شفقت تنویر مرزا کی یاد میں

شفقت تنویر مرزا کی یاد میں
شفقت تنویر مرزا کی یاد میں

  

یہ 1984ءکا زمانہ تھا ۔ ایک ڈائری شائع کروانے کی غرض سے مجھے لارنس روڈ لاہور پر واقع عوامی پرےس مےں جانا پڑتا تھا۔ اِسی پرےس مےں انگرےزی ہفت روزہ ”وےوپوائنٹ“ کا دفتر تھا۔ جنرل ضےاءالحق کا مارشل لاءاپنے عروج پر تھا۔ ”وےو پوائنٹ“ مےں حکومت کے خلاف اےڈےٹورےل مضامےن اور کئی رپورٹس وغےرہ شائع ہوتی رہتی تھےں۔ ےہ سب کچھ پاکستانی حکومت کے اتنا خلاف ہوتا تھا کہ آل انڈےا رےڈےو مےں نشر ہونے والے حالاتِ حاضرہ پر تبصروں کے کام آتا تھا۔ ہمساےہ ملک کا سرکاری رےڈےو اکثر و بےشتر ”وےو پوائنٹ“ مےں شائع شدہ مواد کے حوالے دے کر اپنے مخالفانہ پروپےگنڈے مےں وزن پےدا کےا کرتا تھا۔ اُس زمانے مےں ہم فنِ ابلاغےات ، پروپےگنڈہ کی اقسام اور نفسےاتی جنگ کے طالب علم ہوا کرتے تھے، لہٰذا ہم اِن کتابی باتوں کی عملی زندگی مےں مثالےں ڈھونڈا کرتے تھے۔ اِس مخصوص پس منظر کی وجہ سے ”وےو پوائنٹ“ کا دفتر اور اُس مےں کام کرنے والے صحافی حضرات ہماری خصوصی توجہ کا مرکز بنتے چلے گئے۔ اُن مےںاُس وقت آئی اے رحمن ، شفقت تنوےر مرزا اور حسےن نقی اور ان کے کچھ ساتھی بہت نماےاں تھے۔اِن سب کے نام سے پہلے ہی واقف تھا کہ ےہ پاکستان کی ترقی پسند صحافت مےں طوےل عرصے سے بہت فعال کردار ادا کررہے تھے۔ بعد مےں ےہی موضوع مےری ڈاکٹرےٹ کا موضوع ٹھہرا۔

  ”وےو پوائنٹ “ کا دفتر دو تےن کمروں مےں ہی واقع تھا۔ اِن کمروں مےں پڑا فرنےچر اور اس کی حالتِ زار اُس وقت کوئی بہت زےادہ اچھی نہےں تھی۔ وہ غالباََ ہمارے ترقی پسند دوستوں کی تنگ دستی اور آزمائش کا عرصہ تھا۔ ابھی روس ٹوٹنے کے بعد وہ امرےکی اور مغربی اےن جی اوز کی نئی دُنےا مےں نہےں پہنچے تھے۔ ابھی پوش اےرےاز کے عالےشان پلازوں مےں اُن کے دفتر واقع نہےں ہوتے تھے۔ مجھے اچھی طرح ےاد ہے کہ آئی اے رحمن اور مرزا نے چترالی پٹی کی سادہ سی واسکٹےں مستقل پہنے ہوتی تھےں ،سگرےٹوں کا دھواں اُڑاتے ےہ دانشور اور صحافی اہم ملکی اُمور پر تبادلہ خےال کرتے نظر آتے ،مَےں خاموش سامع کی طرح اُن کو دےکھتا رہتا۔ البتہ اُن کے نقطئہ نظر سے تو اختلاف ہو سکتا تھا، لےکن اُن کی اپنے مقصد اور نظرےے سے لگن ےعنی کومٹ منٹ سے اختلاف کرناممکن نہےں تھا اور طالب علمی مےں اِن سنجےدہ فکر لوگوں کے قرےب بےٹھنے سے اِن کے وسعت مطالعہ پر ہر اےشو کو اپنے مخصوص زاوےے سے دےکھنے اور پھر اس عادتِ ثانےہ پر پختگی سے رہنے کا احساس ہر وقت ہوتارہتا۔ ڈاکٹر مبشر حسن اور کئی اور دانشور بھی وہاں آتے جاتے تھے۔ مےرے خےال مےں اُس وقت ےہ اِن لوگوں کا شہر کے وسط مےں واحد رابطہ دفتر بھی تھا۔ اِسی احاطے مےں مرحوم نثار عثمانی کی رہائش بھی تھی جو اُس وقت ”ڈان“ کے بےوروچےف تھے اور مال روڈ پر واقع اےک بلڈنگ مےں چھوٹا سا دفتر اُن کا بےورو تھا۔

یہ سبھی افراد اےک دوسرے سے ہنسی مذاق بھی کرتے تھے اور رات گئے تک کام کرتے تھے۔ مجھ طالب علم سے ےہ سبھی افراد اکثر رےزرو ہی رہتے ۔ اِن مےں صرف اےک شفقت تنوےر مرزا صاحب ہی تھے جو مجھ سے اکےلے بےٹھ کر بھی بہت آزادانہ باتےں کےا کرتے تھے۔ اِن مےں اُس وقت بھی مجھے بہت محبوبےت نظر آئی۔ اِسی دوران اِن سے باقاعدہ دوستی ہو گئی۔ وہ پنجابی مےں اپنے جذبات و احساسات کا اظہار ہی نہےں کرتے تھے بلکہ وہ پنجاب اور اہلِ پنجاب کی تارےخ پر گہری نظر رکھتے تھے۔ اِن کی باتوں سے ےہ احساس ہوا کہ وہ سوشلزم کے حامی تو ہےں ،لےکن اسلام کے مخالف اور مُنکر ہرگز نہےں ہےں ۔ اِن کو مشرقی پاکستان کے بچھڑ جانے کا بہت غم تھا۔ اےک روز ہماری مشترکہ گفتگو کا موضوع صرف ےہی تھا۔ اُنہوں نے ٹھنڈی آہ بھر کر بتاےا کہ مَےں مشرقی پاکستانےوں کو جب بھی ملتا ہوں تو پنجابی کا اےک مصرعہ پڑھتا ہوں اور پھر اِس کا ترجمہ کر کے اُنہےں سمجھاتا ہوں۔ وہ مصرعہ کچھ ےوں تھا کہ:©

لالی اکھیاں دی پئی دسدی اے

روئے تسی وی او، روئے اسےں وی آں

ےعنی آنکھوں کی سُرخی بتاتی ہے کہ ہم دونوں روئے ہےں اور جدائی پر دونوں ملکوں کے غرےب عوام غمزدہ ہےں۔

آج شفقت تنوےر مرزا صاحب پر لکھنے بےٹھا تو اپنی کتاب ”مکالمات“ کا صفحہ نمبر217نکالا۔اُن کا22مارچ1999ءکو ”ڈان“ کے دفتر مےں کےا گےا انٹروےو مےرے سامنے تھا۔ کتنی قےمتی باتےں انہوں نے کی تھےں۔ پاکستانی ادب، سےاست اور صحافت پر اِن کی گہری نظر تھی۔ بہت سارے تارےخی واقعات اِن کی نظروں کے سامنے گزرے تھے، اس لئے اِن کا مطالعہ، تجربے اور مشاہدے کے مےلان سے اِن کی رائے بنانے مےں بہت اہمےت اختےار کر گےا تھا۔ مثلاً اِن کے چند فقرے ملاحظہ فرمائےے:۔

” جو فصل ترقی پسندوں نے بوئی تھی، وہ خود تو نہ کاٹ سکے لےکن وہ بھٹو کاٹ کر لے گےا۔ بھٹو1970ءمےں قومی اسمبلی کے انتخابات کے نتائج سامنے آتے ہی پھر گےاتھا۔ اُس نے ©©” ٹائم“ کے نمائندے کو انٹروےو دےتے ہوئے کہہ دےا تھا کہ مَےں فےکٹرےاں نےشنلائز نہےں کروں گا۔ اُس کی اپروچ فےوڈل تھی۔ اقتدار ہی اُس کا مسئلہ تھا اور سب کا ہوتا ہے۔ اسمبلی مےں اکثرےت لوئر مڈل کلاس کی تھی۔ سندھ سے سبھی وڈےرے آئے تھے۔ پنجاب سے نئے لوگ آئے تھے۔ لاہور سے آٹھ افراد سبھی نئے تھے۔ اُن کی کوئی گدی نہےں تھی۔ بھٹو صاحب کے لئے مسئلہ ےہ تھا صادق حسےن قرےشی وغےرہ نے کہا کہ ےہ شےخ رشےد (بابائے سوشلزم) ، عارف اعوان، اےس اےم مسعود وغےرہ ہمارے کمّی ہےں۔ اِن کو آپ نے ہمارے برابر بٹھا دےا ہے.... (افسوس ہمارے ملک کی سےاست مےں ےہ چلن اب بھی موجود ہے)۔ مرزا صاحب نے مزےد کہا کہ ”ےہ طے ہونا چاہےے کہ گدی نشےن، اُن کے اقرباءاسمبلےوں مےں نہےں آئےں گے اور اُن مےں وراثت نہےں چلے گی.... فےوڈل کسی ادارے پر ےقےن نہےں رکھتے۔ ہمارے ملک مےں ادارے ہمےشہ لوئر مڈل کلاس نے مضبوط کئے۔ عدلےہ اگر طاقتور رہے تو عوام اِس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے.... پروگرےسو رائٹرز کمرشلائزڈ ہو چکے ہےں۔ اےن جی اوز کے ذرےعے لےفٹ کو بہت حد تک کرپٹ کر دےا گےا ہے۔“

افسوس اپنے بزرگ دوست کے سفر ِ آخرت مےں اطلاع نہ ملنے کی وجہ سے شرکت نہ کر سکا۔ اِس سے زےادہ افسوس اس بات کا رہے گا کہ مرزا صاحب کے قبےلے کے لوگ بھی اُن کی حق گوئی او ر بے باکی کی وجہ سے اُن کی ےاد مےں آنسو نہےں بہائےں گے۔ بااُصول، نظرےاتی، مخلص اور بے لوث کارکنوں کا شاید ےہی انجام ہوتا ہے۔ اُنہوں نے مجھے ظفر اقبال کا ےہ شعر سناےا تھا :

کاغذ کے پھول سر پر لے کے چلی حیات

نکلی بیرونِ شہر تو بارش نے آ لیا

ِ

مزید :

کالم -