علامہ اقبال ؒ اور بچے

علامہ اقبال ؒ اور بچے

  

      لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری!

    پیارے بچو!یقینا آپ ہر روز صبح سویرے سکول میں اسمبلی کے دوران بڑے پر جوش انداز میں یہ دعا پڑھتے ہوں گے۔کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ خوبصورت دعا کس نے لکھی ہے؟ہو سکتاہے کچھ بچوں کو معلوم ہو اور کچھ کو نہیں بہر حال ہم بتائے دیتے ہیں،یہ خوبصورت دعا ہمارے قومی شاعر، مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ نے آج سے تقریباًایک صدی قبل آپ جیسے پیارے پیارے بچوں کے لئے لکھی تھی۔

    اس کے علاوہ انہوں نے بڑے لوگوں کے لئے بھی بے شمار نظمیں لکھی ہیں۔ان نظموں کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کا احساس دلایا اور انہیں سمجھایا کہ مسلسل محنت،ثابت قدمی اور پختہ یقین سے ہر چیز حاصل کی جا سکتی ہے۔

      علامہ اقبالؒ 9نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔

    آپ بچپن ہی سے نہایت ذہین اور اسلامی ذہن کے حامل تھے۔آپ کو قرآنِ پاک کی تلاوت کا بڑا شوق تھا۔صبح سویرے بلا ناغہ قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے تھے۔ان کی زندگی کا مقصد مسلمانوں کی اصلاح اور ان میں جذبہئ آزادی کو بیدار کرنا تھا۔

    علامہ اقبالؒ کو بچوں سے بڑی محبت تھی۔وہ جانتے تھے کہ آج کے بچے کل کے معمار ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ان کی بہتر انداز میں تربیت کی جائے اور انہیں زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا جائے۔علامہ اقبالؒ نے بچوں میں اچھی اچھی عادتیں پیدا کرنے اور ان کی بہتر تربیت کے لئے نہایت دلچسپ،آسان اور سبق آموز نظمیں لکھیں۔جن میں بچے کی دعا،ہمدردی،مکڑا اور مکھی،پہاڑ اور گلہری،گائے اور بکری،پرندے کی فریاد،بچہ اور جگنو وغیرہ شامل ہیں۔یہ تمام نظمیں ان کے پہلے مجموعہ کلام بانگ ِدرا میں شامل ہیں۔ان نظموں میں بچوں کے لئے خاص نصیحت ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -