صدر اوباما.... اور امریکی مسلمانوں سے اُن کی محبت؟

صدر اوباما.... اور امریکی مسلمانوں سے اُن کی محبت؟
صدر اوباما.... اور امریکی مسلمانوں سے اُن کی محبت؟

  

میرے تجربات کے مطابق اکثر بھارتی مسلمان مالی افلاس کے ساتھ ساتھ ذہنی افلاس میں بھی مبتلا پائے جاتے ہیں۔ بھارت میں رہ کر ان کے لاشعور میں یہ احساس جاگزیں رہتا ہے کہ اُن کی سرکار انہیں سرکار کا کامل وفادار نہیں سمجھتی۔کچھ اس احساس تلے دبے زندگی گزار دیتے ہیں اور کچھ اس تاثر کو دور کرنے کے لئے اپنے تئیں ایسی عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں کہ ان پر نہ ہنسی آتی ہے، نہ افسوس ہوتا ہے۔ کچھ تیز طرار لوگ ایسی حرکتوں سے سرکار دربار میں مقام بھی بنا لیتے ہیں اور پھر اُن کی ایسی حرکتیں اور بیانات وغیرہ مزید مسلم آزار ہو جاتے ہیں۔ امریکی امیگرنٹس میں بھارتی مسلمانوں کی تعداد ناقابل ذکر حد تک کم ہے۔ اگر ان میں کوئی پڑھا لکھا آجائے تو وہ اپنے لاشعور میں موجود بھارتی سرکار کی جگہ امریکی سرکار کی مورتی سجا کر اس کے بھجن گانے لگتا ہے۔ سی این این میں ایسے ہی ایک بھارتی مسلمان صحافی فرید ذکریا ہیں۔ امان علی ایک اور ایسے صحافی ہیں، لیکن ان کی پرورش و پرداخت امریکن ہے۔ یہ زیادہ تر امریکن انداز میں سوچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انعام یافتہ بھی ہیں۔ نیویارکر ہیں، اس لئے نیویارک کے مخصوص ماحول کے حوالے سے بات کریں تو اس میں جان بھی ہوتی ہے۔ ہفتہ بھر پہلے امان علی نے اسرائیلی اخبار ”حارث“ کے بلاگر پر صدر باراک اوباما اور ان کی امریکی مسلمانوں سے محبت کے حوالے سے ایک کالم لکھا جو دل چسپ ہے۔ امان علی نے مجھے اس کالم کے مندرجات کو اپنے کالم میں استعمال کرنے کی اجازت دی اور کہا کہ مَیں اپنے قارئین کو بتا دوں کہ یہ کالم کہاں پڑھا جاسکتا ہے۔ سو کالم ”حارث“ کی 26 نومبر کی اشاعت میں شامل ہے۔

امان علی نے حالیہ انتخابات کے بعد جاری ہونے والے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ چھاینوے فیصد مسلمانوں نے صدر باراک اوباما کو ووٹ دئیے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ مَیں صدارتی انتخابات کے دوران اس حوالے سے لکھے گئے اپنے کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ مسلمانوں کی بھاری تعداد صدر باراک اوباما ہی کو ووٹ دے گی۔ اعداد و شمار میرے دعوے کی تصدیق کر رہے ہیں اور امان علی اس حوالے سے بات کر رہا ہے، اس لئے دیکھتے ہیں وہ کیا کہتا ہے، اس کے مطابق 96 فیصد مسلمان ووٹر آخر یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ صدر باراک اوباما انہیں پسند نہیں کرتے یا ہمارے معاملات میں ویسی دل چسپی نہیں لیتے، جیسی وہ کچھ دوسرے طبقات کے معاملوں میں لیتے ہیں، اُن سے میل ملاقات رکھتے ہیں، حالانکہ ہم اُن کے لئے ایک عمدہ ”شکار“ ہیں (ظاہر ہے کسی انتخابی امیدوار کے لئے اس کے ووٹر ایک”شکار“ کی حیثیت رکھتے ہیں).... لیکن ہو سکتا ہے کہ صدر باراک اوباما کو ہم سے کوئی محبت ہی نہ ہو۔ امریکی مسلمانوں کی طرف سے پیدا ہونے والے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے امان علی خالصتاً نیویارک کے ماحول سے ایک مثال دیتا ہے۔ نیویارک کی عورتیں خاصی چالاک مشہور ہیں۔ دوسرے شہروں اور دیہاتوں کی لڑکیاں بھولی بھالی ہوتی ہیں، پہلی ہی ملاقات میں محبت کے جال میں پھنس جاتی ہیں اور تمام حدیں پھلانگ جاتی ہیں، فوراً شادی بھی کر لیتی ہیں، لیکن نیویارکر عورتیں محبت کی ابتداءدوستی سے کرتی ہیں، تحفے تحائف لیتی ہیں، کھانے کھاتی ہیں، لیکن اس سے آگے نہیں بڑھتیں۔ جب مرد اس حد سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اسے کہہ دیتی ہیں، ابھی ہم محض دوست ہیں۔ ہمارے درمیان معاملات اس حد تک آگے بڑھنے میں وقت درکار ہے۔ اس کے لئے یہاں ایک اصطلاح حلقہءدوستی“ استعمال ہوتی ہے اور اکثر مرد اس حلقہءدوستی سے شاکی پائے جاتے ہیں۔ حلقہءدوستی کی حدوں کو پار کرنے کے لئے مختلف جتن کرتے ہیں۔ ماہرین سے مشورے لیتے ہیں اور اس موضوع پر کتابیں پڑھتے ہیں۔

 امان علی اسی حلقہءدوستی کے حوالے سے قارئین سے سوال کرتے ہیں کہ کبھی ایسا ہوا کہ آپ کسی لڑکی کو پسند کرنے لگے ہوں، محض دوست نہیں، اس سے کچھ بڑھ کر، لیکن وہ ایسا ہرگز محسوس نہ کرتی ہو، وہ لڑکی صرف حلقہءدوستی تک محدود رہنا چاہتی ہو۔ اس صورت میں آپ یہی فیصلہ کرتے ہیں کہ چلئے انتظار کرلیں، اُس وقت کا جب آپ اس لڑکی کو اس حلقہءدوستی سے نکال کر اگلے مرحلے میں لے جاسکیں۔ آپ یہ سوچتے ہیں کہ حلقہءدوستی کی اس شاہراہ پر اگر مَیں اسی سبک رفتاری اور مستقل مزاجی سے سفر جاری رکھوں تو اس شاہراہ سے باہر نکلنے کا راستہ کبھی نہ کبھی مل ہی جائے گا، جہاں سے مجھے ایسا راستہ مل جائے گا جو جسمانی تعلق یا شادی کے بندھن کی منزل تک پہنچا دے گا، لیکن ایسا راستہ کبھی نہیں آتا اور آپ کا سفر اسی حلقہءدوستی میں چکر پر چکر کاٹ کر کسی اندھے موڑ پر ختم ہو جاتا ہے۔ لڑکی کسی اور کے ساتھ چلی جاتی ہے یا شادی کر لیتی ہے اور آپ منہ دیکھتے اور ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔

امان علی کہتا ہے، بطور امریکی مسلمان مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر اوباما کا ہم سب سے کچھ ایسا ہی حلقہءدوستی کا رشتہ ہے۔ وہ ( صدر باراک اوباما) ہمیں پسند کرتے ہیں، لیکن اُس طرح نہیں ، جس طرح امریکہ کے کئی دوسرے طبقات کو پسند کرتے ہیں، اُن سے ملتے جُلتے ہیں یا اُن سے بات چیت کرتے ہیں۔ صدر اوباما نے امریکی مسلمانوں کو حلقہءدوستی میں ڈال رکھا ہے۔ وہ اس پر بہت مطمئن اور خوش ہوتے ہیں۔ جب ہم اُن کے ہاں جا کر افطاری کی تقریب میں شرکت کریں اور وہ اس موقع پر ہمیں یہ بھی کہیں گے کہ ہم انہیں کتنے اچھے لگتے ہیں، لیکن جب وہ اپنے رپورٹر دوستوں کے درمیان ہوں گے تو ہمارے آس پاس رہنے یا ہمیں اپنے آس پاس رکھنے کو پسند نہیں کریں گے۔ مجمعءعام میں وہ اس طرح ظاہر کریں گے، جیسے نہ ہم اُن کے ساتھ کبھی سکول گئے ہیں، نہ اُن کے ساتھ پلے بڑھے ہیں....(یعنی وہ کسی تعلق سے لاتعلقی کا رویہ اختیار کریں گے)

امان علی لکھتا ہے کہ گزشتہ ہفتے مجھے صدر باراک اوباما کے اس حلقہءدوستی کا بڑی شدت سے احساس ہوا، جب امریکہ نے اسرائیل اورفلسطینیوں میں ایک مجہول سی جنگ بندی کی ڈیل کرائی۔ جب گزشتہ (سے پیوسہ) ہفتے اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر ہوائی حملے شروع کئے تو صدر باراک اوباما نے اُنہی پرانے بیانات کی فوٹو کاپی (بھارتی اسے ہمیشہ زیروکس کاپی کہتے ہیں) جاری کر دی، جو ہمیشہ سے ایسے موقعوں پر جاری ہوتے رہتے ہیں.... ”اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے“۔ یقیناً ہر وہ ملک جو کسی حملے کی زد میں ہو، اُسے یہ جائز حق حاصل ہے کہ وہ اپنا دفاع کا حق استعمال کرے، لیکن کیا کبھی امریکہ نے اس دفاع کی کوئی کم از کم حد بھی متعین کی ہے یا اس بارے میں کبھی کچھ کہا تک ہے؟ اسرائیل کی فوجی کارروائی اور فلسطینیوں کے راکٹوں سے ایک سو ساٹھ فلسطینی اور چھ اسرائیلی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ ایک سو ساٹھ بمقابلہ چھ ایسا لگتا ہے، جیسے کلیولینڈ براو¿نز کا سکور بورڈ ہو اور مسئلہ یہی ہے۔

مَیں (امان علی) اسرائیل، فلسطین مسئلے میں دو ریاستوں کے قیام کے حل کا زبرست حامی ہوں اور سمجھتا ہوں کہ ہر دو فریق دوسرے کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں کا حق رکھتے ہیں....(غالباً یہ سوچ بھارتی مسلم نفسیات کی وجہ سے ہے).... لیکن یہ ایک الگ معاملہ ہے۔ مَیں (امان علی) یہ محسوس کرتا ہوں کہ صدرباراک اوباما کی فلسطینیوں کی حمایت کا معاملہ ایک اور ایسی مثال ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مسلمانوں سے بہت کم لگاو¿ رکھتے ہیں اور ہمیں (مسلمانوں کو) حلقہءدوستی میں رکھتے ہیں۔ منطقی طور پر صدر باراک اوباما اور اُن سے پہلے کے امریکی صدور امریکہ میں ان کے انتخابات میں یہودیوں کی طرف سے حمایت کے بدلے میں اسرائیل کے زبردست حامی ہیں اور سیاست میں ایسا ہی چلتا ہے۔ جتنا آپ کسی لیڈر کی حمایت کرتے ہیں، جواب میں وہ لیڈر اتنی ہی آپ کی حمایت کرتا ہے اور یہ بات میرے لئے باعث پریشانی نہیں ہے۔

پریشانی کی بات تو یہ ہے کہ مسلمان بھی تو یہی کچھ کر رہے ہیں۔ کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے اس سال کے انتخابات کے سلسلے میں ایک اندازہ لگایا تو معلوم ہوا کہ ووٹ ڈالنے کے اہل چھاینوے فی صد مسلمان ووٹ ڈالیں گے اور ان میں سے کم از کم چھاینوے فیصد ضرور باراک اوباما کو ووٹ دیں گے....(امان علی کو معلوم نہیں کہ اے ایم اے امریکنز مسلم ایسوسی ایشن اور پاکستانی ڈیمو کریٹس نے بھی باقاعدہ متفقہ فیصلہ کیا اور اس فیصلے کا اعلان اخبارات میں شائع ہوا کہ وہ باراک اوباما کو ووٹ دیں گے) لیکن کتنے امریکی مسلمان رہنماو¿ں سے باراک اوباما نے ملاقات کی؟ اُن کی حمایت پر اُن سے کوئی بات چیت کی، میرے علم کی حد تک کسی ایک سے بھی نہیں۔

