ساٹھ، نوے یا 180دن بعد؟

 ساٹھ، نوے یا 180دن بعد؟
 ساٹھ، نوے یا 180دن بعد؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 انتخابات ساٹھ دن بعد کسی صورت نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ ایسا ہوا تو عمران خان کوئی سزا پائے بغیر انتخابی ماحول میں اپنا لچ تل دیں گے ، انہیں سزا ہوگئی تو جیل سے انتخاب لڑیں گے اور نہ ہوئی تو وہ اپنی کرپشن کو انتخابی ماحول میں گم کرکے دوبارہ سے اپنی جھوٹی مقبولیت کی تسبیح کرتے ہوئے ہر طرح کی بہتان طرازی اور گالم گلوچ پر تُل جائیں گے اور ملکی ماحول دوبارہ سے 2014کے دھرنوں کے مقام پر جا کھڑا ہوگا کیونکہ پاکستان کو عمران خان سے زیادہ عمران خان کے پیچھے متحرک قوتوں کا مسئلہ ہے جو سوشل میڈیا پر ففتھ جنریشن وار اور الیکٹرانک میڈیا پر روپے پیسے کی بھرمار سے سب کچھ عمران خان کی طرف موڑ کر اپنی مرضی کے نتائج چاہتے ہیں۔ عمران خان نے 22 برس جدوجہد تو پاکستان میں کی لیکن اس کے لئے تمام تر فنڈنگ اور پالیسی مغرب سے لی ۔ چنانچہ یہ بات آہستہ آہستہ واضح ہوتی جا رہی ہے کہ عمران خان غیرملکی قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور وہ سیاسی مخالفین سمیت کیا عدلیہ کیا فوج ہر کسی کو للکارتے پھر رہے ہیں ۔ اس پالیسی کا مقصد ملکی اسٹیبلشمنٹ کی ایٹمی اثاثوں پر گرفت کو کمزور کرنا ہے ۔ پہلے ہی پاکستان کو معاشی طور پر کمزور کرنے کا ہر حربہ آزمایا گیا ہے ، وہ تو شکر ہے کہ پاکستان کے مقتدر حلقوں نے چین اور مڈل ایسٹ کی جانب دیکھنے کی پالیسی اختیار کرکے آئی ایم ایف کی جانب سے ڈیفالٹ کرنے کے منصوبے کو ناکام بنایا ہے ۔ اب اگر ساٹھ دنوں میں انتخابات کا ڈول ڈال دیا جاتا ہے تو ان کمزور پڑتی قوتوں کو دوبارہ سے کھل کھیلنے کا موقع مل جائے گا اور ہوسکتا ہے کہ 60دنوں بعد ہونے والے انتخابات کے نتائج پر درپردہ اثرانداز ہونے کی کوشش کریں اور ناکامی کی صورت میں ملک میں ایک اور 9مئی برپا کردیں تاکہ پاکستان کے حوالے سے عالمی تاثر کو ہوا مل سکے کہ یہاں کے مقتدر حلقے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت سے قاصر ہیں۔ 
یہ درست ہے کہ اگر 60دنوں میں انتخابات ہوتے ہیں تو اس سے ملک میں سیاسی استحکام کی راہ کھل سکتی ہے لیکن پی ٹی آئی نواز حلقوں کے مطابق سیاسی استحکام کا مطلب عمران خان کی جیت ہے کیونکہ انہوں نے پراپیگنڈے کے بل پر یہ نقطہ عوام میں راسخ کردیا ہے کہ عمران خان مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں ۔ اس ذہنی کیفیت میں اگر پی ٹی آئی کا ووٹر ووٹ ڈالتا ہے اور شام کو نتیجہ اس کی توقع کے برعکس آتا ہے تو سیاسی استحکام کا خواب ٹوٹ جائے گا کیونکہ وہ ایسے نتائج کو قبول کرنے کی بجائے دھاندلی کا ایسا شور مچائے گا کہ اسٹیبلشمنٹ ہر منہ پر ہاتھ رکھتی پھرے گی ۔ یہ صورت حال ایک ایسے سیاسی عدم استحکام پر منتج ہو سکتی ہے کہ جس کا براہ راست اثر پاکستان کی سالمیت اور معاشی صورتحال پر آن پڑے۔ 
عین ممکن ہے کہ 60دنوں میں اگر انتخابات ہوتے ہیں تو عمران خان کی جھوٹی مقبولیت کی قلعی کھل جائے اور عوام اپنے ووٹ سے شرپسندی کی سیاست کا خاتمہ کردیں لیکن نہ تو عوام اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کے پاس اس قدر وسائل ہیں جس قدر عمران خان کے حامی عالمی حلقوں کے پاس ہیں کہ مقابلہ کیا جا سکے۔ پہلے مولانا فضل الرحمٰن کہہ چکے ہیں کہ مغربی ممالک ایک طرف توہین قرآن مجید کرتے ہیں اور دوسرے ہی سانس میں عمران خان کی حمائت میں بیانات بھی داغتے ہیں۔ گویا کہ پاکستان کے فیصلہ سازوں کے ذہن میں ساری صورت حال پوری طرح واضح ہے کہ انہیں کس قسم کے چیلنج کا سامنا ہے۔ اس کی ایک مثال مسجد نبوی میں شہباز شریف اور ان کے وفد کے ساتھ ہونے والی بدتمیزی تھی کہ کس طرح پراپیگنڈہ کے ذریعے اور برطانیہ سے مالدار پاکستانیوں کی شکل میں لوگ وہاں عام پاکستانیوں کو بہلا پھسلا کر یا پھر مال لگا کر مسجد نبوی کے احاطے کی توہین کرتے پائے گئے تھے۔ افسوس تو یہ ہے کہ اس کام کے لئے شیخ رشید بھی بطور خاص مدینہ گئے تھے اور اپنے حواریوں سے میٹنگیں کرتے پائے گئے تھے۔ ایسی زہر آلود صورت حال اگر 60دنوں کے انتخابات کی صورت میں پیدا ہوجاتی ہے تو پاکستان کی معاشی صورت حال سنبھالے نہیں سنبھل سکے گی ۔ پہلے ہی غیر متوقع طور پر آئی ایم ایف کا وفد جب عمران خان سے ملنے زمان پارک پہنچ گیا تھا وہاں جس نقطے پر گفتگو ہوتی رہی تھی وہ یہی تھا کہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ پاکستان میں 60دنوں میں انتخابات ہو جائیں گے جس پر آئی ایم ایف وفد کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان کے لئے فنڈز کا اجراءاسی بات کو مدنظر کھ کرکیا ہے۔ 
اس کا مطلب ہے کہ 90دن بعد اگر انتخابات ہوتے ہیں تب تک ممکن ہے ہماری عدالتیں آزادی کے ساتھ عمران خان کے خلاف کرپشن اور سازشوں کے معاملے پر فیصلے دے چکی ہوں اور وہ پابند سلاسل ہوچکے ہوں ۔ ایسا ہوتا ہے تو یقینی طور پر ان کے بہی خواہ عوامی حلقے ہمدردی کے تحت ان کے لئے 90دن بعد ہونے والے انتخابات میں بھی جوق در جوق نکلتے پائے جائیں ، پیچھے سے مغربی ڈالروں اور پاﺅنڈوں کی بارش علیحدہ سے ہوگی۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس فتنے کا قلع قمع کرنے کے لئے ملک میں 180دن بعد ہی انتخابات کروائے جائیں تاکہ نہ صرف 9مئی کے پیچھے کارفرما سازش پوری طرح بے نقاب ہو سکے بلکہ اس کے ذمہ دار بھی اپنے انجام کو پہنچیں۔ اتنا طویل انتظار اگرچہ ہماری سیاسی جماعتوں کے لئے آسان نہ ہوگا لیکن پاکستان کو جس عالمی سازش کا سامنا ہے اس کے سامنے چھے ماہ یا ایک سال کا انتظار کچھ معنی نہیں رکھتا ۔ ہم پہلے ہی ایک بڑی عالمی سازش کا شکار ہو کر مشرقی پاکستان کے سانحے کا سامنا کر چکے ہیں!

مزید :

رائے -کالم -