عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کے عوام پر بھارتی مظالم رکوائے، معظم احمد

عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کے عوام پر بھارتی مظالم رکوائے، معظم احمد

  

برمنگھم (سپورٹس رپورٹر) مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کو بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی تیسری برسی کے موقع پر پاکستانی ہائی کمیشن لندن نے یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے ایک سیمینار اور تصویری نمائش کا اہتمام کیا۔سیمینار میں بڑی تعداد میں برطانوی پارلیمنٹیرینز، کشمیری رہنماؤں، ماہرین تعلیم، میڈیا کے نمائندوں اور سول سوسائٹی کے نامور ارکان نے شرکت کی۔ سیمینار میں شرکت کرنے والے برطانوی پارلیمنٹیرینز میں ایم پی اینڈریو گیوین، لارڈ قربان حسین، لارڈ واجد خان، ایم پی پال برسٹو، ایم پی یاسمین قریشی، ایم پی عمران حسین، ایم۔پی خالد محمود، ایم پی افضل خان اور انس سرور شامل تھے۔ اس موقع پر کشمیری رہنما عبدالرشید ترابی، معروف تاریخ دان وکٹوریہ شوفیلڈ، محمد شفق، سابق ایم ای پی راجہ نجابت حسین، صدر جے کے سی ایچ آر ڈاکٹر نذیر گیلانی اور کشمیری نوجوانوں کے نمائندے مزمل ایوب ٹھاکر نے بھی خطاب کیا۔ہائی کمشنر معظم احمد خان نے اس موقع پر اپنے ریمارکس میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے مصیبت زدہ عوام پہلے سے کہیں زیادہ عالمی برادری کی حمایت اور یکجہتی کے مستحق ہیں کیونکہ بھارتی مظالم نہ صرف مسلسل جاری رہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید بڑھتے گئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہندوتوا سے متاثر ہندوستان کی بی جے پی حکومت کشمیریوں کی آبادی، ثقافتی شناخت اور سیاسی امتیازات کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے تقریباً تین سال قبل 5 اگست 2019 کو شروع ہونے والا مذموم منصوبہ پوری رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ہائی کمشنر نے کہا کہ 900,000 بھارتی قابض افواج نے بدترین فوجی محاصرے میں کشمیریوں کو یرغمال بنائے رکھا اور نسل کشی کی سطح پر مظالم ڈھائے گئے جس پر عالمی برادری کو مداخلت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے منصفانہ مقصد کے لیے پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا۔مقررین نے بھارتی قابض افواج کی طرف سے کشمیری عوام پر جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔ انہوں نے 05 اگست 2019 سے بھارتی اقدامات کو غیر قانونی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور ان کی غیر مشروط منسوخی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بھارت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے، اور تنازعہ پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کے لیے اقدامات کرے۔ مقررین کی جانب سے قید کشمیری رہنما یاسین ملک کی رہائی اور انصاف کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ برطانیہ اور بھارت کے درمیان کسی بھی آزاد تجارتی معاہدے کا تعلق مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے احترام اور استثنیٰ کے کلچر کے خاتمے سے ہونا چاہیے۔پاکستان ہائی کمیشن نے ایک تصویری نمائش کا بھی انعقاد کیا جس میں کشمیری عوام کی حالت زار اور بھارتی فوجی محاصرے میں زندگی گزارنے والے کشمیریوں کے مصائب کی عکاسی کی گئی۔ کشمیریوں کی بڑی تعداد نے نمائش کا دورہ کیا اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

 معظم احمد

مزید :

صفحہ آخر -