پی ای ڈبلیو کی تحقیقات کے مطابق امریکہ میں تیس لاکھ مسلمان رہتے ہیں اور ان کی اکثریت اُن ریاستوں میں رہتی ہے، جنہیں (یعنی ووٹ کا فیصلہ کبھی ایک طرف کبھی دوسری طرف کرنے والی).... کہا جاتا ہے، جس میں ورجینیا، مشی گن اور اوہائیو شامل ہیں اور یہ مسلمان 2016ءکے انتخابات میں پانسہ پلٹنے کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتے ہیں، اس لئے مجھے (امان علی کو )سمجھ نہیں آتی کہ باراک اوباما اسی طرح کے دوسرے گروپوں میں ایسی کون سی بات دیکھتے ہیں جو انہیں مسلمانوں میں نظرنہیں آتی۔ ہم سب اس کے لئے ایک اچھا شکار ہیں۔ میری (امان علی کی )بات کو غلط نہ سمجھا جائے۔ مَیں جانتا ہوں کہ صدر باراک اوباما نے ہماری (مسلم ) کمیونٹی تک رسائی کے لئے ضرور کچھ نہ کچھ کوشش کی ہے۔ بالخصوص اگر ان کا صدر بُش سے موازنہ کیا جائے، لیکن مَیں (امان علی) محسوس کرتا ہوں کہ ہم حلقہءدوستی میں پھنسے ہوئے ہیں اور ہمارے تعلقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ صدر باراک اوباما تقریر کریں گے اور ہمیں بتائیں گے کہ ہم (مسلمان) انہیں کس قدر اچھے لگتے ہیں۔ مصر میں اُن کی تقریر اسی قسم کی مثال تھی، جس میں عندیہ ظاہر کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ بہتر سلوک کریں گے۔ انہوں نے (اپنے پہلے انتخابات کے موقع پر ) یہ بھی کہا تھا کہ صدر منتخب ہو کر ان کا پہلا اقدام گوانتا ناموبے کی جیل کو بند کرنا ہوگا۔ اس کے برعکس ہوا یہ کہ گوانتا نامو بے جیل تو بند نہیں ہوئی۔ صدر باراک اوباما نے پاکستان پر تین سو ڈرون حملوں کے احکامات جاری کئے جو صدر بش کے آٹھ برس کی حکومت میں ڈرون حملوں کے احکامات سے چھ گنا زیادہ ہیں۔

مَیں (امان علی) نے ابھی تو ہوائی اڈوں پر مسلمانوں کی جامہ تلاشی کی بات شروع نہیں کی، اگر صدر اوباما کے دور میں ہونے والے ان واقعات کا تذکرہ کروں تو میرا یہ کالم ”جنسی تلذذ“ کا شاہکار بن جائے گا۔ مسلمانوں کو سیاست میں سرگرم ہوئے یہی کوئی دو عشرے ہوئے ہیں، جبکہ اُن کے مقابلے میں دوسرے طبقات اس سے دو تین گنا زیادہ عرصے سے سیاست میں سرگرم ہیں۔ مَیں (امان علی ) سمجھتا ہوں کہ شاید اسی لئے ابھی تک مسلمانوں کو پوری توجہ نہیں مل پائی.... (امان علی نے اپنی نفسیات کے تحت خود ہی اپنی شکایت کا جواز بھی پیش کر دیا ہے)....لیکن ہم اس صورت حال سے نالاں ہیں۔ ہم اس حلقہءدوستی سے آگے نکلنا چاہتے ہیں۔ میرے (امان علی کے) مسلمان ساتھیوں کو بھی یہ بات محسوس کرنی چاہئے۔ مسلمانو! تم ہو سکتا ہے صدر باراک اوباما کو پسند کرتے ہو، لیکن وہ تمہاری طرف اس قدر توجہ کا روادار نہیں ہے۔    ٭

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)

مزید :

کالم -