وزیراعلیٰ پنجاب کی علماء سے پہلی باضابطہ ملاقات 

وزیراعلیٰ پنجاب کی علماء سے پہلی باضابطہ ملاقات 
وزیراعلیٰ پنجاب کی علماء سے پہلی باضابطہ ملاقات 

  

 وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے محرم الحرام  کے حوالے سے بین المسالک ہم آہنگی کمیٹی کے اجلاس میں مختلف مسالک کے علماء سے ملاقات کا اہتمام کیا جس کا انتظام محکمہ اوقاف و مذہبی امور کی جانب سے کیا گیا تھا۔وزارت اعلیٰ کاحلف اٹھانے کے بعد ان کی مذہبی حلقوں سے یہ پہلی باقاعدہ ملاقات تھی جس میں وہ خاصے پرجوش دکھائی دے رہے تھے۔ ہال میں داخل ہوتے ہی سب علماء سے فرداً فرداً بڑے تپاک سے ملے اور سب نے انہیں منصب سنبھالنے پر مبارک باد بھی دی۔چوہدری پرویز الٰہی کے سابقہ ادوار میں بھی دینی حلقوں خصوصا علماء  سے ان کی قربت رہی اور وہ مذہبی حلقوں کے مسائل کے حوالے سے پیش پیش رہے اسی لیے اس تقریب میں ان کے حوالے سے ہر کسی نے خیر مقدمی اور محبت بھرے جملوں کا اظہار کیا۔محرم الحرام کے حوالے سے بین المسالک ہم آہنگی  کے حوالے سے محکمہ اوقاف و مذہبی امور کی خدمات بہت قابل ستائش ہیں۔ اس تقریب میں ضلعی انتظامیہ کے کم وبیش تمام افسر بھی موجود تھے۔

علماء کی طرف سے جو بھی رائے یا تجویز دی گئی  اس کے حوالے سے چوہدری صاحب کی طرف سے فوری متعلقہ افسر کو احکامات جاری کیے جا رہے تھے جو ایک نہایت خوشگوارعمل تھا،کم و بیش جسے بھی بات کرنے کا موقع ملا اس نے بطور سپیکر پنجاب اسمبلی ختم نبوت کی آیات اور اس حوالے سے حدیث مبارکہ کو اسمبلی کی عمارت پر کندہ کروانے پر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا بطور وزیراعلیٰ انہوں نے سرکاری محکموں میں بھی ختم نبوت کے حوالے سے آیات اور حدیث مبارکہ کو آویزاں کرنے کا حکم دے رکھا ہے جس پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ نکاح فارم میں بھی ختم نبوت کا خانہ شامل کرنے کا  آرڈر کر دیا گیا ہے جس کے لیے نئے فارمز کو جلد از جلد مکمل کر کے تمام صوبے میں پہنچانے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔چوہدری پرویز الٰہی صاحب کے سابقہ دور میں ایک شاندار کارنامہ ”پنجاب قرآن اینڈ سیرت انسٹیٹیوٹ“ کی صورت  میں بھی سامنے آیا جس کی پرشکوہ عمارت لاہور کی اہم شاہراہ پر واقع ہے لیکن بدقسمتی سے حکومتوں کی تبدیلی کے سبب یہ ادارہ پوری طرح فعال نہیں ہو سکا۔اس تقریب میں اس ادارے کی عمارت اور اسے بھرپور فعال کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا میری خواہش تھی کہ ہم پہلی ملاقات وہیں پہ رکھتے لیکن محرم کی وجہ سے امن و امان کی فوری صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی طور پر یہیں آپ کو زحمت دینا پڑی، چند لوگوں کو ہی بات کرنے کا موقع  مل سکا اگر ابتدائی مقرر وقت کے حوالے سے ایک ضابطہ طے کر لیتے تو بعد والوں کو کلیتاً اختصار سے کام نہ لینا پڑتا اور زیادہ لوگوں کو بات کرنے اور اپنی تجاویز پیش کرنے کا موقع مل جاتا۔گفتگو کے دوران ہی ظہرانہ بھی پیش کیا جاتا رہا، چوہدری صاحب جہاندیدہ آدمی ہیں انہوں نے اس اہم تقریب کے لیے کھانے کا اہتمام بھی علماء کی شایان شان کر رکھا تھا جسے اس میٹنگ کے دوران ہی وزیراعلیٰ ہاؤس کا عملہ سرو کرتا رہا، یعنی  بہت سلیقے سے کسی کو بھی کھل کھیلنے کا موقع نہیں دیا گیا۔بہت عرصے بعد میٹھے میں حلوے کا اہتمام نظر آیا جو شرکائے محفل کے مزاج کے عین مطابق تھا۔ اسے بھی خاص مقدار میں ہی خود ڈال کر پیش کیا گیا اور کم و بیش سب نے بڑے اہتمام سے تناول فرمایا۔شکر ہے اتنے جم غفیر میں کوئی بھی شوگر سے متاثر دکھائی نہیں دیا ورنہ حلوے میں میٹھا اچھا خاصا تھا اور برتن خالی ہی واپس گئے۔وزیراعلیٰ  پنجاب نے علماء سے اس پہلی ملاقات میں بہت دوستانہ ماحول رکھا،سب کی بات سنی اور سب کے بات کر لینے کے بعد بھی پوچھا کہ کوئی اور بھی اگر بات کرنا چاہتا ہے تو ضرور کرے لیکن تب تک کھانے کا دور بھی مکمل ہو چکا تھا اور باتیں بھی، ڈائریکٹر جنرل اوقاف سید طاہر رضا بخاری نے مشترکہ اعلامیہ بھی پڑھ کر سنایا جس میں تمام مکاتب فکر کی طرف سے باہمی احترام، اتحاد اور یکجہتی کو قائم رکھنے کا اعادہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے بھی کوئی رسمی تقریر نہیں کی بلکہ تجاویز کے ساتھ ساتھ ہی احکامات جاری کرتے رہے راجہ بشارت صاحب کی سربراہی میں ایک مستقل کمیٹی بھی قائم کر دی گئی جو علماء کے ساتھ رابطے اور ان کو درپیش مسائل کے حوالے سے اپنی خدمات پیش کرتی رہے گی۔

