کینسر کے مریض بچے کا علاج کرا دیں!

کینسر کے مریض بچے کا علاج کرا دیں!
کینسر کے مریض بچے کا علاج کرا دیں!

  

کینسر موذی مرض ہے.... جب بھی کسی کے اس مرض میں مبتلا ہونے کی اطلاع ملتی ہے، تو دل تڑپ اٹھتا ہے۔ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہوئے ہیں کہ اس مرض میں مبتلا ہوکر ہی ہماری اہلیہ اللہ کے ہاں حاضر ہو چکی ہوئی ہیں،اس لئے احساس بھی زیادہ ہوتا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ یہ مرض زیادہ پھیل رہا ہے۔اس کی بنیادی وجہ جو اب تک ظاہر ہوئی،ناقص خوراک کے علاوہ ماحول کی آلودگی ہے۔ خوراک میں خطرناک قسم کی ملاوٹ کا رجحان ہے تو ماحول کو ہم خود آلودہ کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ٹائر اور کوڑا جلانا عام سی بات ہے۔ایسا کرنے والوں کو شاید یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ یہ عمل کرکے کینسر جیسے موذی مرض کے پھیلاﺅ کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ اب تو یہ مرض بچوں میں بھی دکھائی دینے لگا ہے۔بڑوں کے بارے میں تو یہ کہا جاتا ہے کہ سگریٹ نوشی یاشراب نوشی اس بیماری کا ذریعہ بنتے ہیں،لیکن معصوم بچوں میں یہ مرض کہاں سے آتا ہے؟اس کی تحقیق اور تشہیر بھی ضروری ہے۔اب تک چھوٹی عمر کے بچوں کے کئی کیس سامنے آ چکے ہیں۔

ہم نے ان کالموں میں مدد کی اپیل کے بارے میں کبھی نہیں لکھا کہ ہمارے کئی تحفظات بھی ہیں، لیکن کیاکیا جائے کہ استثنیات ہر وقت ہوتی ہیں۔ایسا ہی ایک درد بھرا خط ہمیں پشاور سے موصول ہوا ہے۔یہ ایک غریب مزدور باغدان نامی شخص کی طرف سے ہے، اس کا بیٹا مبین خان چھوٹی سی عمر میں ہی کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوگیا ہے۔اس بچے کے علاج میں وہ اپنی جمع پونجی خرچ کر چکاہے، حتیٰ کہ تین مرلے کا مکان بھی فروخت کردیاہے۔ خود اب کرائے کے گھر میں رہتا ہے۔اس کے مطابق علاج کرانا تو دور کی بات، اس کے پاس تو بچوں کی روٹی پوری کرنے کی بھی گنجائش نہیں ہے ۔ کینسر ایک ایسا مرض ہے ،جس کا علاج بھی مہنگا ترین ہے اور جو مریض اس کا شکار بنتا ہے، وہ شدید تکلیف میں بھی مبتلا ہوتا ہے ۔ ایسی تکلیف اگر معصوم بچے میں ہو تو والدین سے برداشت نہیں ہوتی۔باغدان کے مطابق اس کا بیٹا مبین خان ارنم ہسپتال پشاور میں زیر علاج ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق بچے کا آپریشن ہوگا۔ آپریشن سے پہلے اس کے لئے Xeloba دوا تجویز کی گئی ہے ،جس کے ٹیکے لگانا ضروری ہیں اور یہ ایک دن میں دو بھی لگائے جاتے ہیں۔بازار میں اس ایک ٹیکے کی قیمت پانچ ہزار تین سو روپے ہے، جسے مریض کا والد خریدنے سے قاصر ہے۔باغدان کے مطابق اس نے محکمہ زکوٰة سے شروع ہوکر ہسپتال کی انتظامیہ،صوبائی حکومت، بیت المال اور وزیراعظم کے علاوہ صدر مملکت سے بھی اپیلیں کی ہیں کہ اس کے بیٹے کا علاج کرایا جائے۔

اس مجبور محنت کش نے اب اخبار کا سہارا لینے کی کوشش کی اور ایک خط میں بچے کی تصویر کے علاوہ اس کے مرض کی تشخیص کے حوالے سے لیبارٹری رپورٹوں کی فوٹو کاپیاں بھی منسلک کی ہیں اور توقع کی ہے کہ اگر ہم کالم میں ذکر کردیں تو اس دنیا میں ایسے دردمند ضرور ہوں گے جو اس کے بیٹے کی جان بچانے کے لئے آگے آئیں گے۔ہم نے اپنی عادت کے خلاف کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا بچے کی جسمانی اذیت اور اس کے غریب والد کی مالی پریشانی کا احساس ہونے کی وجہ سے اس کالم میں ذکر کردیا ہے۔اب یہ مخیر حضرات کا کام ہے کہ وہ اس کی مدد کے لئے آگے بڑھیں اور بچے کے علاج میں معاونت کریں۔ بچے کا علاج ارنم ہسپتال پشاور میں ہورہا ہے،جبکہ اس کے والد کا موجودہ پتہ باغدان ڈاک خانہ جی پی او ،مکان نمبر2جناح سٹریٹ پشاور اور رابطہ نمبر0334-9291270ہے، جو بھی مخیر مدد کرنا چاہیں، وہ ذاتی طور پر تسلی کرکے قدم آگے بڑھائیں کہ ایک معصوم زندگی بچ جائے۔بچے کے والد کے بقول ڈاکٹر کہتے ہیں کہ مرض ابتدائی مرحلے میں ہے اور قابل علاج ہے،جو یقیناً مہنگا ہے۔

ہم اس سلسلے میں خدمت خلق کی تنظیموں، مخیرحضرات، حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں سے گزارش کریں گے کہ وہ سب مل کر مجموعی طور پر ایک بڑا فنڈ قائم کریں، اس فنڈ سے کینسر اور ایسے دوسرے خطرناک امراض میں مبتلا ان لوگوں یا مریضوں کی مدد کی جائے جو غریب اور حق دار ہوں، اس فنڈ کا قیام کچھ زیادہ مشکل نہیں۔حکومتیں اپنے طور پر مفت علاج کے لئے بہت کچھ کرتی ہیں اورمخیرحضرات اپنے طور پر بہت کچھ کرتے ہیں، لیکن یہ سب کسی ضابطے کے تحت نہیں ہوتا، اگر مخیرحضرات، ادارے، حکومتیں اور این جی اوز مل کر ایک بڑا امدادی ادارہ بنا لیں، جس کا ایک تحقیقاتی شعبہ بھی ہو تو وہ ایسے ضرورت مندوں کی بہت زیادہ مدد کرسکتا ہے اور یہ ناممکن بھی نہیں۔

ویسے ہماری گزارش تو یہ ہے کہ موذی امراض کا شافی علاج دریافت کرنے کے لئے ہونے والی ریسرچ کو انسانی بنیادوں پر کیا جائے۔ادویات ساز ادارے مہنگی ادویات فروخت کرنے کے چکر میں دونمبر تحقیق سے اجتناب کریں تو کینسر، مرگی اور ایسے دوسرے امراض کے شافی علاج دریافت ہو سکتے ہیں۔زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ ایسے علاج دریافت ہونے سے ادویات ساز کمپنیوں کی پہلے سے موجود ادویات کی فروخت میں کمی ہوگی، لیکن یہ بھی تو سوچئے کہ نئی ادویات بھی تو بہر صورت فروخت ہوں گی، اس لئے منافع پھر بھی رہے گا، اللہ کرے ایسا ہوجائے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے یہی گزارش کی جا سکتی ہے کہ علاج سے بہتر پرہیز ہوتا ہے، ایسی تشہیری مہم کی ضرورت ہے ،جس سے لوگوں کو آگاہی ہو اور پھر ایسے اقدامات بھی ہوں کہ بیماریوں کا ذریعہ بننے والے عوامل کا قلع قمع کیا جا سکے۔    ٭

مزید :

کالم -