مقام و مرتبہ اہل ِ بیت اطہار علیہ السلام  (حصّہ اول)

مقام و مرتبہ اہل ِ بیت اطہار علیہ السلام  (حصّہ اول)
مقام و مرتبہ اہل ِ بیت اطہار علیہ السلام  (حصّہ اول)

  

 مسجد نبوی میں آقا کریم صلی اللہ علیہ و آل و سلم نماز کی امامت فرما رہے ہیں۔ کیا سحر انگیز منظر ہے۔ حالت سجدہ میں ہیں۔ سجدہ میں غیر معمولی طوالت ہے۔ صحابہ اکرام حالت سجدہ میں فکرمند ہیں کہ سجدہ خلافِ معمول طویل ہو گیا ہے۔ پھر مسجد نبوی کے در و دیوار ایک عجب منظر دیکھتے ہیں کہ خانوادہ رسالت صلی اللہ علیہ و آل وسلم کے دو کمسن شہزادے سیدنا امام حسنؓ  اور امام حسین ؓ  حالت سجدہ میں اپنے نانا سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آل وسلم کی پیٹھ مبارک پر سوار ہیں اور کریم آقا سجدہ سے سر نہ اْٹھا رہے ہیں کہ کہیں شہزادگان کے دلوں کو ٹھیس نہ پہنچے۔ صرف ایک مثال ہی کافی ہے یہ سمجھنے کے لیے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آل وسلم کو اپنے نواسوں سے کس قدر محبت، اُنس، پیار، وارفتگی اور وابستگی تھی۔ اہل بیت اطہار علیہ السلام کے مقام و مرتبہ کا تعیّن کرنا شاید اتنا آسان نہیں، الفاظ شاید اُن کے مقام و مرتبہ، اْنکے احترام، اْنکے تقدس کا احاطہ نہیں کر سکتے۔ مجھے اپنی کم علمی اور کم مائیگی کا احساس ہے لیکن اگر چند خوبصورت الفاظ کے سہارے اہل بیت اطہار کو خراجِ عقیدت پیش کر سکا تو یہ میرے لیے وہ سعادت، خوش بختی ہو گی کہ جس کے سامنے کائنات کی ہر رعنائی و زیبائی، دلبری، پذیرائی، تعیشاتِ زمن اور دنیاوی خزینے ہیچ اور کم تر نظر آتے ہیں۔ 

اہل بیت اطہار جن میں نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ و آل وسلم، مولا علی علیہ اسلام، بی بی فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا، سیدنا امام حسن  ؓ اور امام حسینؓ  شامل ہیں۔ یہ سب اس ارض کائنات میں ارب ہا اور کھرب ہا  پیدا ہونے والے انسانوں میں افضل ترین اور معزز ترین ہیں۔ ان نامور ہستیوں کا تو زبان پر ذکر ہی قلب و ذہن کو معطّر کر دیتا ہے، اور روح ایک عجب فرحت انگیز فیوض و برکات کا محور بن جاتی ہے اور اس کے تصور ہی سے دل و دماغ مرقّع فرحت و انبساط بن جاتے ہیں۔

کتنا خوش نصیب گھرانا ہے کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ و آل وسلم نے بشارت دی کہ مولا علیؓ  اور بی بی فاطمہ زہراؓ  کی شادی آسمانوں میں طے ہوئی کہ مولا علی کا گھر جنت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آل وسلم کے گھر کے قریب ترین ہو گا۔  بی بی فاطمہ الزہراؓ  جنت میں عورتوں کی سردار اور سیدنا امام حسنؓ اور امام حسینؓ  جنت میں نوجوانوں کے سردار ہوں گے۔ایک اور روایت کے مصداق یہ دونوں شہزادے جنت کے دروازوں پر موجود ہوں گے۔ کیا شان، کیا رتبہ اور کیا مقام ہے۔ سبحان اللہ۔ 

یہ مقام اس مقدس اور معتبر خاندان کو یقینا قربتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آل وسلم کی بدولت نصیب ہوا مگر اس انتہائی اعلیٰ و ارفع نسبت کے باوجود اہل بیت اطہار نے اپنے قول و فعل اور درخشندہ کردار سے ثابت کیا کہ اس میں اُن کی شب بیداریوں، اشکباریوں، نیاز مندیوں، دل گدازیوں، فقر و غنا، سخاوت، حْسن سلوک، شجاعت، بہادری، صبر و شکر، علوم و معارف اور اسرار و رموز سے یہ بات ثابت کی کہ وہ اس سعادت و احترام اور تقدّس کے جائز مستحق ہیں، کسی غریب و مسکین کو کھانا کھلانا اجر عظیم کا باعث ہوتا ہے اور از خود ایک بڑا کار خیر ہے مگر خود بھوکا ہوتے ہوئے غریبوں اور مسکینوں میں کھانا تقسیم کرنا صرف اہل بیت اطہار  کا ہی شیوہ اور طریقہ ہے۔ 

تمام دنیاوی وسائل دسترس میں ہوتے ہوئے زہد و تقوی اور درویشی اختیار کرنا ہی تو اس عظیم خاندان کا وتیرہ رہا ہے اور پھر اللہ تعالٰی نے اس عظیم خاندان پر جو لطف عمیم اور فضل کثیر و کبیر عطا کیے اس پر کسی قسم کے فخر و مباہات کا شائبہ بھی نہیں۔ اور دین مبین کی خدمت کے لیے ہمہ وقت پورے خلوص، جان سوزی اور استقامت کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔ کوئی بڑی سے بڑی رکاوٹ، مشکل، پریشانی، مصیبت اس خاندان کے پائے استقامت میں لغزش  پیدا نہ کر سکی  اور  اس دین ِ مبین کی حرمت اور بقا کے لیے چھ ماہ کے معصوم علی اصغر سمیت خاندان کے تمام نوجوانوں سے لے کر بزرگوں تک کی قربانی دے دی مگر یہ سر باطل کے سامنے سر نگوں نہ ہو سکے۔ تا آبد انسانیت کربلا کے ان مظلوم شہیدوں کی زیر احسان رہے گی کہ جنہوں نے حریّت ِ فکر کو اپنی لازوال قربانیوں سے ایک نئی جہت عطا کی۔ 

شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی اردو اور فارسی شاعری میں  نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آل وسلم کی ذات اقدس سے والہانہ عشق و نیاز مندی اور اہلِ بیت اطہار سے عقیدت اور وابستگی کا یوں اظہار ہوتا ہے کہ انسان جھوم جھوم جاتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آل وسلم  کے مقام و مرتبہ اور ان کی شخصیت کا خاکہ اقبال کچھ یوں کھینچتے ہیں۔

ہر کجا بینی جہانِ رنگ و بُو

آں کہ از خاکش بروید آرزو

یا زنورمصطفی اْو را بہا است

یا ہنوز اندر تلاش مصطفی است

اقبال کی فکر پارسا کے نزدیک اس کائنات کے سارے رنگ و بو اور اس مکان و لا مکان کی تمام وسعتیں اور اس چمنستان دہر میں کھلنے والے والے گلہائے رنگا رنگ، اقتدارِ زمانہ کے نشیب و فراز یہ سب سرکار صلی اللہ علیہ و آل وسلم کے نور کا مظہر ہی تو ہیں اور اگر اس ساری کائنات میں کوئی تشنگی باقی ہے تو یہ سارا نظام حیات مرکز کائنات حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آل وسلم کے نور کی تلاش میں ہے“۔

پھر علامہ محمد اقبالؒ مولا علی علیہ اسلام کی شان بیان کرتے ہوئے اپنی عقیدت کا اظہار یوں کرتے ہیں۔ 

مسلم اول شہہ مردان علی 

عشق را سرمایہ ایمان علی 

از ولائے دودمانش زندہ ام

درجہان مثل گہر تابندہ ام

سبحان اللہ کیا ندرت خیال ہے کہ مولا علی علیہ السلام کی شان اور سب سے پہلے ایمان لانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اقبال یوں گویا ہوئے کہ رگوں میں خون کی گردش اور جسم کی حرارت سیدنا علی علیہ اسلام کے خاندان سے محبت کی وجہ سے ہے اور اسی محبت کے وسیلہ و تصدق سے میں میدان علم و ادب میں موتیوں کی طرح جگمگا رہا ہوں۔   (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -