کوا بنا مور

کوا بنا مور

  

 ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک کوے کو جنگل کی سیر کا شوق پیدا ہوا تو وہ کوا اْڑتا اْڑتا ایک جنگل میں چلا گیا۔جب وہ وہاں پہنچا تو اس نے ایک جگہ دیکھا کہ بہت سے مور جمع تھے اور سب پروں کو پھیلا کر اپنے خوبصورت پَر دیکھ کر خوش ہو رہے تھے اور رقص کر رہے تھے۔

    کوا بھی ان موروں کا تماشا دیکھنے لگا۔ان کے نیلے ہرے اور سنہرے پَر اسے بہت اچھے لگے۔کوے نے دل میں سوچا کہ ان کے پَر کتنے خوبصورت ہیں،یہ دْم پھیلا کر ناچتے ہیں تو اتنے بھلے لگتے ہیں۔میں اگر ان موروں کے پَر جو اِدھر اْدھر گر جاتے ہیں جمع کرکے اپنے پروں پر لگا لوں تو میں بھی مور بن جاؤں گا۔

    کوے نے یہ سوچ کر اِدھر اْدھر سے مور کے پَر جمع کئے،پروں میں لگائے اور پھر موروں میں جا کر انہی کی طرح رقص کرنے کی کوشش کرنے لگا۔

    جب موروں نے اپنی مخصوص آواز نکالی تو کوے نے بھی چاہا کہ وہ ان کی بولی بولے۔اس نے موروں کی بولی بولنے کے لئے اپنی چونچ کھولی تو وہ موروں کی آواز تو نہ نکال سکا البتہ اس کی چونچ سے کائیں کائیں کی آوازیں نکلنے لگیں،کائیں کائیں کی آواز سْن کر سب مور چونک پڑے اور کہنے لگے ارے یہ تو کوا ہے ہمارے پَر لگا کر ہمارے درمیان آ گیا ہے۔

     یہ کہہ کر سب موروں نے اس کوے کو گھیر لیا اور ٹھونگیں مارنے لگے۔

    کوے نے جب یہ دیکھا کہ اس کا راز کھل گیا ہے تو وہ موروں سے جان بچا کر اْڑا اور واپس اپنے ہم جولی کوؤں میں آ گیا لیکن ہوا یہ کہ جب کوؤں نے اسے دیکھا تو پہچان نہ سکے، یہ کوئی مور ان کے درمیان آ گیا ہے،سب کوے اس کو دیکھ کر کہنے لگے یہ کوا نہیں ہے،اس کے پَر تو مور کے سے ہیں۔یہ ہم میں کیوں آیا ہے؟یہ کہہ کر سب کوؤں نے ٹھونگیں مار مار کر اسے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔اپنے ساتھی کوؤں کے حملے کی وجہ سے کوا انہیں یہ بھی نہ بتا سکا کہ وہ مور نہیں بلکہ ان کا ہی ساتھی کوا ہے۔لہٰذا ہوا یہ کہ کوا بے چارہ نہ تو مور بن سکا اور نہ کوؤں میں رہا۔

    آخر اس نے مایوس ہو کر موروں کے سارے پَر جھاڑ دیئے اور کوؤں میں رہنے لگا۔

    پیارے بچو!اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں دوسروں کی نقل کرنے کی بجائے اپنی شخصیت کو اپنی اچھی عادتوں سے بہتر بنانا چاہئے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -