پولیس ہیڈکوارٹر میں سنگین کوتاہی

پولیس ہیڈکوارٹر میں سنگین کوتاہی

  

کراچی میں پولیس ہیڈ کوارٹرز گارڈن میں ایک دستی بم پھٹنے سے دو پولیس اہلکار شہید ہوئے اور ایک شدید زخمی ہوا تھا۔ اس واقعے کی تحقیقات نے سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے کہ اسلحہ خانے میں صفائی کے دوران ہونے وا لے بم دھماکے میں پھٹنے والا بم اسلحہ خانے کا نہیں تھا بلکہ روسی ساخت کا تھا، آخر یہ بم وہاں کیسے آیا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تلاش کیا جانا بہت ضروری ہے۔پولیس فورس میں بے ضابطگیاں تو معمول کی بات لگتی ہے لیکن حساس نوعیت کے معاملات میں اتنی بڑی غفلت ادارے کے لیے شرمندگی کا باعث ہی نہیں بلکہ انتہائی تشویشناک بھی  ہے۔ تحقیقات کے بعد یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ اسلحہ خانے کی سیکیورٹی پاک فوج کے حوالے کی جائے  لیکن یہ مسئلے کاحل نہیں بلکہ پولیس ڈپارٹمنٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے انقلابی نوعیت کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ پولیس فورس، داخلی سلامتی اور حفاظت کے لیے بنائی گئی ہے لیکن سیاست کی دخل اندازی نے اسے منظم اور فعال نہیں رہنے دیا، یہ ادارہ جس ڈسپلن کا متقاضی ہے اسے اُس طرح ہی فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس ہیڈکوارٹر میں حساس نوعیت کی کوتاہی کا سامنے آنا عوام کے لیے بھی باعث تشویش ہے،وزیراعلیٰ سندھ کو اس واقعے کی تحقیقات کی روشنی میں میرٹ پر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ عوام کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کا مداوا کیا جا سکے۔

مزید :

رائے -اداریہ -