بجٹ تجاویز کو سنجیدہ لینا صوبائی حکومت کی ذمہ داری قرار 

  بجٹ تجاویز کو سنجیدہ لینا صوبائی حکومت کی ذمہ داری قرار 

  

پشاور(سٹی رپورٹر)سب نیشنل گورننس پروگرام ٹیم نے بجٹ تیاری میں بزنس کمیونٹی سمیت دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور تجاویز کو سنجیدگی سے لینے پر زور دیا ہے غیر سنجیدگی کو ترقی کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ قرار دے دیا، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس نے بھی اس کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ تیاری سے قبل عوام سمیت ہر ایک کی مشکلات کو سنا جائے تاکہ قابل عمل بجٹ بنایا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز ایف پی سی سی آئی ریجنل آفس پشاور میں ایس این جی (سب نیشنل گورننس پروگرام) کی ٹیم کے ساتھ اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں ایف پی سی سی آئی کے کوآرڈینیٹر سرتاج احمد خان، سارک چیمبر کے نائب صدر حاجی غلام علی، جیمز اینڈ جیولری کے منہاج باچا، بزنس کمیونٹی کے سینیئر رہنماعدنان جلیل،چترال، چارسدہ اور مہمند چیمبر کے عہدیداروں سمیت دیگر شریک تھے۔ این این جی ٹیم جو کہ بجٹ کے حوالے سے پورے ملک میں سروے کرکے زمینی حقائق پر مفصل رپورٹ تیار کرتی ہے کے عہدیداروں نے خیبر پختونخوا کی بزنس کمیونٹی سے صوبے کے حالیہ پیش ہونے والے بجٹ اور اس میں دی جانے والی تجاویز و مشاورت بارے دریافت کیا۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے دیگر مقررین سمیت حاجی غلام علی، سرتاج احمد خان اور عدنان جلیل نے بجٹ تیاری کے روائیتی کاپی پیسٹ انداز کو انتہائی غیر سنجیدگی قرار دیا اور کہا کہ دنیا میں جن ممالک نے معاشی طور پر ترقی کی ہے ان کے طریقہ کار کو دیکھا جائے تو وہ لوگ بجٹ بنانے سے قبل تمام تر متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے نہ صرف مشاورت کرتے ہیں بلکہ ان سے ملنے والی تجاویز کو بجٹ کا حصہ بناتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں بدقسمتی سے ایسا نہیں کیا جاتا۔ شرکا کا کہنا تھا کہ حالیہ بجٹ میں بھی تجاویز دیں گئیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -