لانگ مارچ توڑ پھوڑ، پولیس نے پی ٹی آئی رہنماؤں کوبے گناہ قرار دیدیا

لانگ مارچ توڑ پھوڑ، پولیس نے پی ٹی آئی رہنماؤں کوبے گناہ قرار دیدیا

  

لاہور(نامہ نگار)انسداد دہشتگردی کی عدالت نے 25مئی کو آزادی مارچ کے دوران توڑ پھوڑ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس پر تشدد کے مقدمہ سے دہشت گردی کی دفعات ختم کر کے کیس سیشن عدالت منتقل کرنے کاحکم دیتے ہوئے ضمانت کی درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پرکیس نمٹا دیا، عدالت نے پولیس کی جانب سے توڑ پھوڑ کے 4مقدمات میں ملوث پی ٹی آئی کے رہنما شفقت محمود اور ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت 14رہنماؤں کو پولیس نے بے گناہ قراردیئے جانے پرمذکورہ بالاحکم جاری کیا  گزشتہ روزعدالت میں پی ٹی آئی کے ہنماؤں یاسمین راشد، شفقت محمود، میاں اسلم اقبال، میاں محمود الرشید، عندلیب عباس اور جمشید چیمہ ضمانت کے لئے پیش ہوئے،پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے برھان معظم ایڈووکیٹ نے موقف اختیارکیا کہ سابق حکومت نے سیاسی بنیادوں پر یہ مقدمہ درج کروایاتمام پی ٹی آئی رہنماء پرامن مارچ کے ساتھ اسلام آباد جانا چاہتے تھے،مگر ریاستی اداروں نے طاقت کا استعمال کیا،جسے میڈیا پر دکھایا بھی گیا،دوران سماعت پولیس نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ مقدمات میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات ختم کر دی گئی ہیں،انہیں ملزمان کی گرفتاری مطلوب نہیں،پولیس کی رپورٹ پر پی ٹی آئی رہنماؤں نے ضمانتوں کی درخواستیں واپس لے لیں جس کی بنا پر عدالت نے مذکورہ بالاحکم جاری کردیا  پی ٹی آئی رہنماؤں پر تھانہ شفیق آباد، شاہدرہ، گلبرگ اور بھاٹی گیٹ میں مقدمات درج ہیں۔

پی ٹی رہنما

مزید :

صفحہ آخر -