نفرت سی ہوگئی ہے محبت کے نام سے

نفرت سی ہوگئی ہے محبت کے نام سے
نفرت سی ہوگئی ہے محبت کے نام سے

  

آج کل نجانے کیوں مجھے پرانی انڈین فلموں کی یاد زیادہ آنے لگی ہے.... لیکن پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر جس طرح انڈین فلم انڈسٹری چھائی ہوئی ہے، اس کو دیکھتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ ہم نے واقعی بھارت کو اپنا پسندیدہ ترین ملک جو بنا رکھا ہے.... اس شر میں میرے لئے ”خیر“ کا ایک پہلو بھی ہے۔ وہ یہ کہ صبح صبح جب اخبارات کھولتا ہوں تو بہت ساری انڈین اداکاراو¿ں کے جھرمٹ دیکھ کر ایک ناقابلِ بیان سی استراحت اور طبعیت میں ایک عجیب سا اہتراز محسوس کرتا ہوں۔ ویسے بزرگانِ دین مانیں نہ مانیں، مغرب نے سب کو زندیقی سکھا دی ہے۔ اس کا حجم بقدرِ استطاعت یا بقدرِ ذوق، کم یا زیادہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اگر مغربی میڈیا نے لان ٹینس سٹار سرینا ولیم کو سر پر اٹھا رکھا ہے تو بھارت میں ایک چھوڑ دو دو سرینا کی ہم قافیہ فلم سٹار موجود ہیں۔ کوئی کرینا کپور کہلاتی ہے تو کوئی قطرینا کیف ہے۔ ان ہم قافیہ بی بیوں نے بھارتی شوبز کو ” خانہ براندازِ چمن“ کر رکھا ہے۔ قطرینہ کیف تو پاکستانی ٹی وی چینلوں پر بھی جلوہ گر ہو کر سامانِ کیف و سرور فراہم کرتی ہیں اور علاوہ ازیں(Moreover) ایک پاکستانی نژاد ہم قافیہ خاتون بھی ایک عرصے سے ممبئی اور لاس اینجلس کے چکر لگا رہی ہیں، جنہیں وینا ملک کہا جاتا ہے۔ انٹر نیٹ نے چونکہ مشرق و مغرب کے قلابے ملا دئیے ہیں، اس لئے ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پرنٹ میڈیا کو اتنا زیادہ قصور وار نہیں گردانتے۔ ویسے بھی یہ مقابلے کا دور ہے اور مقابلہ سخت ہے۔ ہم جیسے پرانی وضع کے بزرگوں کومژدہ کہ ماڈرن ٹیکنالوجی نے وہ جنریشن گیپ تقریباً ختم کر دیا ہے جو ہمارے اپنے لڑکپن اور ہماری بزرگ نسل کے درمیان ایک حجاب سا بنا رہتا تھا۔ اگر میاں نواز شریف نوجوان بچے بچیوں میں لیپ ٹاپ تقسیم نہ بھی کرتے تو بھی گھروں کے بیڈ رومز کی جگہ نیٹ کیفے اس ”محرومی“ کو دور کرنے کے لئے کافی تھے۔

لیکن قارئین کرام! میرے ساتھ یہ عجیب معاملہ ہے کہ مَیں جہاں جدید ٹیکنالوجی کی ان ”برکات“ سے لطف اندوز ہونے لگتا ہوں تو اگلے ہی لمحے یہ اہتزاز قومی مفادات کی دھند میں تحلیل ہونے لگتا ہے اور آخر میں کراہت بلکہ نفرت کی حدوں کو چُھونے لگتا ہے۔

کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں؟

ناٹو ہیڈ کوارٹر برسلز (بلجیم) میں مَیں نے محترمہ حنا ربانی کھر صاحبہ اور محترمہ ہیلری کلنٹن کی تصاویر دیکھیں تو ماتھا ٹھنکا کہ ہو نہ ہو اب ان زنانہ مسکراہٹوں کے پیچھے پیچھے مردانہ سنجیدگیاں بھی دیکھنے کو ملیں گی۔

 چنانچہ یہی ہوا۔ آج پتہ چلا کہ جب برسلز میں یہ دونوں وزرائے خارجہ آپس میں مصافحہ کر رہی تھیں تو اسی وقت اسلام آباد میں پاکستان اور امریکہ کے دفاعی وفود بھی سٹریٹجک ڈیفنس ڈائیلاگ میں مصروف تھے۔ یہ ملاقاتیں نفرت و محبت کے اسی پینسٹھ سالہ دور کا تسلسل ہیں جو امریکہ اور پاکستان کے مابین چلا آ رہا ہے....اب پاک بھارت تعلقات کا قصیدہ پڑھیں یا پاک امریکہ تعلقات کو روئیں۔

پاک امریکہ تعلقات شروع ہی سے اُتار چڑھاو¿ کا شکار رہے ہیں.... امریکہ کو انیس سو پچاس کی دہائی میں اشتراکی یلغار کا خطرہ تھا تو پاکستان سے دوستی کا بندھن استوار ہوا۔ پھرانیس سو اسی کے عشرے میں سوویت یونین کا بحرہند کے گرم پانیوں اور مشرق وسطیٰ کے تیل کے نزدیک آنے کا خوف تھا تو پاکستان، امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ایک بنیادی پتھر بن کے سامنے آیا اور پھر جب القاعدہ کا خطرہ سرزمینِ امریکہ تک پہنچ کر ورلڈ ٹریڈ سنٹر جیسی فلک بوس نشانیوں کو مسمار کرنے کا سبب بنا تو پاکستان کو نان نیٹو اتحادی کا خلعتِ فاخرہ پہنایا گیا۔ لیکن یہ تمام اعزازات پاکستان کو امریکہ کی ابن الوقتی کی پالیسیوں کے تحت ”عطا“ کئے گئے۔ دونوں فریقوں کو معلوم تھا کہ کون کیا کر رہا ہے۔

دوسری طرف پاکستان کی اپنی مجبوریاں تھیں، جن کو اس وقت تک نہیں سمجھا جاسکتا، جب تک آپ خود منجدھار میں نہیں کُودتے۔ ساحل پر کھڑے ہو کر دریا کی طغیانیوں اور اس کے گردابوں کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برس مئی میں جب امریکہ نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے کمانڈوز زمینی حدود پر بھی اتارے تو پاکستان کی نان نیٹو اتحادی والی خلعتِ فاخرہ تار تار ہوگئی اور پھر جب سلالہ کا واقعہ پیش آیا تو اس تار تار خلعت کے چیتھڑے اُڑ گئے۔ اب 18 ماہ بعد از سر نو تجدید تعلقات ہونے لگی ہے۔ ایک طرف وزرائے خارجہ گلے مل رہی ہیں اور دوسری طرف دفاعی معاہدوں کی باتیں ہو رہی ہیں.... یعنی محبت.... نفرت.... پھر محبت.... پھر نفرت.... اور پھر محبت.... اور پھر نفرت کے بعد ایک بار اور محبت کا نام لیا جا رہا ہے۔ اسی لئے تو مجھے بار بار کی اس ”محبت“ سے ایک گونہ نفرت سی ہونے لگی ہے۔ مقاماتِ عشق و عاشقی میں اگرچہ محبت اور نفرت کے جذبے ایک دوسرے کے بالکل متوازی چل رہے ہوتے ہیں اور کچھ خبر نہیں ہوتی کہ کون سا جذبہ، دوسرے جذبے کو کس آن، اوور ٹیک کرتا ہے، لیکن جب تین چار بار یہی عمل دہرایا جائے تو محمد رفیع مرحوم کا یہ فلمی گیت درِ دل پر ضرور دستک دیتا ہے:

گزرے ہیں آج عشق میں ہم اس مقام سے

نفرت سی ہوگئی ہے، محبت کے نام سے

لیکن نفرت ہو یا محبت ہو، بعض عشق ایسے ہوتے ہیں جن کو نبھانا پڑتا ہے، پھر یہ بھی آپ کو معلوم ہوگا کہ ہرجائی عاشق اور ہرجائی معشوق دونوں کی ضرورتیں اپنی اپنی ہوتی ہیں۔

اب دیکھئے ناں امریکہ لاکھ ہر جائی سہی، پاکستان کو اس کی ضرورت ہے....پاکستان کو جو کچھ امریکہ دے سکتا ہے، وہ دنیا کا کوئی اور ملک نہیں دے سکتا۔ مثال کے طور پر جدید ڈیفنس ٹیکنالوجی کی بعض چیزیں ایسی بھی ہیں، جن پر صرف اور صرف امریکہ کی جارہ داری ہے۔ ہمارے پاس اٹیک ہیلی کاپٹروں کا جو بیڑا ہے اس کے بعض فاضل پرزہ جات صرف امریکہ ہی سے مل سکتے ہیں۔ اگر کوئی دوسرا ملک ہمیں یہ دے سکتا یا ہم کامرہ میں خود ان کو بنا سکتے تو پھر شاید 4 دسمبردوہزار بارہ کو راولپنڈی میں ہمارے سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) آصف یٰسین ملک اور امریکہ کے انڈر سیکرٹری دفاع ڈاکٹر جیمز مِلر کے درمیان جو ڈائیلاگ ہوئے، ان کی ضرورت نہ ہوتی۔

بعض امریکی ہتھیار اور عسکری سازو سامان امریکہ کی سٹیٹ آف دی آرٹ، یعنی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، جن کی دیکھ بھال کے لئے ہمیں جن اشیاء کی ضرورت ہے، وہ صرف امریکہ ہی سے مل سکتی ہیں۔

 اٹیک ہیلی کاپٹر کی تو مَیں نے ایک مثال دی ہے۔ اس کے علاوہ ہمارا بہت سا ایسا سازو سامان اور بھی ہے کہ امریکہ کی مدد کے بغیر وہ رائیگاں جا سکتا ہے۔ یہ وہ سامان اور اسلحہ ہے جو ہم نے امریکہ سے عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لئے حاصل کیا ہے۔ اگر وہ نہ ہو تو پاکستان کا دفاع کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ ہمارے دشمن بہت سے ہیں جن میں قریبی ہمسائے بھی شامل ہیں اور سٹریٹجک دشمن بھی.... ان سے عہدہ برآ ہونے کے لئے پاکستان کو سٹریٹجک نوعیت کے نتائج حاصل کرنے کے لئے سٹریٹجک اسلحہ جات کی ضرورت ہے۔ اسے ہماری مجبوری بھی کہا جاسکتا ہے۔ مَیں نے اوپر عرض کیا تھا کہ ساحل پر کھڑے ہو کر گردابوںکا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ جو حضرات بزعم خود ان گردابوں کی پرواہ نہ کرنے کا درس دیتے ہیں ان کو دریا میں کُودنے کے بعد ہی اندازہ ہو سکتا ہے کہ طوفانوں کی شدت کیا ہے۔

 اس قسم کے سٹریٹجک ڈائیلاگ جو راولپنڈی میں ہوئے یہ کوئی نئی پیش رفت بھی نہیں۔ عموماً یہی ہوتا ہے کہ پاکستان، امریکی دفاعی وفد کو مطلوبہ سازوسامان کی ایک لمبی چوڑی فہرست تیار کر کے دے دیتاہے کہ ہم کو یہ یہ کچھ درکار ہے۔ امریکہ کو بھی معلوم ہے کہ یہ فہرست، پاکستان کی اصل ضروریات سے بڑھ کر ہوتی ہے.... لیکن جب آپ کسی سے قرضہ مانگنے جائیں تو اگر دس لاکھ مانگیں گے تو شاید ایک دو لاکھ مل ہی جائیں، لیکن قرضے کے ”حجم“ کا فیصلہ آپس کی بات چیت کے ذریعے ہی طے کیا جا سکتا ہے۔ اعداد و شمار پیش کئے جاتے ہیں کہ آپ کو فلاں فلاں اسلحہ کی ضرورت کیوں ہے اور فلاں فلاں اسلحہ کن کن معرکوں / جھڑپوں کے دوران ”زخمی“ ہو کر بیکار پڑا ہوا ہے اور اس کے نتائج کیا نکل سکتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

ہم جانتے ہیں کہ آئندہ ایک دو برس امریکہ کے لئے بہت اہم ہیں۔ اس کے 66000 ٹروپس آج بھی افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ پینٹاگون نے تعین کرنا ہے کہ 2014ءتک امریکہ نے اپنے کتنے ٹروپس افغانستان میں چھوڑنے ہیں۔ بعض مبصر ایک ہزار اور بعض دس ہزار بتا رہے ہیں۔ افغانستان کے کوہ و دمن میں اور بھی بہت سے کھلاڑی ہیں جو جنگ کی بازی کھیل رہے ہیں۔ یہ ایک انتہائی اُلجھی ہوئی صورت حال ہے۔ خود امریکہ بھی یہ پیشگوئی نہیں کر سکتا کہ 2014ءکے بعد افغانستان کا نقشہ کیا ہوگا، لیکن یہ بات وہ وثوق سے کہہ سکتا ہے کہ پاکستان ہی ایک ایسا ہمسایہ ہے جو اس نقشے میں کئی رنگ بھر سکتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ پاکستان کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ دونوں کو اپنی اپنی کمزوریوں کا پتہ ہے۔ پاکستان کو بھی معلوم ہے کہ گزشتہ دس بارہ برسوں میں امریکہ نے افغانستان اور پاکستان میں کیا کیا ہے، پاکستانی فوج کو کیا کیا قربانیاں دینی پڑی ہیں اور پاکستانی قوم کو کن کن پل صراطوں سے گزرنا پڑا ہے اور اب بھی گزر رہی ہے۔ اس لئے نفرت اور محبت کا یہ سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ دو طرفہ فیصلہ ہے اور بین الاقوامی سیاسیات میں یہی کچھ ہوتا ہے۔

ہمارے میڈیا میں فوج پر طعن زنی کی جاتی ہے کہ وہ پاکستان کی دفاعی اور خارجہ پالیسیاں تشکیل دیتی ہے جبکہ یہ کام فوج کا نہیں، سویلین بیورو کریسی اور سویلین اعیانِ حکومت کا ہے۔ لیکن جب تک ہم ”فوج“ کو سمجھتے نہیں، رموزِ سپہ گری نہیں جانتے، حدیثِ دفاع کا درس نہیں لیتے، ملٹری ہسٹری کے مطالعے کی زحمت نہیں اُٹھاتے، گلوبل دفاعی منظر (سینریو) کا ادراک نہیں کرتے، دفاع اور خارجہ امور کے مابین اٹوٹ رشتے کا شعور نہیں پاتے، تب تک پاکستان کی ملٹری ہی یہ کام انجام دیتی رہے گی.... اور ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ہماری ملٹری کوئی غیر ملکی یا دشمن ملٹری نہیں، پاکستانی ملٹری ہے، جس کا ہر سپاہی اور ہر آفیسر سب سے پہلے پاکستانی ہے اور بعد میں کچھ اور ہے۔  ٭

 šŽ„ ’¤ ¦¢£¤ ¦¥ Ÿ‰‚„ œ¥  Ÿ ’¥

³‡ œž  ‡ ¥ œ¤¢¡ Ÿ‡§¥ ƒŽ ¤  Œ¤  šžŸ¢¡ œ¤ ¤‹ ¤‹¦ ³ ¥ ž¤ ¦¥à ž¤œ  ƒœ’„ ¤ ƒŽ … ¢Ž ž¤œ…Ž œ Ÿ¤Œ¤ ƒŽ ‡’ –Ž‰  Œ¤  šžŸ  Œ’…Ž¤ ˆ§£¤ ¦¢£¤ ¦¥í ’ œ¢ ‹¤œ§„ ¦¢¡ „¢ Š¤ž ³„ ¦¥ œ¦ ¦Ÿ  ¥ ¢›˜¤ ‚§Ž„ œ¢ ƒ  ƒ’ ‹¤‹¦ „Ž¤  Ÿžœ ‡¢ ‚  Žœ§ ¦¥à ’ “Ž Ÿ¤¡ Ÿ¤Ž¥ ž£¥ þþŠ¤Žýý œ ¤œ ƒ¦ž¢ ‚§¤ ¦¥ó ¢¦ ¤¦ œ¦ ”‚‰ ”‚‰ ‡‚ Š‚Ž„ œ§¢ž„ ¦¢¡ „¢ ‚¦„ ’Ž¤  Œ¤  ‹œŽ¢¿¡ œ¥ ‡§ŽŸ… ‹¤œ§ œŽ ¤œ  ›‚žª ‚¤  ’¤ ’„Ž‰„ ¢Ž –‚˜¤„ Ÿ¤¡ ¤œ ˜‡¤‚ ’ ¦„Ž Ÿ‰’¢’ œŽ„ ¦¢¡ó ¢¤’¥ ‚Ž ª ‹¤  Ÿ ¤¡  ¦ Ÿ ¤¡í Ÿ™Ž‚  ¥ ’‚ œ¢  ‹¤›¤ ’œ§ ‹¤ ¦¥ó ’ œ ‰‡Ÿ ‚›‹Žª ’„–˜„ ¤ ‚›‹Žª ¢›í œŸ ¤ ¤‹¦ ¦¢ ’œ„ ¦¥í ž¤œ  ’ œ¥ ¦¢ ¥ Ÿ¤¡ œ¢£¤ “‚¦  ¦¤¡ó Ž Ÿ™Ž‚¤ Ÿ¤Œ¤  ¥ ž  …¤ ’ ’…Ž ’Ž¤  ¢ž¤Ÿ œ¢ ’Ž ƒŽ …§ Žœ§ ¦¥ „¢ ‚§Ž„ Ÿ¤¡ ¤œ ˆ§¢ ‹¢ ‹¢ ’Ž¤  œ¤ ¦Ÿ ›š¤¦ šžŸ ’…Ž Ÿ¢‡¢‹ ¦¤¡ó œ¢£¤ œŽ¤  œƒ¢Ž œ¦ž„¤ ¦¥ „¢ œ¢£¤ ›–Ž¤  œ¤š ¦¥ó   ¦Ÿ ›š¤¦ ‚¤ ‚¤¢¡  ¥ ‚§Ž„¤ “¢‚ œ¢ þþ Š ¦ ‚Ž ‹ª ˆŸ ýý œŽ Žœ§ ¦¥ó ›–Ž¤ ¦ œ¤š „¢ ƒœ’„ ¤ …¤ ¢¤ ˆ¤ ž¢¡ ƒŽ ‚§¤ ‡ž¢¦ Ž ¦¢ œŽ ’Ÿ ª œ¤š ¢ ’Ž¢Ž šŽ¦Ÿ œŽ„¤ ¦¤¡ ¢Ž ˜ž¢¦ ¤¡(Moreover) ¤œ ƒœ’„ ¤  ‘‹ ¦Ÿ ›š¤¦ Š„¢  ‚§¤ ¤œ ˜Ž”¥ ’¥ ŸŸ‚£¤ ¢Ž ž’ ¤ ‡ž’ œ¥ ˆœŽ ž Ž¦¤ ¦¤¡í ‡ ¦¤¡ ¢¤  Ÿžœ œ¦ ‡„ ¦¥ó  …Ž  ¤…  ¥ ˆ¢ œ¦ Ÿ“Ž› ¢ Ÿ™Ž‚ œ¥ ›ž‚¥ Ÿž ‹£¤¥ ¦¤¡í ’ ž£¥ ¦Ÿ ’žŸ¤ ‡Ÿ¦¢Ž¤¦ ƒœ’„  œ¥ ƒŽ … Ÿ¤Œ¤ œ¢ „  ¤‹¦ ›”¢Ž ¢Ž  ¦¤¡ Ž‹ „¥ó ¢¤’¥ ‚§¤ ¤¦ Ÿ›‚ž¥ œ ‹¢Ž ¦¥ ¢Ž Ÿ›‚ž¦ ’Š„ ¦¥ó ¦Ÿ ‡¤’¥ ƒŽ ¤ ¢•˜ œ¥ ‚Ž¢¡ œ¢Ÿ‘‹¦ œ¦ ŸŒŽ  …¤œ ž¢‡¤  ¥ ¢¦ ‡ Ž¤“  ¤ƒ „›Ž¤‚Ç Š„Ÿ œŽ ‹¤ ¦¥ ‡¢ ¦ŸŽ¥ ƒ ¥ žœƒ  ¢Ž ¦ŸŽ¤ ‚Ž  ’ž œ¥ ‹ŽŸ¤  ¤œ ‰‡‚ ’ ‚  Ž¦„ „§ó Ž Ÿ¤¡  ¢ “Ž¤š  ¢‡¢  ‚ˆ¥ ‚ˆ¤¢¡ Ÿ¤¡ ž¤ƒ …ƒ „›’¤Ÿ  ¦ ‚§¤ œŽ„¥ „¢ ‚§¤ §Ž¢¡ œ¥ ‚¤Œ Ž¢Ÿ œ¤ ‡¦  ¤… œ¤š¥ ’ þþŸ‰Ž¢Ÿ¤ýý œ¢ ‹¢Ž œŽ ¥ œ¥ ž£¥ œš¤ „§¥ó

ž¤œ  ›Ž£¤  œŽŸÚ Ÿ¤Ž¥ ’„§ ¤¦ ˜‡¤‚ Ÿ˜Ÿž¦ ¦¥ œ¦ Ÿ«¤¡ ‡¦¡ ‡‹¤‹ …¤œ ž¢‡¤ œ¤   þþ‚Žœ„ýý ’¥ ž–š  ‹¢ ¦¢ ¥ ž„ ¦¢¡ „¢ ž¥ ¦¤ žŸ‰¥ ¤¦ ¦„ ›¢Ÿ¤ Ÿš‹„ œ¤ ‹§ ‹ Ÿ¤¡ „‰ž¤ž ¦¢ ¥ ž„ ¦¥ ¢Ž ³ŠŽ Ÿ¤¡ œŽ¦„ ‚žœ¦  šŽ„ œ¤ ‰‹¢¡ œ¢ ˆ¬§¢ ¥ ž„ ¦¥ó

œˆ§ ˜ž‡ ’ œ ‚§¤ ¥ ˆŽ¦ Ž¡ ¦¥ œ¦  ¦¤¡î

 …¢ ¦¤Œ œ¢Ž…Ž ‚Ž’ž â‚ž‡¤Ÿá Ÿ¤¡ Ÿ«¤¡  ¥ Ÿ‰„ŽŸ¦ ‰  Ž‚ ¤ œ§Ž ”‰‚¦ ¢Ž Ÿ‰„ŽŸ¦ ¦¤žŽ¤ œž …  œ¤ „”¢¤Ž ‹¤œ§¤¡ „¢ Ÿ„§ …§ œ œ¦ ¦¢  ¦ ¦¢ ‚     ¦ Ÿ’œŽ¦…¢¡ œ¥ ƒ¤ˆ§¥ ƒ¤ˆ§¥ ŸŽ‹ ¦ ’ ‡¤‹¤¡ ‚§¤ ‹¤œ§ ¥ œ¢ Ÿž¤¡ ¤ó

ˆ  ˆ¦ ¤¦¤ ¦¢ó ³‡ ƒ„¦ ˆž œ¦ ‡‚ ‚Ž’ž Ÿ¤¡ ¤¦ ‹¢ ¢¡ ¢Ž£¥ ŠŽ‡¦ ³ƒ’ Ÿ¤¡ Ÿ”š‰¦ œŽ Ž¦¤ „§¤¡ „¢ ’¤ ¢›„ ’žŸ ³‚‹ Ÿ¤¡ ƒœ’„  ¢Ž ŸŽ¤œ¦ œ¥ ‹š˜¤ ¢š¢‹ ‚§¤ ’…Ž¤…‡œ Œ¤š ’ Œ£¤ž Ÿ¤¡ Ÿ”Ž¢š „§¥ó ¤¦ Ÿž›„¤¡  šŽ„ ¢ Ÿ‰‚„ œ¥ ’¤ ƒ¤ ’…§ ’ž¦ ‹¢Ž œ „’ž’ž ¦¤¡ ‡¢ ŸŽ¤œ¦ ¢Ž ƒœ’„  œ¥ Ÿ‚¤  ˆž ³ Ž¦ ¦¥à‚ ƒœ ‚§Ž„ „˜ž›„ œ ›”¤‹¦ ƒ§¤¡ ¤ ƒœ ŸŽ¤œ¦ „˜ž›„ œ¢ Ž¢£¤¡ó

ƒœ ŸŽ¤œ¦ „˜ž›„ “Ž¢˜ ¦¤ ’¥ ¬„Ž ˆ§¢¿ œ “œŽ Ž¦¥ ¦¤¡à ŸŽ¤œ¦ œ¢  ¤’ ’¢ ƒˆ’ œ¤ ‹¦£¤ Ÿ¤¡ “„Žœ¤ ¤ž™Ž œ Š–Ž¦ „§ „¢ ƒœ’„  ’¥ ‹¢’„¤ œ ‚ ‹§  ’„¢Ž ¦¢ó ƒ§Ž ¤’ ’¢ ’¤ œ¥ ˜“Ž¥ Ÿ¤¡ ’¢¢¤„ ¤¢ ¤  œ ‚‰Ž¦ ‹ œ¥ ŽŸ ƒ ¤¢¡ ¢Ž Ÿ“Ž› ¢’–¤½ œ¥ „¤ž œ¥  ‹¤œ ³ ¥ œ Š¢š „§ „¢ ƒœ’„ í ŸŽ¤œ¦ œ¤ ŠŽ‡¦ ƒž¤’¤ Ÿ¤¡ ¤œ ‚ ¤‹¤ ƒ„§Ž ‚  œ¥ ’Ÿ ¥ ³¤ ¢Ž ƒ§Ž ‡‚ ž›˜‹¦ œ Š–Ž¦ ’ŽŸ¤ ª ŸŽ¤œ¦ „œ ƒ¦ ˆ œŽ ¢ŽžŒ …Ž¤Œ ’ …Ž ‡¤’¤ šžœ ‚¢’  “ ¤¢¡ œ¢ Ÿ’ŸŽ œŽ ¥ œ ’‚‚ ‚  „¢ ƒœ’„  œ¢     ¤…¢ „‰‹¤ œ Šž˜„ª šŠŽ¦ ƒ¦ ¤ ¤ó ž¤œ  ¤¦ „ŸŸ ˜„ ƒœ’„  œ¢ ŸŽ¤œ¦ œ¤ ‚  ž¢›„¤ œ¤ ƒž¤’¤¢¡ œ¥ „‰„ þþ˜–ýý œ£¥ £¥ó ‹¢ ¢¡ šŽ¤›¢¡ œ¢ Ÿ˜ž¢Ÿ „§ œ¦ œ¢  œ¤ œŽ Ž¦ ¦¥ó

‹¢’Ž¤ –Žš ƒœ’„  œ¤ ƒ ¤ Ÿ‡‚¢Ž¤¡ „§¤¡í ‡  œ¢ ’ ¢›„ „œ  ¦¤¡ ’Ÿ‡§ ‡’œ„í ‡‚ „œ ³ƒ Š¢‹ Ÿ ‡‹§Ž Ÿ¤¡  ¦¤¡ œ¬¢‹„¥ó ’‰ž ƒŽ œ§¥ ¦¢ œŽ ‹Ž¤ œ¤ –™¤ ¤¢¡ ¢Ž ’ œ¥ Ž‹‚¢¡ œ  ‹¦  ¦¤¡ œ¤ ‡’œ„ó ¤¦¤ ¢‡¦ ¦¥ œ¦ “„¦ ‚Ž’ Ÿ£¤ Ÿ¤¡ ‡‚ ŸŽ¤œ¦  ¥ ƒœ’„  œ¤ š•£¤ ‰‹¢‹ œ¤ Šžš ¢Ž¤ œŽ„¥ ¦¢£¥ ƒ ¥ œŸ Œ¢ Ÿ¤ ¤ ‰‹¢‹ ƒŽ ‚§¤ „Ž¥ „¢ ƒœ’„  œ¤     ¤…¢ „‰‹¤ ¢ž¤ Šž˜„ª šŠŽ¦ „Ž „Ž ¦¢£¤ ¢Ž ƒ§Ž ‡‚ ’žž¦ œ ¢›˜¦ ƒ¤“ ³¤ „¢ ’ „Ž „Ž Šž˜„ œ¥ ˆ¤„§¥ ¬ £¥ó ‚ 18 Ÿ¦ ‚˜‹  ’Ž  ¢ „‡‹¤‹ „˜ž›„ ¦¢ ¥ ž¤ ¦¥ó ¤œ –Žš ¢Ž£¥ ŠŽ‡¦ ž¥ Ÿž Ž¦¤ ¦¤¡ ¢Ž ‹¢’Ž¤ –Žš ‹š˜¤ Ÿ˜¦‹¢¡ œ¤ ‚„¤¡ ¦¢ Ž¦¤ ¦¤¡à ¤˜ ¤ Ÿ‰‚„à  šŽ„à ƒ§Ž Ÿ‰‚„à ƒ§Ž  šŽ„à ¢Ž ƒ§Ž Ÿ‰‚„à ¢Ž ƒ§Ž  šŽ„ œ¥ ‚˜‹ ¤œ ‚Ž ¢Ž Ÿ‰‚„ œ  Ÿ ž¤ ‡ Ž¦ ¦¥ó ’¤ ž£¥ „¢ Ÿ‡§¥ ‚Ž ‚Ž œ¤ ’ þþŸ‰‚„ýý ’¥ ¤œ ¢ ¦  šŽ„ ’¤ ¦¢ ¥ ž¤ ¦¥ó Ÿ›Ÿ„ª ˜“› ¢ ˜“›¤ Ÿ¤¡ Žˆ¦ Ÿ‰‚„ ¢Ž  šŽ„ œ¥ ‡‚¥ ¤œ ‹¢’Ž¥ œ¥ ‚žœž Ÿ„¢¤ ˆž Ž¦¥ ¦¢„¥ ¦¤¡ ¢Ž œˆ§ Š‚Ž  ¦¤¡ ¦¢„¤ œ¦ œ¢  ’ ‡‚¦í ‹¢’Ž¥ ‡‚¥ œ¢ œ’ ³ í ¢¢Ž …¤œ œŽ„ ¦¥í ž¤œ  ‡‚ „¤  ˆŽ ‚Ž ¤¦¤ ˜Ÿž ‹¦Ž¤ ‡£¥ „¢ Ÿ‰Ÿ‹ Žš¤˜ ŸŽ‰¢Ÿ œ ¤¦ šžŸ¤ ¤„ ‹Žª ‹ž ƒŽ •Ž¢Ž ‹’„œ ‹¤„ ¦¥é

