کیا استحصالی نظام ختم ہو سکتا ہے؟

 کیا استحصالی نظام ختم ہو سکتا ہے؟
 کیا استحصالی نظام ختم ہو سکتا ہے؟

  

 ملک میں جتنی بڑی سیاسی جماعتیں ہیں وہ سب غریبوں کے ”غم“ میں دبلی ہوتی جا رہی ہیں،یہ جماعتیں ایک یا ایک سے زیادہ مرتبہ اقتدار میں رہیں، غریبوں کا نام تو لیا جاتا رہا لیکن ان کی قسمت نہ بدل سکی کہ یہاں درویشی ہو یا امارت یہ دھوکا ہی ہوتا ہے،عوام قیام پاکستان سے پہلے کسی غیر کے کسی اور انداز میں غلام تھے، بعداز آزادی ان کے نصیب میں اپنوں کی غلامی لکھ دی گئی ابتدا سے آج تک تاریخ کا مطالعہ کر لیں کہ جو حضرات نظام کی تبدیلی اور عوام کی بھلائی کا نعرہ لگاتے اقتدار میں آتے رہے،انہوں نے مسندیں سنبھالنے کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا،اور یہ جو عوام ہیں، ہر بار خود کو فریب دیتے چلے آ رہے ہیں،ایک دور  تھا جب اسی ملک میں تین طبقات ہوتے تھے،اشرافیہ اور عام عوام کے درمیان ایک درمیانہ طبقہ بھی ہوتا تھا جو بتدریج کم ہونا شروع ہوا اور بالآخر برائے نام رہ گیا، اب تو زیادہ سے زیادہ نچلا درمیانہ طبقہ ہے اسے اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ ملک کی فکر ہوتی ہے اور یہ طبقہ خود مسلسل استحصال کا شکار ہے،اسے اتنی فرصت ہی نہیں ملتی کہ سوچ سکے اور اپنی بہبود کے لیے کچھ کرے۔رہ گیا غریب تو اسے دن رات پیٹ کی آگ بچھانے کے لیے محنت اور مشقت سے فرصت نہیں یا پھر ان پر ایسا وقت آتا ہے، جب وہ بچوں سمیت اپنی جان دے دیتے ہیں،آج کی جو بھی لیڈر شپ ہے، عوام اور غریب کا نام لیتے لیتے ان کے گلے خشک ہو جاتے ہیں،لیکن غریب کا بھلا نہیں ہوتا اور یہ طبقات ہیں کہ اچھے دِنوں کی آس میں ہر بار دھوکا کھاتے اور نعرے لگاتے ہیں،حتیٰ کہ انتخابی جھگڑا ہو تو جان بھی قربان کر دیتے ہیں۔

میں جب سے پیشہ صحافت میں ہوں تب سے اب تک نہ تو لیڈران کرام نے غریب کی بات کرنا چھوڑی اور نہ ہی غریب کی حالت  بدلی، البتہ بعض ”مخیر رہنما“ سبسڈی کے نام پر ان غریبوں کو دھوپ اور بارش میں چند روپوں کی رعایت کے لیے قطاروں میں کھڑا ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں،آج مجھے یہ خیال تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی ویروزہ تقریر کے ایک فقرے سے آیا ہے۔ وہ کہتے ہیں انہوں نے (مخاطب مخالفین ہیں) مڈل کلاس کو تباہ کر دیا ہے، یہ پیسے کے زور پر انتخابات میں حصہ لیتے ہیں اور مڈل کلاسیا ایسا کر نہیں سکتا کہ اس کے وسائل ہی نہیں ہوتے۔بصد ادب عرض کروں گا کہ محترم کپتان درست فرماتے ہیں تاہم یہ سوال پوچھنے کی جسارت ضرور کروں گا کہ انہوں نے اپنے چار سالہ دور میں وہ کون سی اصلاحات کیں جن کی وجہ سے نچلے اور نچلے درمیانہ طبقہ کو سُکھ کا سانس لینا نصیب ہوا، کیا ملک میں مفت تعلیم اور مفت علاج  کے ساتھ میرٹ کی بنیاد پر ملازمتیں ملیں، کپتان صاحب! آپ نے بھی تو اسی نظام میں رہ کر نظام تبدیل کرنے کی بات کی لیکن کوئی بھی ایسا عمل نہ کیا کہ پورا نظام تبدیل نہ بھی ہو تو کم از کم ان محروم طبقات کی کوئی محرومی ختم ہو جاتی،بلاشبہ اشرافیہ اور حاکم بڑی بڑی لگژری کاروں اور ہوائی جہازوں میں سیر سپاتے کرتے رہیں، ہمیں ان سے کیا لینا دینا، لیکن یہ پوچھنا تو میرا حق ہے کہ محترم آپ نے ہمارے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا، ایسے بڑے منصوبے بنائے جن کے حوالے سے روز گار بھی ملتا، میں آپ کو داد دیتا ہوں کہ آپ نے لنگر خانے اور مہمان خانے شروع کر کے ان طبقات کو معذور بنانے کی بھرپور سعی کی قبلہ آپ نے مکمل علاج کی جگہ صحت کارڈ کا اجرا کر کے بہت بڑا کارنامہ انجام دیا حالانکہ یہ ایک اور کاروبار ہے کہ علاج کی ادائیگی انشورنس کمپنی کرتی ہے، لیکن کبھی آپ نے مڑ کر دیکھا کہ اس سات لاکھ روپے والے صحت کارڈ کی شرائط کیا ہیں اور بڑے ہسپتال والوں نے کس کس طرح اس صحت کارڈ سے استفادہ کیا اور کارڈ والے صحت یاب تو کیا ہوتے مزید بیمار ہو کر رہ گئے۔

