سندھ کی اہل بیت رسالت سے محبت کی تاریخ طویل ہے: زور اعبد الستار درس

سندھ کی اہل بیت رسالت سے محبت کی تاریخ طویل ہے: زور اعبد الستار درس

  

       کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ کے باشندوں کی اہل بیت رسالت سے محبت کی ایک طویل تاریخ ہے، اس عقیدت و محبت کا نتیجہ تھا کہ واقعہ کربلا کا اہل سندھ پر گہرا اثر ہوا اور اسی وقت سے یہاں عزاداری سب سے پہلے شروع ہوئی، ان خیالات کا اظہار کراچی ایڈیٹر کلب کے زیراہتمام منعقدہ”شہدائے کربلا کانفرنس“کراچی اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کے تعاون سے منعقد ہوئی جس کا موضوع ”امام حسین ؑ کی کربلا سے سندھ آ نے کی خواہش“ تھاکے موقع پر نامور مذہبی اسکالر،صحافی و مصنف اور قدم گاہ مولی علی کے متولی زوار عبدالستار درس نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے کراچی ایڈیٹر کلب کے صدر مبشر میر، سیکریٹری جنرل منظر نقوی، آغا مسعود حسین، خادم اعلیٰ درگاہ بی بی ماہم اگم کوٹ نیاز حسین لغاری ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ زوار عبدالستار درس نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ واقعہ کربلا کے رونما ہونے سے قبل امام حسین ؑ نے خواہش ظاہر کی تھی کہ انہیں مدینہ، کوفہ یا سندھ جانے دیا جائے، لیکن یزیدیوں نے ایک سازش کے تحت نہیں جانے دیا گیا۔ انہیں صحرا میں دھکیل دیا گیا۔ 6محرم سے 10محرم تک انہیں بھوکا پیاسا رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پھر لاکھوں کی فوج نے ان پر حملہ کرکے شہید کردیا۔ اس وقت سندھ کے راجہ نے ایک فوجی دستہ امام حسین ؑ کی مدد کے لیے روانہ کیا تھا لیکن جب یہ دستہ وہاں پہنچا تو واقعہ کربلا رونما ہوچکا تھا۔ راجہ کی فوج نے واپس آکر سارے حالات بتائے۔ سندھ کے اس وقت کے راجہ نے پہلی عزاداری کی بنیاد رکھی۔ امام حسین ؑکی بہادری کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ انہوں نے دین حق کیلئے وہ قربانی پیش کی جو رہتی دنیا تک لوگ یاد رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ سندھ میں اسلام کی آمد کو محمد بن قاسم کے حملے سے جوڑتے ہیں وہ اس تاریخی حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ سندھ میں اسلام کا نور حضور اکرم ؐ کی حیات طاہری میں بھی پھیل چکا تھا۔ تاریخ میں دربار رسالتؐ میں سندھ مختلف وفود کی آمدورفت کے مستند شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی سندھ کے ادب و ثقافت میں واقعہ کربلا اتنا رچا بسا ہے کہ و ہ دنیا کے ادب و ثقافت شاید ہی کہیں ہو۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ سندھ کے حکمرانوں کے آل محمدؐ  سے قریبی مراسم رہے ہیں۔ عرب اور سندھ کا انتہائی قریبی تعلق رہا ہے۔ سادات کیلئے جب عرب کی سرزمین تنگ کردی گئی تو انہوں نے سندھ کی طرف ہجرت کی۔ معروف مفکر پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی نے کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے واقعہ کربلا کے حوالے سے کہا کہ جس کے پاس علی نہیں اس کے پاس علم نہیں۔ امام حسین ؑ کے ساتھ جو انکے ساتھی تھے، ان سب میں تحمل پایا جاتا تھا۔ امام حسین ؑ وعدہ کے پابند تھے انہوں نے اسلام کی بقاء کیلئے جو وعدہ کیا اُسے پورا کیا اس میں کوئی دو رائے نہیں تھیں۔ نواسہئ رسولؐ اپنے جس بیانیہ کے ساتھ آئے انہوں نے اسے پورا کیا۔ وہ حضور اکرمؐ کے نقش قدم سے کیسے پھر سکتے تھے یہ ممکن ہی نہیں تھا۔ ہم اس لحاظ سے خوش نصیب ہیں کہ ہمارے پاس کوئی نقش قدم تو ہے ورنہ گذرتے زمانے کے ساتھ تمام نقوش کو مٹادیا جاتا۔ لیکن یہ ایک ایسا نقش قدم ہے جو ہمارے ہاتھ آیا ہے وہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کراچی ایڈیٹر کلب کے صدر مبشر میر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ کربلا حادثاتی واقعہ نہیں،بلکہ یہ دنیا کا تاریخی واقعہ ہے جس نے مسلمانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حسینی ہونے کیلئے صداقت کے حوالے سے جرأت کی ضرورت ہوتی ہے، یہ ہی نہیں ہے کہ اگر ہم مسلمان ہیں تو امام حسین ؑ کے ساتھی ہیں، امام حسینؑ کے جتنے بھی چاہنے والے ہیں، سب میں تحمل پایا جاتا ہے۔ واقعہ کربلا کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں صدیاں گزرنے کے باوجود اس کی تازگی آج تک اس ہی طرح سے برقرار ہے، اس کے حوالے سے بہت زیادہ لٹریچر ڈیویلپ ہوا ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ ہمارے طرف سے اس پروگرام کا انعقاد ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایامِ حسینؑ کے آغاز سے اس واقعہ پر گفتگو کا دعویٰ نہیں کرسکتے بلکہ ہدیہ عقیدت پیش کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کربلا سے یہ درس ملتا ہے کہ آج کے دور کے حساب سے امام حسینؑ کا اقدام ریاست کے خلاف نہیں بلکہ غیر آئینی سربراہ کے خلاف تھا جو کہ نامزد کیا گیا تھا۔ دراصل حکمراں کا انتخاب بھی مشکل مرحلہ ہے، امام حسینؑ کہنا چاہتے تھے کہ میں آپ سے اختلاف رکھ سکتا ہوں اگر میں آپ کی غلط بات تسلیم نہیں کرتا تو کیا آپ میری جان لے لیں گے۔ کلب کے سیکریٹری جنرل منظر نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام حسین ؑ سرزمین سندھ آنا چاہتے تھے لیکن ایک سازش کے تحت انہیں روکا گیا اور سندھ بھی نہیں جانے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امام حسین ؑ نے جو قربانی دی اور شہادت کا رتبہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ حاصل کیا، اس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔ آج کے دور میں لوگ چھوٹے سے مفاد کیلئے اپنا ایمان تک بیچ دیتے ہیں، اس کی مثال آپ کو آسانی سے مل جائے گی۔ دراصل واقعہ کربلا حق و باطل کی جنگ تھی اور جیت حق کی ہوئی۔ قدم گاہ مولا علی کے نیاز حسین لغاری نے کہا کہ واقعہ کربلا کے بعد مختلف مذاہب کے لوگ سندھ آکر آباد ہوئے جن میں مسلمانوں کی بھی بڑی تعداد تھی۔ امام حسین ؑ کے نانا بھی سندھ سے محبت کرتے تھے، حضورؐ کی کالی کملی بھی سندھ کی اجرک سے بہت ملتی ہوئی ہے۔ سندھ دراصل اللہ کے ولیوں کا گڑھ ہے، اہل بیت کی قربانیاں انسانیت کیلئے تھیں اور یہ قیامت تک یاد رکھی جایں گی۔ واقعہ کربلا کا سوگ سندھ میں اس وقت کے راجہ نے سرکاری طور پر منایا تھا اور عزاداری اسی وقت سے شروع ہوئی تھی۔ اس موقع پر کراچی ایڈیٹر کلب کے سینئر نائب صدر آغا مسعود حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا موقع ہے کہ اس واقعہ کو سن کر بھی ہماری آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ امام حسینؑ نے حق کیلئے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ دراصل ان کا کہنا تھا کہ وہ امر بل معروف کیلئے نکلے ہیں، انہیں روکا بھی گیا لیکن انہوں نے حق کیلئے نکلنے کو اہمیت دی یہ ایک ایسا دل ہلادینے والا واقعہ ہے کہ اس کو سننے کیلئے ہمت چاہیے۔ تقریب سے معزز شعراء جاوید منظر، کشورعدیل جعفری، کمال امروہوی، شبیر نازش ودیگر نے واقعہ کربلا کے حوالے سے اپنا کلام پیش کیا۔ 

مزید :

صفحہ اول -