈائس پر آ کر بتائے۔لاریب نے بتایا کہ جب اس نے سوچا کہ ایسا کیا کام ہونا چاہئے جس سے اسے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے تو اس کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ ان کے گھر میں ایک کمرہ ایسا ہے جو زیادہ استعمال نہیں ہوتا،تو کیوں نہ اسے تھوڑی سی محنت اور تبدیلی کے بعد لائبریری کی شکل دے دی جائے۔

    اس طرح کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا ہو گا اور گھر میں آنے والے بچے اور بڑے سب اس سے استفادہ کر سکیں گے۔

    لاریب نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں اس نے گھر میں موجود سب کتابوں کو جو مختلف الماریوں اور میزوں وغیرہ پر بے ترتیب سے پڑی تھیں،انہیں ایک جگہ جمع کیا۔ان میں سے انگریزی،اردو،اسلامیات کی کتابوں کو الگ کیا،بچوں کی کہانیوں کی کتابوں اور رسالوں کو الگ کیا اور انہیں بڑی ترتیب اور نفاست سے اس کمرے میں موجود ایک شلف کے مختلف خانوں میں رکھ دیا۔رات کو پاپا دیر تک پڑھنے کے عادی تھے، جب انہوں نے انگریزی ادب کی کتاب کو ڈھونڈا تو وہ انہیں شلف کے اس خانے میں رکھی مل گئی جس کے اوپر،ای،یعنی ”انگلش بکس“ کا نشان لگا ہوا تھا۔

    انہیں یہ ترتیب بے حد پسند آئی،انہیں جب یہ معلوم ہوا کہ یہ لاریب کی تجویز ہے اور وہ ایک لائبریری بنانا چاہتی ہے تو انہوں نے اس کی مدد کی اور ایک بک شاپ پر جا کر پرانی کتابیں جو سستے داموں میں مل رہی تھیں،لیکن اہم اور دلچسپ موضوعات پر مشتمل تھیں خرید لیں اور پھر لاریب نے انہیں بھی الماریوں اور شلف پر نمبر وائز ترتیب سے لگا دیا۔

    اپنے بابا کی مدد اور اپنی محنت سے اس نے تقریباً ایک ہفتے میں اچھی خاصی لائبریری بنا لی۔پرانے فرنیچر والے سے بک شلف خرید لی۔کچھ کتابیں اس کی پھپھو نے تحفے میں دے دیں۔بس ذرا سی کوشش اور تھوڑی سی لاگت سے ایک لائبریری کا پْرسکون گوشہ تیار ہو گیا،جہاں سب سکون سے بیٹھ کر پڑھتے تھے۔

    لاریب کے پڑوس سے بھی بچے کہانیوں کی کتابیں اور رسالے پڑھنے کے لئے آنے لگے،لائبریری کے دروازے پر لکھ کر لگا دیا گیا کہ لائبریری میں شوروغل منع ہے۔

    بچوں کی کہانیوں کی کتابیں اور رسائل کے بک شلف پر اس نے اپنے بھائی کی مدد سے خوش رنگ،رنگ کیا،بابا کی اور پھپھو کی مدد سے کھڑکی اور دروازے پر پردے لگائے جس سے لائبریری کا ماحول مزید پْرسکون ہو گیا۔

    اب جو بھی گھر میں آتا لائبریری کی تعریف کرتا اور تھوڑی سی دیر کے لئے ہی کیوں نہ ہو کتابوں اور رسالوں کی ورق گردانی ضرور کرتا۔

    جب لاریب یہ ساری بات بتا چکی تو پرنسپل صاحب ڈائس پر آئے اور کہا بچو!

لاریب نے بے حد اچھا کام کیا ہے۔کتاب پڑھنے کا ذوق پیدا کرنا،مطالعہ کرنے کا ماحول بنانا اور لائبریری کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھ کر اس کے لئے کوشش کرنا قابل تعریف ہے۔اسی لئے لاریب اوّل انعام کی مستحق ہے،اور یہ انعام ایک ہفتے کے لئے امی ابو کے ساتھ مری کی سیر کا ٹکٹ اور اخراجات کی سہولت ہے۔اس خوبصورت انعام پر بے حد تالیاں بجائی گئیں،اور لاریب کی تو خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔

    دوسرے انعام کے لئے دانیال کا نام پکارا گیا۔ دانیال بھی تالیوں کی گونج میں سٹیج پر آیا اور پرنسپل کی ہدایت پر اچھے کام کی تفصیل کچھ یوں بیان کی،کہ میں نے سوچا کہ اگرچہ ہمارا گھر زیادہ بڑا نہیں ہے لیکن صحن میں اتنی جگہ موجود ہے کہ ایک کیاری بنائی جا سکے۔میں نے اپنے بابا سے ضد کی اور انہیں منایا کہ آپ اپنی مصروفیت میں سے تھوڑا سا وقت نکالیں اور میری مدد کریں،میرے اصرار پر بابا مان گئے اور ایک مزدور کے ذریعے صحن کے ایک حصے کا پکا فرش اْکھاڑ دیا جس میں میں نے ایک حصے میں پودے اور دوسرے حصے میں سبزیوں کی پنیری لگائی۔

    سبزیوں کی پنیری لگانے کے لئے میں نے باقاعدہ معلومات لیں کہ کیسے اور کس طرح سبزیاں اْگانی چاہئیں۔کیسے پانی دینا چاہیے اور کیسے کھاد وغیرہ ڈالنا چاہیے۔اور کیا کیا احتیاط ضروری ہوتی ہیں۔ان تمام معلومات کے بعد ان پر عمل کرنے سے میری کیاری میں گلاب کا پودا کافی بڑا ہو گیا ہے،اور انشاء اللہ سبزیاں بھی اْگ آئیں گی۔

    میں نے اپنے کزنز اور دوستوں کو بھی اس بارے میں بتایا اور میرے کہنے پر کئی دوستوں نے اپنے گھروں میں پودے لگائے،اور ہم سب دوست مل کر ماحول کو خوشگوار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور لوگوں کو اس کی اہمیت سمجھا رہے ہیں۔دانیال کو اس کی کارکردگی پر دوسرا انعام دیا گیا جو ایک قیمتی کلائی پر باندھنے والی گھڑی تھی جسے پا کر وہ بہت خوش ہوا۔

    تیسرے انعام کی حقدار ایبیا ٹھہری۔اس نے بتایا کہ وہ اپنے محلے اور گلیوں میں کوڑا کرکٹ پھینکنے والوں سے بچوں کی ٹیم کے ساتھ جا کر درخواست کی کہ اپنے گھر کا کوڑا کرکٹ گلی میں نہ پھینکیں۔اپنے محلے اور شہر اور ملک کو صاف رکھنا چاہیے۔اب آپ چاہے کسی پارک میں جائیں،بس میں سفر کریں یا اپنے گھر میں ہوں،گندگی نہ پھیلائیں۔خالی جوس کے ڈبے،چپس وغیرہ کے کاغذ کچرے دان میں ڈالیں تاکہ ہمارا شمار تہذب یافتہ لوگوں میں ہو اور ہم ایک صاف ستھری قوم کہلائیں۔ایبیا کو کتابوں کا سیٹ اور قیمتی قلم کا انعام ملا۔

    باقی بچوں کو بھی سرٹیفکیٹ دیئے گئے۔بچے اس حوصلہ افزائی پر بے حد خوش تھے اور ان میں اچھے اچھے کام کرنے کا جوش و ولولہ پیدا ہو گیا تھا۔

    اس کے بعد پرنسپل صاحب نے تقریر کی،اور اس میں کہا کہ ہر وہ کام کہ جس سے اپنی ذات کے علاوہ دوسروں کو فائدہ پہنچے اور معاشرے میں اچھائی کا فروغ ہو،اعلیٰ اقدار کا فروغ ہو،قابل ِتحسین ہے اور ہم سب کو اس کے لئے کوشش کرنی چاہیے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -