چنوں اور منوں 

    چنوں اور منوں 

  

  چنوں اور منوں آپس میں بھائی بھائی تھے۔چنوں بڑا اور منوں چھوٹا تھا۔چنوں کی عمر دس سال اور منوں کی سات سال تھی۔ان دونوں بچوں کے امی ابو اللہ کو پیارے ہو چکے تھے۔چنوں اور منوں کو اْن کے دادا اور دادی نے اپنے گھر میں رکھا ہوا تھا۔

    چنوں اور منوں اس لحاظ سے خوش قسمت تھے کہ اْن کے دادا ابو دادی اماں اور چچا بڑے خدا ترس تھے۔ایک دن چنوں نے اپنے چھوٹے بھائی منوں سے کہا کہ دیکھو بھائی!اب ہم بچپن کے دور سے نکل کر جوانی کی طرف بڑھ رہے ہیں،اس لئے ہمیں اپنے دادا ابو دادی اماں اور چچا کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جنہوں نے ہمیں امی ابو والا پیار دیا اور ہمارا ہر طرح سے خیال رکھا،یہاں تک کہ انہوں نے ہمیں سکول میں داخل کروا کے اچھا انسان بنایا۔

    اب وقت آگیا ہے کہ ہم بھی اْن کا حق ادا کریں اور جب تک ہم مکمل جوان ہو کر اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر لیتے تب تک ہمیں اْن کی خوب خدمت کرنی چاہئے تاکہ اللہ میاں ہم سے خوش اور راضی ہو جائیں۔منوں نے اپنے بڑے بھائی چنوں کی ہاں میں ہاں ملائی۔

    دونوں بھائیوں نے یہ عہد کیا کہ اللہ نہ کرے اگر ہمارے دادا،دادی اور چچا پر کبھی کوئی مصیبت آگئی تو ہم ہر ممکن طریقے سے اْن کی خدمت کریں گے۔وقت گزرتا چلا گیا اور چنوں اور منوں نے جوانی میں قدم رکھ دیا۔اب سکول کی بجائے دونوں بھائی اکٹھے صبح کالج جاتے اور اکٹھے گھر واپس آتے۔

    سبھی لوگ ان دونوں بھائیوں اور اْن کی تعلیم سے بہت خوش تھے۔

    ایک دن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ شیطان نے بڑے بھائی چنوں کو ورغلایا اور اس نے اپنے چھوٹے بھائی منوں کو بہت مارا اور اس کی تمام چیزیں اپنے قبضے میں کر لیں اور اکیلا ہی گھر کو آگیا۔

    جب اس کے دادا دادی اور چچا نے چنوں سے پوچھا کہ تمہارا چھوٹا بھائی کدھر ہے،وہ تمہارے ساتھ کالج گیا تھا مگر اس وقت تمہارے ساتھ نہیں آیا ہے، آخر کیا ہوا؟چنوں نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ دادا جی منوں کالج سے چھٹی کرکے اپنے کسی دوست کے ساتھ فلم دیکھنے سینما گیا ہے۔

    دادا جی کو فکر لاحق ہوئی کہ وہ منوں جو ہمیشہ اچھے نوجوانوں کی طرح سیدھا کالج جاتا اور پھر چنوں کے ساتھ مل کر سیدھا گھر آتا تھا،آج اْسے کیا ہو گیا ہے کہ سینما جا کر فلم دیکھنے لگا ہے۔بہرحال دادا جی کو فکر لاحق ہو گئی اور انہوں نے چنوں کو ساتھ لے کر منوں کی تلاش شروع کر دی۔

    چنوں کے دادا جی نے آس پاس اِدھر اْدھر گلی محلے کے علاوہ ہر جگہ اْسے تلاش کیا مگر وہ کہیں نہیں ملا۔آخر کار تھک ہار کر دادا جی اور چنوں گھر واپس آگئے جب مغرب کی نماز کا وقت ہوا تو دادا جی دادی جی نماز پڑھنے لگ گئے جبکہ چنوں اپنی کتابیں اور دیگر سامان کھول کر بیٹھ گیا اور ہلکی پھلکی شرارت اور مسکراہٹ کے ساتھ نماز پڑھنے کی بجائے ایک جگہ بیٹھ کر دکھاوے کی خاطر کتابوں کا مطالعہ کرنے لگا۔

    اس کا صاف مطلب تھا کہ چنوں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکا ہے اور اْسے کسی کی پرواہ نہیں۔اچانک دروازے پر دستک ہوئی تو دادا جی کو منوں دکھائی دیا،وہ خوشی سے پاگل ہو گئے۔یہی حال دادی جی اور چچا کا تھا جبکہ چنوں شرمندہ ہو گیا کیونکہ اْس کا جھوٹ پکڑا گیا تھا۔

     منوں نے تھوڑی دیر سستانے کے بعد اصل حقیقت سے اپنے دادا جی کو آگاہ کیا تو اس کے دادا دادی حیران رہ گئے۔

    منوں نے بتایا کہ وہ کوئی فلم دیکھنے نہیں گیا تھا بلکہ کالج کے پروفیسر صاحب اپنے گھر میں میلاد میں اْسے شامل ہونے کے لئے لے گئے تھے۔اْس نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔چنوں نے جھوٹ بولا ہے۔دادا اور دادی کو چنوں پر غصہ آیا۔اس سے پہلے کہ وہ چنوں کے خلاف کوئی قدم اْٹھاتے کہ چنوں کو فوراً ہی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا کہ اْس نے جھوٹ بولا تھا۔بہرحال منوں اور دادا دادی جی نے چنوں کی غلطی سے درگزر کیا اور اس کے جھوٹ کے پکڑے جانے کے باوجود معاف کر دیا۔

    چنوں شرمندہ سا ہو کر رہ گیا۔دادا جی نے منوں کے ساتھ ساتھ چنوں کو نصیحت کی کہ آئندہ وہ جھوٹ نہیں بولے گا اور سچی بات کہے گا۔چنوں نے معافی مانگی اور ایک مرتبہ پھر سب لوگ اتفاق سے اکٹھے رہنے لگے۔سچ ہے کہ جھوٹ بولنا بری بات ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -