عدل، خدا کے بندو....!

عدل، خدا کے بندو....!
عدل، خدا کے بندو....!

  

عدل، عدل.... خدا کے بندو کسی اور سے نہیں کم از کم اپنے آپ سے تو عدل کرو۔ ٹھٹھہ باز شہر میں آگ لگاتے ہیں، ہیجان، ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے، جبکہ دانا دلیل سے اسے شکست دیتے ہیں اور احمقوں کے تعصب کو پھیلنے سے روک دیتے ہیں۔ تعصب نہیں، جناب دلیل سے بات کریں۔ ہیجان نادانی کی سب سے بڑی پہچان ہے اور تعصب، عدل کا سب سے بڑا دشمن ہے۔

اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کو محض تعصب کی بھینٹ چڑھانے اور ہیجان پھیلانے سے پہلے غور کر لیجئے۔ عدل کے بغیر ریاستیں ہی نہیں ٹوٹتیں، معاشرے بھی شکست و ریخت کا شکار ہو جاتے ہیں، جبکہ انفرادی حیثیت سے اگر فرد اپنے آپ سے عدل نہیں کرتا تو اس کی شخصیت بے وقار ہو کر رہ جاتی ہے۔ دنیا کی سب سے سچی اور حکمت کی عظیم کتاب کہتی ہے: ” اے ایمان والو! اللہ کے حکم پر خوب قائم ہو جاو¿، انصاف کے ساتھ گواہی دو اور تم کو کسی قوم کی عداوت اس پر نہ ابھارے کہ عدل نہ کرو، عدل کرو، وہ پرہیز گاری سے زیادہ قریب ہے“۔ ماہرین کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو نقصان سے بچانے کے بھی طریقے بتا چکے، مگر تعصب جن کی سیاست ہے، پسماندگی نظریہ اور عدل کا تمسخر اڑانا وتیرہ، وہ اسے نہیں بننے دیں گے کہ عام آدمی کی خوشحالی ہی ان کے زوال کی علامت ہوگی۔ محرومیوں کے شکار عوام ہی ان کا اصل اثاثہ ہیں۔

عدالت نے عدل کے تمام تقاضوں کو محلوظ خاطر رکھتے ہوئے تاریخی فیصلہ سنا دیا۔ اعلیٰ عدالتیں بے نظیر فیصلے کر رہی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اٹھارہ کروڑ لوگ اپنے آپ سے انصاف نہیں کر رہے۔ عدل کابول بالا تب ہی ہوگا، جب ہر فرد اپنے ساتھ عدل کرے گا۔ اپنے اپنے اندر عدالت لگائیے۔ اپنے ضمیر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے ایک لمحے کے لئے پوچھئے کہ ایسے لوگ کیوں ہمارے نمائندے ہیں کہ تعصب جن کے خون میں رواں ہے اور عدل سے راہ فرار.... جواب مل جائے گا۔ ہم لوگ خود فیصلے کے وقت تعصب کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ذات، برادری اور لسانیت کے شکار ہو کر نا اہل لوگوں کے حق میں فیصلے دے دیتے ہیں۔ ووٹ کی پرچی سے عدل کا خون کرتے ہیں۔

زنجیر عدل ہلانا ہوگی۔ اپنے آپ کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ہوگا۔ اٹھارہ کروڑ لوگوں کو اپنے آپ سے عدل کرنا ہوگا۔ ناانصافی کی ابتداءانسان کی ذات سے شروع ہوتی ہے۔ اس کا بیج سب سے پہلے وہ اپنے من کی کھیتی میں کاشت کرتا ہے اور پھر یہ بڑھتے بڑھتے خاردار جھاڑیوں پر مبنی ظالمانہ نظام جنم لیتا ہے۔ عدل کی خواہش عظیم بات ہے، مگر خواہشوں پر زندگی کامیابی سے نہیں بسر کی جاتی، بلکہ خلوص نیت اور ایمانداری کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ پوری قوم کی محض خواہش ہے کہ عدل و انصاف کا نظام رائج ہو، مگر اٹھارہ کروڑ لوگوں میں کتنے ہیں جو اس نظام کے لئے عدل سے کام لے رہے ہیں۔ اپنے آپ سے بے ایمانی کر کے عدل کی خواہش رکھنا خود فریبی ہے۔ عدل کی ابتداءاپنی ذات سے کیجئے ۔ قیادت کا چناو¿ کرتے وقت عدل سے کام نہ لینے والے اپنے آپ سے زیادتی کرتے ہیں۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی ﷺ کا فرمان ہے:”ہرشخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق عدل کرے“۔

جمہوری نظام میں فرد کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اہل اور ایماندار حکمرانوں کا انتخاب کرے، اگر وہ حاکم کے چناو¿ میں عدل سے کام لے گا تو نظام چلانے کے لئے باکردار لوگ آگے آئیں گے اور نظام عدل و انصاف پر قائم ہوگا اور ہر فرد قانون کے تابع ہوگا۔ اگر فرد ہی عدل کا خون کر ڈالے تو پھر کرپٹ و بے ایمان لوگ اس کی خواہش سے اس پر مسلط ہوں گے اور ظالمانہ نظام آئے گا، کیونکہ جونکوں کو نشوونما کے لئے گندا جوہڑ درکار ہوتا ہے۔ پتنگے حبس کے موسم میں جی سکتے ہیں، جیسے بیج بوئے جائیں ویسے ہی نخلستان آباد ہوتے ہیں۔ جوار کی کاشت سے کبھی گندم نہیں اُگتی۔ مچھلیوں کے تالاب کی حفاظت اگر مگرمچھوں کو سونپ دی جائے تو وہ چند دن میں اسے خالی کر ڈالتے ہیں ، پھر بھوک مٹانے کے لئے انسانوں تک کو نہیں چھوڑتے۔ آج اگر خزانہ خالی ہے اور عوام سے بجلی، گیس اور پٹرول پر سرچارج لگا کر ان کا خون نچوڑا جا رہا ہے تو اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں ہر فرد ہے، جس نے ووٹ کا فیصلہ کرتے وقت اپنے ساتھ ناانصافی کی، اگر ہزاروں عدالتیں آزادانہ فیصلے کرنے لگیں، میڈیا کا ستون چاہے آسمان کو چھونے لگے، اس وقت تک عدل کا نظام قائم نہیں ہو سکتا، جب تک ہر فرد اپنے آپ سے عدل نہیں کرتا۔ جب ہم خود ہی عدل کے دشمن ہوں گے تو ہمیں کون عدل دے سکے گا۔ محرومیوں، پسماندگی اور جہالت کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔ ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا ہوگا کہ ظالمانہ نظام کو تقویت دینے والے ہاتھ ہمارے ہی تو نہیں۔ غور و فکر کیجئے:

تفتیش اپنے ہاتھ میں لے اپنے قتل کی

خود ہی شہر میں جائے وقوعہ تلاش کر

امن تباہ ہوگیا، افلاس کا جن بے قابو ہو چکا، لاقانونیت کا اژدھا پھن پھیلائے پھنکار رہا ہے، عدل کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، حالانکہ انہی نادانیوں کی وجہ سے آدھا ملک ٹوٹ چکا ، لیکن پھر بھی ہم اپنے آپ کو سدھارنے کے لئے تیار نہیں۔ اپنے آپ سے عدل نہیں کر رہے۔ امام تیمیہؒ کا فرمان ہے:”اللہ تعالیٰ صرف ان حکومتوں کی مدد کرتا ہے جو عدل پر قائم ہوتی ہیں۔ چاہے یہ کافروں کی حکومتیں ہی کیوں نہ ہوں اور ان حکومتوں کو برباد کر دیتا ہے جو عدل سے خالی ہوتی ہیں۔ چاہے مسلمانوں ہی کی کیوں نہ ہوں“۔

عدل.... پاکستانیو! اپنے آپ سے عدل کرو، اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ عدل کرو۔ زندگی پربشرکا احسان یہ ہے کہ اسے عدل سے گزار دے۔ عدل سے خالی انسان حیوان کی طرح ہے۔ اللہ نے عدل کی طاقت دی ہو تو عدل سے کام نہ لینا انسانی عقل کی توہین ہے۔ عدل کے بغیر انسانی معاشرہ درندگی کا شکار ہو جاتا ہے۔ انسان کا سب سے بڑا دوست اور دشمن اس کے اندر بیٹھا ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم دوست کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور دشمن پالتے ہیں۔ ہر انسان کا ضمیر اس کی اپنی عدالت کا چیف جسٹس ہوتا ہے، یہ اس پر منحصر ہے کہ عدل سے کام لے یا ناانصافی کرے:

ڈھونڈتے ہوجس کو باہر، اس کو اندر ڈھونڈنا

آئینے کے سامنے کبھی خود سے مل کر ڈھونڈنا

عدل.... خدا کے بندو کیسے عجیب لوگ ہو، اپنے آپ سے عدل نہیں کر سکتے۔ ہر انسان پر اپنی حیثیت کے مطابق عدل سے فیصلہ کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ریاست میں فرد کی سب سے اہم ذمہ داری ہے کہ وہ ووٹ ڈالتے وقت تعصب کا شکار نہ ہو۔ وہی گھسے پٹے اور نا اہل لوگ ہی کیوں اقتدار کے لئے چنتے ہو۔ اہل، صالح اور ایماندار لوگ کیوں نہیں ؟....کیا عدل کا بوجھ صرف عدالتوں پر ہی ہے۔ عام آدمی پر نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے آپ سے انصاف نہیں کرتے.... نا انصافی، ظلم و استحصال کی ماں ہے۔ اس کے بطن سے ظالمانہ نظام جنم لیتا ہے۔ ہماری بار بار کی نادانی سے آج ناانصافی پر مبنی کرپٹ و ظالمانہ نظام اس قدر مضبوط ہو چکا ہے کہ اب اس سے عام آدمی کا جینا حرام ہوچکا۔ ہماری اجتماعی پستی کا کوئی اور ذمہ دار نہیں، ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں۔ تعصب سے نکلئے ذات، برادری اور مفاد سے عدل کا خون نہ کریں۔ ووٹ کی پرچی کو ذاتی مفاد اور تعصب کی بھینٹ نہ چڑھائیں، جو لوگ اپنے آپ سے عدل نہیں کرتے، انہیں عدل پر مبنی نظام کیسے مل سکتا ہے؟ قاتلوں کے ہاتھ میں تلوار دے کر جینے کی امید نادانی ہوگی۔ مقتل تعمیر کر کے زندگی کی لمبی آس لگانا خود فریبی ہے۔ زندگی آپ سے انصاف کا تقاضا کرتی ہے۔ اپنے اپنے تعصب کو نبھانے کے واسطے ہم نے کیسے کیسے نایاب ہیرے ضائع کر دئیے جو ایماندار حکمرانی کے خواب لے کر روشن ہوئے تھے، لیکن ہم نے انہیں اپنے ووٹ کی لو سے روشن کرنے کی بجائے وقت سے پہلے ہی بجھا دیا اور ان پر چوروں، ٹھگوں اور لُٹیروں کو ترجیح دی۔ اصغر خان، نوابزادہ نصراللہ اور شاید اب عمران خان، اللہ نہ کرے کہ اب عمران بھی ناکام رہے:

اپنے دیے کو چاند بتانے کے واسطے

بستی کا ہر چراغ بجھانا پڑا ہمیں

عدل، عدل، خدا کے بندو کسی اور سے نہیں کم از کم اپنے آپ سے تو عدل کرو۔        ٭

مزید :

کالم -