زخمی نوجوان کو مقابلے میں مارنے سے گریز کیا جائے، لاہور ہائیکورٹ 

زخمی نوجوان کو مقابلے میں مارنے سے گریز کیا جائے، لاہور ہائیکورٹ 

  

 ملتان (خصوصی رپورٹر)  ہائی کورٹ ملتان بنچ کے جج جسٹس صفدر سلیم شاہد نے محمد افضل کی رٹ درخواست پر سی ہی او ملتان۔ایم ایس نشتر ہسپتال اور ایس ایچ او شمعون جوئیہ کو حکم دیا ہے کہ محمد اعظم کو علاج   کیلئے ہسپتال میں داخل کرایا جائے اور اس کا طبی معائینہ کرایاجائے۔اسے ماورائے عدالت پولیس مقابلے میں قتل کرنے سے گریز کیا جائے۔قبل ازیں پیٹیشنر کے وکیل سید اطہر شاہ بخاری نے دلائل دیتے (بقیہ نمبر39صفحہ6پر)

ہوئے کہ اس ریاست کو پولیس گردی کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔عدالتوں اور اداروں کی موجودگی کے باوجود شہری خود  کو جو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔سپاہی سے لیکر آئی جی پولیس تک سب کا مائینڈ سیٹ ایک ہی ہے۔صوبے میں انتہائی نا اہل۔ناتجربہ کار اور بددیانت افسران اور اہلکاران بھرتی کئے ہوئے ہیں۔اگر عدالتیں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کیلئے اپنے اختیارات استعمال نہیں کریں گی تو وہ دن دور نہہں جب عدالتوں کو بھی پولیس گردی اور تشدد کے کلچر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ملک میں انارکی بڑھے گی اور ریاست اپنے انجام کو پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے محمد اعظم کو شدید زخمی ہونے کے باوجود ہسپتال سے زبردستی ڈسچارج کرایا۔اور اسکے بھائی محمد فہیم کو بے گناہ قتل کردیا اور اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس گرفتار کرلیا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -