موبی لنک مائیکروفنانس بینک کا سی بی اے سے اشتراک 

موبی لنک مائیکروفنانس بینک کا سی بی اے سے اشتراک 

  

لاہور(پ ر) پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل بینک، موبی لنک مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ (ایم ایم بی ایل) اور ملک میں چھوٹے کاروبار کے فروغ کے لئے فعال صف اول کے ڈیجیٹل ڈسٹری بیوشن پلیٹ فارم،کمیونٹی بزنس ایجنٹ (سی بی اے) نے ملک بھر میں لوگوں کیلئے اعلیٰ معیار کی ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کی رسائی بڑھانے کے لئے اشتراک کیا ہے۔ اس اشتراک کی بدولت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور بہتر مالیاتی خواندگی کے ذریعے مالی مصنوعات اور خدمات کی رسائی مزید مستحکم ہوگی۔ ایم ایم بی ایل کے چیف فنانس اینڈ ڈیجیٹل آفیسر، سردار محمد ابوبکر اور سی بی اے کے سی ای او،غضنفر علی خان نے اسلام آباد میں ایم ایم بی ایل کے ہیڈ آفس میں اس دلچسپ معاہدے پر دونوں اداروں کی سینئر انتظامیہ کی موجودگی میں دستخط کئے۔ ایم ایم بی ایل ملک میں صف اول کا مالیاتی سہولیات پیش کرنے والا قابل ذکر ادارہ ہے جو ملک میں ڈیجیٹل سہولیات سے محروم لوگوں کو مکمل طور پر خدمات پیش کرنے کا خواہاں ہے۔ بینک جدت انگیز ڈیجیٹل اور مالیاتی خدمات کے پورٹ فولیو کی تفصیلات کا فائدہ اٹھاتا ہے تاکہ کاروباری افراد اور چھوٹے و درمیانی کاروباری اداروں کو بالخصوص دور دراز علاقوں میں باسہولت انداز سے بینک کی مصنوعات اور خدمات کی مسلسل رسائی  حاصل ہو۔ دوسری جانب، سی بی اے ملک میں 20ہزار سے زائد ریٹیلرز کے ساتھ سب سے بڑا ڈیجیٹل ڈسٹری بیوشن پلیٹ فارم ہے جو ون اسٹاپ ریٹیل سہولیات فراہم کرتا ہے جن میں ٹیل کوز کا ایئر ٹائم، یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی، ڈیجیٹل ٹکٹنگ، ای واؤچرز، موبائل ہینڈ سیٹس کی خریداری، کورئیر خدمات اور قرضوں کی ادائیگی شامل ہیں۔ ایم ایم بی ایل کے سی ایف ڈی او، سردار محمد ابوبکر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "سی بی اے کے ساتھ اشتراک پر ہم نہایت پرجوش ہیں۔ اس اشتراک کی بدولت اپنا کام کرنے والوں اور چھوٹے کاروباری اداروں کو مالیاتی خدمات کی باسہولت رسائی کا ہمارا عزم مزید مستحکم ہوتا ہے۔ ایم ایم بی ایل اور سی بی اے سرمائے کی بہتر رسائی کے ذریعے مثبت معاشی ترقی کا یکساں جذبہ رکھتے ہیں۔

 اسی وجہ سے ہم یہ ملاحظہ کرنے کے لئے پرجوش ہیں کہ یہ اشتراک کس سمت میں پیش قدمی کرتا ہے۔ مزید برآں، ہمارے مشترکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بدولت بینکنگ کا دائرہ کار ان علاقوں میں بڑھانے کی سہولت میسر آئے گی جہاں عملی نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔ اسکی وجہ سے مزید چھوٹے و درمیانی کاروباری ادارے اپنا کام پھیلا سکیں گے اور پائیداری کے اگلے سفر پر گامزن ہوسکیں گے۔ "

مزید :

کامرس -