ہولوکاسٹ کی کہانی (4)

ہولوکاسٹ کی کہانی (4)

  

پر وفیسر نارمن فرینکل اشٹائین نے بھی اپنی کتاب میں انھی اور ان سے ملتے جلتے حقائق پر بات کی ہے ان کی “کتاب کا عنوان ہے The Holocaust industry: Reflections on the Exploitation of Jewish Suffering”.... پر وفیسر موصوف نے اس کتاب میں مستند حوالوں سے ثابت کیاہے کہ مغرب میں یہودی تنظیموں اوراسرائیل دونوں نے مل کر ہو لو کاسٹ کے تاثر کو دھندلادیا ہے۔ بین الاقوامی ٹریبونل، جو دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد تشکیل دیئے گئے، کے فیصلوں کے مطابق جرمنی نے متاثرہ یہودی خاندانوں کوتلافی کی غرض سے رقم کی ادائیگی کی ہے ۔سوئٹزرلینڈ اور مشرقی یورپ کے ممالک بھی رقم کی ادائیگی اب تک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ متذکرہ کتاب کے مصنف نے شواہد سے یہ ثابت کیاہے کہ یہ رقم متاثرہ خاندانوں تک پہنچنے کے بجائے صہیونی اداروں کی تشہیر پر خرچ کی جارہی ہے اور اس کے اعدادہ شمار بتانے میں فریب دہی سے کام لیا گیا ہے ۔جرمنی اب بھی نقصانات کی تلافی کے لئے ادائیگی کررہاہے اور اب تک ایک سوارب مارک سے زائد رقم ادا کر چکا ہے ، جبکہ ادائیگی کا یہ سلسلہ معاہدے کے مطابق 2030ءتک جاری رہے گا ۔

 بہت کم لوگ اس امر سے واقف ہیں کہ ہولوکاسٹ کے بارے میں تحقیق پر پابندی کا قانون وجود میں آچکاہے.... یہ قانون جس کا مسودہ 1981-89ءمیں فرانس کے معروف خاخام( یہودی مذہبی رہنما )کے زیر صدارت تیار کیا گیا اور جسے جولائی 1990ئمیں فرانس میں منظور کیا گیا ہے۔ ہولوکاسٹ کے بارے میں کسی بھی قسم کی تردید، چاہے وہ دوسری عالمی جنگ کے یہودیوں کے دعوے کے متعلق قتل عام سے متعلق ہو یا گیس بھرے کمروں کی موجودگی کے بارے میں ہو، یہاں تک کہ6 ملین یہودیوں کے قتل کی کم ترین تردیدسے عبارت ہو جرم تصور کی جائے گی۔

فرانس میں جوکوئی بھی اس قانون کی خلاف ورزی اورتینوں کی تردید کرے گا، اسے ایک ماہ سے ایک سال تک قید اور 4ہزار سے3 لاکھ فرانک تک جرمانے کی سزادی جائے گی۔ یہ حال ہے یورپ کے اس ملک کا جہاں اظہار کی آزادی باقی تمام مغربی ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہولو کاسٹ کی ترکیب ہے کیا ؟اصطلاحی اعتبار سے ہولوکاسٹ سے مرادچھ ملین یہودیوں کا پر تشدد طریقوں سے قتل ہے اور کہا جاتاہے یہ تین طریقوں سے بروئے کارلائی گئی ،

1)Concentration

Ghettoes(2

Gas Chambers(3

 اس سانحہ کو تاریخ میں ہمیشہ زندہ جاوید رکھنے کے لئے صہیونی حکمرانوں اور ان کے آلہ کاروں نے بہت سے ذرائع اپنائے، جن میں اخبارات ورسائل،ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ اور فلم سینما شامل ہے.... (اس امر سے تمام لوگ بخوبی واقف ہوں گے کہ دنیا بھر کے میڈیا میں سب سے زیادہ مقبولیت یہودی میڈیا کے تحت جاری ہونے والے رسائل وجرائد یا فلموں کو حاصل ہے ).... مزید اقدامات جواس تاریخی سانحہ کو تادیر زندہ رکھنے کے حوالے سے کئے گئے، وہ ہیں وسیع پیمانے پر علمی وتحقیقاتی کوششیں تاکہ اس سانحہ کی درست سند حاصل ہوسکے۔ امریکہ اور یورپ میں ہولوکاسٹ کے حوالے سے خاص عجائب گھروں کا قیام اس دن، یعنی 27جنوری کو عالمی طور پر منانا، ہالی ووڈ اور دیگر فلم کمپنیوں کے توسط سے ہولوکاسٹ کے موضوع پر فلمیں بنانا، اس سانحہ کے خلاف آواز اٹھانے یا اظہار کرنے والوں کوعدالت کے کٹہرے میں لاکھڑا کرناہے۔

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ دنیا کو وہ حصوں میں تقسیم کرکے جو مصنوعی صورت حا ل پیدا کی گئی ہے، اس کا تقاضا کیا ہے ”ہم“(us)اور ”وہ“(them)باالفاظ دیگر the guilty party اور the grieved partyکی جوتقسیم دیکھنے میں آئی ہے وہ صہیونیوںکے بالمقابل فلسطینیوں کو لاکھڑا کرتی ہے۔ ایڈ ورڈسعید نے اس کی مثال یوں دی کہ یروشلم میںتیس سے زائد جامعات میں عبرانی (مردہ زبان)کے احیاءاور ترویج کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں، جبکہ اسی زبان کو سیکھنے کے لئے مغربی کنا ر ے میں کتنے شعبے وقف کئے گئے ہیں ؟ کوئی ایک بھی نہیں۔

  ہولوکاسٹ افسانے کا پول کھولنے والے دانشوروں اور مخققین کی صف کے سب سے دلیر اور ان تھک مفکرسوربون یونیورسٹی ،فرانس کے شعبہ تاریخ کے سابق سربراہ پروفیسر رابر ٹ فور یسن ہیں۔ یہ امر بہت سوں کے لئے ناقابل یقین ہوگا کہ پروفیسرموصوف کو ہولو کاسٹ کو من گھڑ ت افسانہ قرار دے کر اس کی تحقیقات کرنے کی پاواش میں فرانس جیسے ملک میں تنہا کردیا گیا۔ ان کا سماجی مقاطعہ (Boycott)کیا گیا، ان کے خلاف جھوٹے مقدمے تیار کئے گئے۔ یورپ کی مسلح یہودی ملیشیا کے ڈنڈا بردار غنڈوں نے کئی بار پروفیسر فور یسن پر سخت تشدد بھی کیا اور ان کی بے عزتی کی گئی۔ اس وقت پور ے کرئہ ارض پر پروفیسر فوریسن کا واحد حامی اور ہمدرد مسلمان مفکر اور محقق سویڈن میں مقیم احمد رامی ہے جو” ریڈیو اسلام “کا ڈائر یکٹر ہے۔ پروفیسر صاحب سے ایرانی اسکالرز کی ایک جماعت نے انٹرویو لیا، جس میں پروفیسر فوریسن نے ہولوکاسٹ افسانے کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں ،انہوں نے تمام حقائق پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ ہولوکاسٹ میں بہت کچھ زیب داستان کے لئے بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا ۔(جاری ہے)  ٭

مزید :

کالم -