حکومت نے بارش، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی 

حکومت نے بارش، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی 

  

       اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) وزیرِ اعظم کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کردی جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے وزراتِ خزانہ کو فوری طور پر 5 ارب روپے این ڈی ایم اے کو جاری کر نے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ سیلاب متاثرین کی ریسکیو، ریلیف اور بحالی ایک قومی فریضہ ہے۔ ہمیں اپنے جماعتی مفادات سے بالا تر ہو کر عوام کی مدد کرنی ہے،ہم سیاست بعد میں کریں گے۔ ابھی اْن لوگوں کی مشکلات کا مداوا کرنے کا وقت ہے جو سخت مشکل میں ہیں،سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دوروں کے دوران میں نے اتحاد اور قومی یگانگت کی بات کی تاکہ ہم سب مل کر اس بہت بڑے چیلنج سے نمٹ سکیں۔ جمعہ کو وزیراعظم نے این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (PDMAs) کے درمیان ریسکیو اور ریلیف کے کام کو موثر انداز سے سرانجام دینے کیلئے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی،یہ کمیٹی وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال، وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسد محمود، وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس مولانا عبدالواسع، وزیر برائے پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی، امور کشمیر وگلگت بلتستان کے لیے وزیراعظم کے مشیر قمر الزمان کائرہ، چیئرمین این ڈی ایم اے اور سیکرٹری وزارتِ مواصلات پر مشتمل ہوگی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ کمیٹی آج ہی اپنا اجلاس منعقد کرے اور وفاقی اور صوبائی اداروں میں کوارڈینیشن کو بہتر کرنے کے لیے اپنی تجاویز پیش کرے۔وزیراعظم نے کہاکہ ملک میں موسمیاتی تبدیلی کے پیشِ نظر، وسط مدتی سے طویل مدتی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم  نے کہاکہ صوبائی حکومتیں مستند معلومات پر مبنی رپورٹس وفاقی حکومت کو ارسال کریں تاکہ سیلاب اور بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا جلد از جلد تخمینہ لگایا جاسکے۔ وزیراعظم نے کہاکہ ملک میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کو موسمیاتی تبدیلی کی ترجیحات کے مطابق  ڈھالنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں سیلاب اور بارشوں کے نقصانات سے بچاجاسکے۔ 

ایمر جنسی

ڈیرہ غازی خان(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)  وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف  نے ڈیرہ غازی خان کے دورے کے موقع پر جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثا کو 10 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان  کر دیا۔ جمعہ کو سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے پر وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف جمعہ 5 اگست کو ڈیرہ غازی خان    پہنچے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے وفاق کی جانب سے ورثا کو 10، 10 لاکھ روپے بطور امداد دینے کا اعلان کیا، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیلاب سے فصلوں کے نقصان کا مشترکہ سروے کیا جائے گا، جب کہ مکانات کی دوبارہ تعمیر کیلئے 5 لاکھ روپے دئیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں اور دیگر اشیا کے نقصانات پر چیف سیکریٹری ینے سروے کرلیا ہے لیکن وفاق نے طے کیا ہے کہ صوبوں کے ساتھ مل کر یہ سروے مکمل کیا جائے گا تاکہ حق دار کو اس کا حق ملے۔ شہباز شریف نے کہا یہاں ہمارے نوجوان وائس چیئرمین احمد خان کی جانب سے پانی کا چینل بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ان شا اللہ یہ آپ کو بنا کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس وقت آپ سے اتنا ہی وعدہ کر سکتا ہوں کیونکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل کی تقسیم کے معاہدے کے مطابق 58فیصد صوبوں کو چلا جاتا ہے، لہذا صوبائی حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ  صوبے کے عوام کی بھلائی، خوشحالی اور ترقی کے لیے وسائل استعمال کریں اور وہ یقینا ایسا ضرور کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا 2010 میں ہونے والے اس معاہدے کے نتیجے میں وفاق کے پاس اتنے وسائل نہیں رہ جاتے اس لیے میں نے بطور وزیراعلی بھی وفاق سے کبھی وسائل کا مطالبہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کو اپنے پاس موجود وسائل میں سے اربوں روپے کے قرضوں پر سود ادا کرنا ہوتا ہے، وفاقی افسران کی تنخواہیں ادا کرنی ہوتی ہیں، افواج پاکستان کی تنخواہیں بھی اس میں سے جاتی ہیں، اس کے بعد وفاق کے پاس کچھ نہیں بچتا۔ شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال وفاق اور صوبائی حکومت کا مشترکہ چیلنج ہے، ان شا اللہ مل کر ہم اس سے نمٹیں گے، میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ جب تک آخری گھر آباد نہیں ہوجاتا میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ حکام کی جانب سے جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران ریسکیو اور ریلیف کے کاموں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے متاثرین کیلئے مختص فنڈز بحالی پروگرام کی جلد تکمیل کیلئے فوری خرچ کرنے کا حکم دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں صوبائی حکومتوں سے مل کر کام کر رہے ہیں، انہوں نے ہدایت کی کہ امدادی رقم سیلاب متاثرین پر خرچ ہونی چاہیے۔ ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں سیلاب اوربارشوں کی وجہ سے اموات کی کل تعداد 549 جب کہ زخمیوں کی تعداد 628 ریکارڈ کی گئی ہے۔ زخمیوں میں کوئی بھی تشویش ناک حالت میں نہیں۔سیلاب اور بارشوں کے باعث 46،219 مکانات کو نقصان پہنچا،متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ این ڈی ایم اے کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 30 سالہ اوسط ریکارڈ کے مقابلے میں ملک بھر میں 133 فیصد سے زائد بارشیں ہوئی ہیں۔ پنجاب میں 101 فیصد، خیبرپختونخواہ میں 26 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں۔ بلوچستان میں 305فیصد اور سندھ میں 218 فیصد زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ گلگت بلتستان میں 68،آزاد جموں کشمیر میں 9 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں سیلاب اور بارشوں کے باعث مختلف واقعات میں 11 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ سیلاب متاثرین کیلئے فی کس 10 لاکھ کے امدادی چیک کی ترسیل جاری ہے۔ قبل ازیں حالیہ مون سون  بارش اور سیلاب کی تباہی سے متاثر ہونے والے علاقوں کے دورے کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف راجن پور اور لسبیلہ بھی گئے۔

شہباز شریف دورہ

مزید :

صفحہ اول -