معذرت خواہ ہوں کہ آج دل جلا کر بات کر رہا ہوں، میں نے تو وہ دور بھی دیکھا جب میرے اس ملک میں راج کرے گی خلق ِ خدا اور برابری(مساوات) کے حوالے سے سوشلزم کا نعرہ لگایا گیا، نوبت یہاں تک آ گئی کہ ایشیا سرخ ہے اور ایشیا سبز ہے کے نعرے لگاتے ہوئے نوجوان آمنے سامنے آ گئے، فساد ہوتے رہے، سر پھٹتے چلے گئے، حتیٰ کہ بعض اموات بھی ہوئیں لیکن سوشلزم کا معاشی اور اقتصادی نظام یہاں نہ آ سکا، حبیب جالب کو کہنا پڑا،”چین اپنا یار ہے، اس پر جاں نثار ہے، پر وہاں ہے جو نظام دور سے اسے سلام“ اپنی ہڈ بیتی سناؤں جب بھٹو نے جماعت بنائی، ترقی پسند حضرات نے منشور تیار کیا اور ایک بنیادی نکتہ ”سوشلزم ہماری معیشت ہے“ بھی رکھا، ہم جیسے نوجوان دیوانہ وار لپکے اور یہ تصور کر لیا کہ اب تو انقلاب آئے گا اور ملک میں مساواتی نظام ہو گا اس حوالے سے ایک روز اپنے ایک بزرگ سے شکایت کی اور ہدایت حاصل کرنے کی کوشش کی،ان کو بتایا کہ لوگوں  میں یہ تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ سوشلزم والے اقتدار میں آ گئے تو آپ کا سب کچھ چھین لیں گے، سب کچھ قومی ملکیت میں لے لیا جائے گا، مجھے جواب ملا، ایسا نہیں ہو گا، ان کو سمجھاؤ کہ ایک حد متعین ہو گی،لوگ اپنا کاروبار کر سکیں گے، پانچ لاکھ روپے تک کی ملکیت اور کاروبار پر کوئی قدغن نہیں ہوگی،اس وقت ہمیں یہ فلسفہ سمجھ میں نہ آیا تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ خود ان بزرگ رہنما کی اس وقت اپنی حیثیت پانچ لاکھ کی تھی(یہ1969ء کی بات ہے تب سے پانچ لاکھ آج کے کتنے ہوئے اندازہ لگا لیں)۔ پھر اسی سوشلزم کو مساوات اور مساوات محمدی بنایا گیا اور صنعتیں، تعلیمی ادارے قومی ملکیت کے نام پر سٹیٹ کنٹرول میں لے لئے گئے۔

یہ سب اس ملک میں ہوا، پھر ایک دور وہ بھی آیا جب میرے دین متین کے نام پر کوڑے برسائے اور قید کی سزائیں دی گئیں لیکن نظام مصطفےٰ ؐ کا نفاذ تو دور کی بات یہاں استحصال کی نئی شکلیں سامنے آ گئیں، میں نہ تو حسد کرتا ہوں اور نہ ہی جل رہا ہوں البتہ دُکھی ضرور ہوں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا اور کیا ہو رہا ہے،یہاں تو ہر برسر اقتدار والوں نے اپنی رشتہ داریاں اور دوستاں  نبھائیں۔محترم کپتان صاحب آپ کے وزراء نے بھی مختلف کونے تلاش کر کے اپنے دوستوں کو نوازا اور حکومت کی تبدیلی کے باوجود وہ ”حریت کے پیکر“ ابھی تک براجمان ہیں، اس لیے جب آپ نے مڈل کلاسیوں کی بات کی تو میرا دِل بھر آیا ہے، میں عمر کے اس آخری حصے میں اب کچھ اور کر بھی نہیں سکتا، یہی بہت غنیمت کہ اللہ نے ہاتھ پاؤں سلامت رکھے ہیں اور میں کچن کے اخراجات میں اپنا کچھ حصہ ڈال لیتا ہوں،ورنہ تو میری بھی عمر انقلاب ہی کے خواب میں بیت چلی ہے، استدعا ہے آپ سمیت سب سیاسی قائدین اور جماعتوں کے اکابرین سے اللہ کے نام پر ایسی باتیں کیوں کرتے ہو، جن پر عمل  نہیں کرنا،جس نظام کو آپ لوگ چلا رہے ہیں اس میں غریب غلام ہی رہے گا۔

مزید :

رائے -کالم -