Ž¥ ¦¤¡ ³‡ ˜“› Ÿ¤¡ ¦Ÿ ’ Ÿ›Ÿ ’¥

 šŽ„ ’¤ ¦¢£¤ ¦¥í Ÿ‰‚„ œ¥  Ÿ ’¥

ž¤œ   šŽ„ ¦¢ ¤ Ÿ‰‚„ ¦¢í ‚˜• ˜“› ¤’¥ ¦¢„¥ ¦¤¡ ‡  œ¢  ‚§  ƒ„ ¦¥í ƒ§Ž ¤¦ ‚§¤ ³ƒ œ¢ Ÿ˜ž¢Ÿ ¦¢ œ¦ ¦Ž‡£¤ ˜“› ¢Ž ¦Ž‡£¤ Ÿ˜“¢› ‹¢ ¢¡ œ¤ •Ž¢Ž„¤¡ ƒ ¤ ƒ ¤ ¦¢„¤ ¦¤¡ó

‚ ‹¤œ§£¥  ¡ ŸŽ¤œ¦ žœ§ ¦Ž ‡£¤ ’¦¤í ƒœ’„  œ¢ ’ œ¤ •Ž¢Ž„ ¦¥àƒœ’„  œ¢ ‡¢ œˆ§ ŸŽ¤œ¦ ‹¥ ’œ„ ¦¥í ¢¦ ‹ ¤ œ œ¢£¤ ¢Ž Ÿžœ  ¦¤¡ ‹¥ ’œ„ó Ÿ†ž œ¥ –¢Ž ƒŽ ‡‹¤‹ Œ¤š ’ …¤œ ž¢‡¤ œ¤ ‚˜• ˆ¤¤¡ ¤’¤ ‚§¤ ¦¤¡í ‡  ƒŽ ”Žš ¢Ž ”Žš ŸŽ¤œ¦ œ¤ ‡Ž¦ ‹Ž¤ ¦¥ó ¦ŸŽ¥ ƒ’ …¤œ ¦¤ž¤ œƒ…Ž¢¡ œ ‡¢ ‚¤ ¦¥ ’ œ¥ ‚˜• š•ž ƒŽ¦ ‡„ ”Žš ŸŽ¤œ¦ ¦¤ ’¥ Ÿž ’œ„¥ ¦¤¡ó Ž œ¢£¤ ‹¢’Ž Ÿžœ ¦Ÿ¤¡ ¤¦ ‹¥ ’œ„ ¤ ¦Ÿ œŸŽ¦ Ÿ¤¡ Š¢‹   œ¢ ‚  ’œ„¥ „¢ ƒ§Ž “¤‹ 4 ‹’Ÿ‚Ž‹¢¦Ž ‚Ž¦ œ¢ Ž¢žƒ Œ¤ Ÿ¤¡ ¦ŸŽ¥ ’¤œŽ…Ž¤ ‹š˜ ž¤š…¤  … ‡ Žž âŽá ³”š ¤½’¤  Ÿžœ ¢Ž ŸŽ¤œ¦ œ¥  ŒŽ ’¤œŽ…Ž¤ ‹š˜ Œœ…Ž ‡¤Ÿ ŸªžŽ œ¥ ‹ŽŸ¤  ‡¢ Œ£¤ž ¦¢£¥í   œ¤ •Ž¢Ž„  ¦ ¦¢„¤ó

‚˜• ŸŽ¤œ¤ ¦„§¤Ž ¢Ž ˜’œŽ¤ ’¢ ’Ÿ  ŸŽ¤œ¦ œ¤ ’…¤… ³š ‹¤ ³Ž…í ¤˜ ¤ ‡‹¤‹ „Ž¤  …¤œ ž¢‡¤ ’¥ ž¤’ ¦¤¡í ‡  œ¤ ‹¤œ§ ‚§ž œ¥ ž£¥ ¦Ÿ¤¡ ‡  “¤£ œ¤ •Ž¢Ž„ ¦¥í ¢¦ ”Žš ŸŽ¤œ¦ ¦¤ ’¥ Ÿž ’œ„¤ ¦¤¡ó

…¤œ ¦¤ž¤ œƒ…Ž œ¤ „¢ Ÿ«¤¡  ¥ ¤œ Ÿ†ž ‹¤ ¦¥ó ’ œ¥ ˜ž¢¦ ¦ŸŽ ‚¦„ ’ ¤’ ’¢ ’Ÿ  ¢Ž ‚§¤ ¦¥ œ¦ ŸŽ¤œ¦ œ¤ Ÿ‹‹ œ¥ ‚™¤Ž ¢¦ Ž£¤¡ ‡ ’œ„ ¦¥ó ¤¦ ¢¦ ’Ÿ  ¢Ž ’ž‰¦ ¦¥ ‡¢ ¦Ÿ  ¥ ŸŽ¤œ¦ ’¥ ˜’œŽ¤„ ƒ’ ‹¢¡ ’¥  Ÿ… ¥ œ¥ ž£¥ ‰”ž œ¤ ¦¥ó Ž ¢¦  ¦ ¦¢ „¢ ƒœ’„  œ ‹š˜ œŽ ¥ Ÿ¤¡ Ÿ“œž„ ƒ¤“ ³’œ„¤ ¦¤¡ó ¦ŸŽ¥ ‹“Ÿ  ‚¦„ ’¥ ¦¤¡ ‡  Ÿ¤¡ ›Ž¤‚¤ ¦Ÿ’£¥ ‚§¤ “Ÿž ¦¤¡ ¢Ž ’…Ž¤…‡œ ‹“Ÿ  ‚§¤à   ’¥ ˜¦‹¦ ‚Ž³ ¦¢ ¥ œ¥ ž£¥ ƒœ’„  œ¢ ’…Ž¤…‡œ  ¢˜¤„ œ¥  „£‡ ‰”ž œŽ ¥ œ¥ ž£¥ ’…Ž¤…‡œ ’ž‰¦ ‡„ œ¤ •Ž¢Ž„ ¦¥ó ’¥ ¦ŸŽ¤ Ÿ‡‚¢Ž¤ ‚§¤ œ¦ ‡’œ„ ¦¥ó Ÿ«¤¡  ¥ ¢ƒŽ ˜Ž• œ¤ „§ œ¦ ’‰ž ƒŽ œ§¥ ¦¢ œŽ Ž‹‚¢¡œ Ÿ›‚ž¦  ¦¤¡ œ¤ ‡’œ„ó ‡¢ ‰•Ž„ ‚˜Ÿ Š¢‹   Ž‹‚¢¡ œ¤ ƒŽ¢¦  ¦ œŽ ¥ œ ‹Ž’ ‹¤„¥ ¦¤¡   œ¢ ‹Ž¤ Ÿ¤¡ œ¬¢‹ ¥ œ¥ ‚˜‹ ¦¤  ‹¦ ¦¢ ’œ„ ¦¥ œ¦ –¢š ¢¡ œ¤ “‹„ œ¤ ¦¥ó

’ ›’Ÿ œ¥ ’…Ž¤…‡œ Œ£¤ž ‡¢ Ž¢žƒ Œ¤ Ÿ¤¡ ¦¢£¥ ¤¦ œ¢£¤  £¤ ƒ¤“ Žš„ ‚§¤  ¦¤¡ó ˜Ÿ¢ŸÇ ¤¦¤ ¦¢„ ¦¥ œ¦ ƒœ’„ í ŸŽ¤œ¤ ‹š˜¤ ¢š‹ œ¢ Ÿ–ž¢‚¦ ’¢’Ÿ  œ¤ ¤œ žŸ‚¤ ˆ¢¤ š¦Ž’„ „¤Ž œŽ œ¥ ‹¥ ‹¤„¦¥ œ¦ ¦Ÿ œ¢ ¤¦ ¤¦ œˆ§ ‹ŽœŽ ¦¥ó ŸŽ¤œ¦ œ¢ ‚§¤ Ÿ˜ž¢Ÿ ¦¥ œ¦ ¤¦ š¦Ž’„í ƒœ’„  œ¤ ”ž •Ž¢Ž¤„ ’¥ ‚§ œŽ ¦¢„¤ ¦¥à ž¤œ  ‡‚ ³ƒ œ’¤ ’¥ ›Ž•¦ Ÿ  ¥ ‡£¤¡ „¢ Ž ‹’ žœ§ Ÿ ¤¡ ¥ „¢ “¤‹ ¤œ ‹¢ žœ§ Ÿž ¦¤ ‡£¤¡í ž¤œ  ›Ž•¥ œ¥ þþ‰‡Ÿýý œ š¤”ž¦ ³ƒ’ œ¤ ‚„ ˆ¤„ œ¥ Ž¤˜¥ ¦¤ –¥ œ¤ ‡ ’œ„ ¦¥ó ˜‹‹ ¢ “ŸŽ ƒ¤“ œ£¥ ‡„¥ ¦¤¡ œ¦ ³ƒ œ¢ šž¡ šž¡ ’ž‰¦ œ¤ •Ž¢Ž„ œ¤¢¡ ¦¥ ¢Ž šž¡ šž¡ ’ž‰¦ œ  œ  Ÿ˜Žœ¢¡ ß ‡§ƒ¢¡ œ¥ ‹¢Ž  þþŠŸ¤ýý ¦¢ œŽ ‚¤œŽ ƒ ¦¢ ¦¥ ¢Ž ’ œ¥  „£‡ œ¤  œž ’œ„¥ ¦¤¡í ¢™¤Ž¦ ¢™¤Ž¦ó

¦Ÿ ‡ „¥ ¦¤¡ œ¦ ³£ ‹¦ ¤œ ‹¢ ‚Ž’ ŸŽ¤œ¦ œ¥ ž£¥ ‚¦„ ¦Ÿ ¦¤¡ó ’ œ¥ 66000 …Ž¢ƒ’ ³‡ ‚§¤ š™ ’„  Ÿ¤¡ ƒ§ ’¥ ¦¢£¥ ¦¤¡ó ƒ¤ …¢   ¥ „˜¤  œŽ  ¦¥ œ¦ 2014£ „œ ŸŽ¤œ¦  ¥ ƒ ¥ œ„ ¥ …Ž¢ƒ’ š™ ’„  Ÿ¤¡ ˆ§¢ ¥ ¦¤¡ó ‚˜• Ÿ‚”Ž ¤œ ¦Ž ¢Ž ‚˜• ‹’ ¦Ž ‚„ Ž¦¥ ¦¤¡ó š™ ’„  œ¥ œ¢¦ ¢ ‹Ÿ  Ÿ¤¡ ¢Ž ‚§¤ ‚¦„ ’¥ œ§ž¤ ¦¤¡ ‡¢ ‡  œ¤ ‚¤ œ§¤ž Ž¦¥ ¦¤¡ó ¤¦ ¤œ  „¦£¤ ¬ž‡§¤ ¦¢£¤ ”¢Ž„ ‰ž ¦¥ó Š¢‹ ŸŽ¤œ¦ ‚§¤ ¤¦ ƒ¤“¢£¤  ¦¤¡ œŽ ’œ„ œ¦ 2014£ œ¥ ‚˜‹ š™ ’„  œ  ›“¦ œ¤ ¦¢í ž¤œ  ¤¦ ‚„ ¢¦ ¢†¢› ’¥ œ¦¦ ’œ„ ¦¥ œ¦ ƒœ’„  ¦¤ ¤œ ¤’ ¦Ÿ’¤¦ ¦¥ ‡¢ ’  ›“¥ Ÿ¤¡ œ£¤ Ž  ‚§Ž ’œ„ ¦¥ó ¤¦¤ ’‚‚ ¦¥ œ¦ ¢¦ ƒœ’„  œ¢ ¦„§ ’¥ ‡ ¥  ¦¤¡ ‹¤„ó ‹¢ ¢¡ œ¢ ƒ ¤ ƒ ¤ œŸ¢Ž¤¢¡ œ ƒ„¦ ¦¥ó ƒœ’„  œ¢ ‚§¤ Ÿ˜ž¢Ÿ ¦¥ œ¦ “„¦ ‹’ ‚Ž¦ ‚Ž’¢¡ Ÿ¤¡ ŸŽ¤œ¦  ¥ š™ ’„  ¢Ž ƒœ’„  Ÿ¤¡ œ¤ œ¤ ¦¥í ƒœ’„ ¤ š¢‡ œ¢ œ¤ œ¤ ›Ž‚ ¤¡ ‹¤ ¤ ƒ¤ ¦¤¡ ¢Ž ƒœ’„ ¤ ›¢Ÿ œ¢ œ  œ  ƒž ”Ž–¢¡ ’¥ Ž  ƒ ¦¥ ¢Ž ‚ ‚§¤ Ž Ž¦¤ ¦¥ó ’ ž£¥  šŽ„ ¢Ž Ÿ‰‚„ œ ¤¦ ’ž’ž¦ ‡Ž¤ Žœ§ ¥ œ š¤”ž¦ œ¤ ¤ ¦¥ó ¤¦ ‹¢ –Žš¦ š¤”ž¦ ¦¥ ¢Ž ‚¤  ž›¢Ÿ¤ ’¤’¤„ Ÿ¤¡ ¤¦¤ œˆ§ ¦¢„ ¦¥ó

¦ŸŽ¥ Ÿ¤Œ¤ Ÿ¤¡ š¢‡ ƒŽ –˜   ¤ œ¤ ‡„¤ ¦¥ œ¦ ¢¦ ƒœ’„  œ¤ ‹š˜¤ ¢Ž ŠŽ‡¦ ƒž¤’¤¡ „“œ¤ž ‹¤„¤ ¦¥ ‡‚œ¦ ¤¦ œŸ š¢‡ œ  ¦¤¡í ’¢¤ž¤  ‚¤¢Ž¢ œŽ¤’¤ ¢Ž ’¢¤ž¤  ˜¤ ª ‰œ¢Ÿ„ œ ¦¥ó ž¤œ  ‡‚ „œ ¦Ÿ þþš¢‡ýý œ¢ ’Ÿ‡§„¥  ¦¤¡í ŽŸ¢ª ’ƒ¦ Ž¤  ¦¤¡ ‡ „¥í ‰‹¤†ª ‹š˜ œ ‹Ž’  ¦¤¡ ž¤„¥í Ÿž…Ž¤ ¦’…Ž¤ œ¥ Ÿ–ž˜¥ œ¤ ‰Ÿ„  ¦¤¡ ¬…§„¥í ž¢‚ž ‹š˜¤ Ÿ —Ž â’¤ Ž¤¢á œ ‹Žœ  ¦¤¡ œŽ„¥í ‹š˜ ¢Ž ŠŽ‡¦ Ÿ¢Ž œ¥ Ÿ‚¤  …¢… Ž“„¥ œ “˜¢Ž  ¦¤¡ ƒ„¥í „‚ „œ ƒœ’„  œ¤ Ÿž…Ž¤ ¦¤ ¤¦ œŸ  ‡Ÿ ‹¤„¤ Ž¦¥ ¤à ¢Ž ¦Ÿ¤¡ ¤¦ ‚§¤  ¦¤¡ ‚§¢ž  ˆ¦£¥ œ¦ ¦ŸŽ¤ Ÿž…Ž¤ œ¢£¤ ™¤Ž Ÿžœ¤ ¤ ‹“Ÿ  Ÿž…Ž¤  ¦¤¡í ƒœ’„ ¤ Ÿž…Ž¤ ¦¥í ‡’ œ ¦Ž ’ƒ¦¤ ¢Ž ¦Ž ³š¤’Ž ’‚ ’¥ ƒ¦ž¥ ƒœ’„ ¤ ¦¥ ¢Ž ‚˜‹ Ÿ¤¡ œˆ§ ¢Ž ¦¥ó è

مزید :

کالم -