محرم کے دنوں میں ہر روز انتظامی میٹنگ اور ڈسٹرکٹ وائز اپ ڈیٹ رکھنے کا بھی حکم جاری کیا گیا۔تقریب کے بعد بھی وہ علماء کے ساتھ گھل مل گئے اور جانے میں غیر ضروری جلدی نہیں کی، بطور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری صاحب سے نعت کے حوالے سے ایک تعلق قائم رہا اور اسی مناسبت سے میں نے بھی  انہیں مبارک باد دیتے ہوئے موقع کو غنیمت جانا اور کہا کہ آپ نے قرآن اور سیرت کے لیے ادارہ قائم کیا جس کی نیک نامی کی گونج آج بھی سنائی دے رہی ہے سو میری گزارش ہے کہ اسی طرز پر نعت کے فروغ کے لیے بھی ایک ادارہ قائم کر دیجئے کہ نئی نسل کی اس فن میں تربیت کے حوالے سے اس کی ضرورت عرصے سے محسوس کی جا رہی ہے جس پر انہوں نے ابتدائی آمادگی کا اظہار بھی فرمایا لیکن ظاہر ہے کہ ان چیزوں کو عملی طور پر پایہئ تکمیل تک پہنچنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی کے دینی شغف اور نعت سے قلبی لگاؤ کے سبب یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ”پلاک“ اور ”پنجاب قرآن اینڈ سیرت انسٹیٹیوٹ“ کی طرح  اس ادارے کے قیام پر بھی عشاقان رسولؐ کو جلد کوئی خوش خبری سنائیں گے۔میں نے نعت کا ایک ادنیٰ خدمت گزار ہونے کی حیثیت سے  اپنی ذمہ داری کا پہلا قدم بڑھا دیا ہے اور اب  جہاں بھی موقع ملا یاد دہانی کرواتا رہوں گا۔ آگے جو خدا کی مرضی۔

مزید :

رائے -کالم -