سردار پٹیل کا اصل چہرہ

سردار پٹیل کا اصل چہرہ
سردار پٹیل کا اصل چہرہ

  

پاکستان گزشتہ کچھ عرصے سے جن بحرانوں کا سامنا کررہا ہے، ان کی وجہ سے کچھ لوگ مایوسی کا شکار ہورہے ہیں۔وہ ایسے سوالات اٹھا رہے ہیں جو ملکی استحکام سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کیا قیام پاکستان کا واقعی کوئی جواز موجود تھا یا یہ محض وقتی اور جذباتی فیصلہ تھا؟ اب جس طرح کے مسائل پیش آ رہے ہیں، یہ کہیں ہمیں کسی بڑے حادثے سے دوچار نہ کردیں؟تقسیم ہند کا فیصلہ کہیں غلط تو نہیں تھا؟کچھ لوگ بانی ءپاکستان کے بارے میں دور کی کوڑیاں لا رہے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ انہیں کٹاپھٹا پاکستان قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔انہیں وائسرائے ماﺅنٹ بیٹن کی اس تجویز کو مان لینا چاہیے تھا کہ دونوں نوآزاد ممالک کی گورنر جنرل شپ انہیں دے دی جائے۔اس سے یہ ہوتا کہ وسیع پیمانے پر جو قتل عام ہوااور کشمیر کا مسئلہ بگڑ گیا،وہ نہ ہوتا۔

ایسے سوالات اور اعتراضات اٹھانے والے لوگ غالباً بھارتی دانشوروں کی تازہ تحقیقاتی کاوشوں سے واقف نہیں۔اجیت جاوید اور جسونت سنگھ کی کتابیں بہت واضح انداز میں برصغیر کی تقسیم کی ذمہ دار کانگرسی قیادت کو ٹھہراتی ہیں۔مسلمانوں کا مسئلہ صرف اتنا تھا کہ وہ مستقبل کے آئینی ڈھانچے میں کچھ سیاسی اور تہذیبی حقوق کے طلبگار تھے۔قائداعظم کابینہ مشن پلان (انیس سو چھیالیس) کے آنے تک کوشش کرتے رہے کہ کانگریسی قائدین کسی طرح ان کے نقطہءنظر سے متفق ہو جائیں۔پہلے کانگریس ہی نے کابینہ مشن پلان کو منظور کیا، لیکن جب مسلم لیگ اور قائداعظم نے بھی اس پلان پر صاد کیا تو پنڈت جواہر لال نہرو اپنے موقف سے پھر گئے۔اسی کے نتیجے میں پھر قائداعظم نے راست اقدام کا فیصلہ کیا۔یہ مہم اتنے بڑے پیمانے پر چلی کہ کانگریس اور انگریز حکمران اس کو سنبھالنے میں ناکام ہوگئے۔

حال ہی میں لاہور کے اشاعتی ادارے فکشن ہاﺅس نے معروف ہندوستانی مسلم دانشور رفیق زکریا کی کتاب ” سردار پٹیل اور ہندوستانی مسلمان“ شائع کی ہے جو انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔مترجم کا نام مظہر محی الدین ہے۔برصغیر کی سیاسی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں آج تک سردار ولبھ بھائی پٹیل کو مسلم دشمن کانگریسی رہنما گردانا جاتا ہے۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے متعصبانہ رویوں کی بنیاد پر تقسیم کا منصوبہ خون آلود ہوگیا۔ سردار صاحب مرکزی وزیر داخلہ تھے،انہی کے دور وزارت میں بھارت نے ریاست حیدرآباد پر پولیس ایکشن کے ذریعے قبضہ کیا۔جموں میں مسلمانوں کے خون سے جو ہولی کھیلی گئی اس کی ذمے داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے ان کی وجہ سے بھی کشمیر کا مسئلہ بگاڑ کا شکار ہوا۔وہ مردآہن توکہلاتے تھے،مگر قتل و غارت کے طوفان پر قابو نہ پا سکے۔

رفیق زکریا نے اپنی زیر نظر کتاب میں سردار پٹیل کو مسلمانوں کا ہمدرد ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پٹیل فرقہ وارانہ ذہن نہیں رکھتے تھے۔وہ آزادی کی تحریک میں تمام ہندی اقوام کو شامل دیکھنا چاہتے تھے، لیکن مسلم لیگ اور قائداعظم کے اختلافی رویے یعنی قیام پاکستان کے مطالبے کے سخت خلاف تھے۔جیسے جیسے تحریک پاکستان آگے بڑھتی گئی، سردار پٹیل زچ ہوتے چلے گئے۔وہ سمجھتے تھے کہ انگریز نے اپنے سامراجی مقاصد کے تحت ہندو مسلم تضاد پیدا کیا تھا، وہ مقامی قوموں میں اتحاد کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیتا رہا۔وہ چلا جائے گا تو حل نکل آئے گا۔رفیق زکریا نے پٹیل کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ”ہندوستان میں سات کروڑ مسلمان رہتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانا ہماری ذمہ داری ہے کہ یہ مسلمان آزاد اور محفوظ رہیں“۔ پٹیل بھارت کو ہندو ریاست نہیں بنانا چاہتے تھے۔انہوں نے ہندو ریاست کے حامی جی ایم برلا کو جواب دیا تھا کہ ”مَیں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کو ایسی ہندو ریاست بنانا ممکن نہیں ہے، جس کا مذہب ہندو ازم ہو....ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہاں دیگر اقلیتیں بھی رہتی ہیں،جن کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے“۔

مسلمانوں نے جب ملک گیر پیمانے پر تحریک خلافت شروع کی تو مہاتماگاندھی نے اس کی حمایت کی تو پٹیل بھی پیچھے نہ رہے۔انہوں نے کہا:”برطانیہ کے تمام وعدوں کے باوجود ترکی کی سلطنت کو تقسیم کردیا گیا۔سلطان کو قسطنطنیہ میں قید کردیا گیا۔سیریا کو فرانس نے ضم کرلیا۔سمرنا اور تھریس کو یونان نے ہڑپ کرلیا،جبکہ میسو پوٹامیا اور فلسطین پر برطانیہ نے قبضہ کرلیا۔عریبیہ میں بھی ایک ایسا حکمران پیدا کرلیا گیا جو برطانوی حکومت کی حمایت کرے گا۔وائسرائے نے بھی یہ بات تسلیم کی ہے کہ قیام امن کی چند شرائط مسلمانوں کے حق میں انتہائی صدمہ پہنچانے والی ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ اس واقعہ سے ہندوستانی مسلمانوںکے دل ٹوٹ گئے ہیں اور اپنے ہم وطن بھائیوں کو اس کرب سے گزرتے ہوئے دیکھ کر بھی ہندو کس طرح غیر متعلق رہ سکتے ہیں“۔

رفیق زکریا لکھتے ہیں:”گاندھی جی ہندوﺅں کو مسلمانوں کے قریب لانے کے لئے ولبھ بھائی پٹیل کا ہی سہارا لے رہے تھے۔دوسرے کانگریسی لیڈر لڑکھڑا گئے تھے، لیکن پٹیل ایک چٹان کی طرح مہاتما گاندھی کے ساتھ جمے رہے۔ علی برادران گرفتار ہوگئے تو ان کی گرفتاری کے خلاف سب سے پہلے سردار پٹیل نے آواز اٹھائی اور انہوں نے ہندوستانی سپاہیوں اور سرکاری ملازموں سے مطالبہ کیا کہ وہ انگریز سرکار کی ملازمت چھوڑ دیں۔ہندوﺅں اور مسلمانوں میں ہم آہنگی کا ماحول پیدا کرنے کا سہرا پٹیل کے سربندھتا ہے۔وہ اس کارنامے پر فخر بھی کرتے تھے“۔

1921ءمیں بھروچ میں اپنی ایک تقریر میں کہا، ”ہندو مسلم اتحاد ابھی ایک نازک پودا ہے۔ہمیں بہت ہوشیاری اور احتیاط سے اس کی آبیاری کرنی ہے۔اس کی صحیح نشوونما کے لئے ایک طویل عرصہ درکار ہے، کیونکہ ہمارے دل ابھی تک صاف نہیں ہوئے،جتنا کہ انہیں ہونا چاہیے تھا“۔پٹیل نے ہندوﺅں سے کہا تھا:”اسلام کی حفاظت کی کوششوں میں مدد کرنا ان کا فرض ہے۔اس کام میں انہیں مسلمانوں کی ہر طرح مدد کرنی چاہیے اور اس فرقہ کی اچھائیوں اور نیک خصلت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرنا چاہیے“۔

تحریک آزادی کے مورخین عام طور پر مطالبہ پاکستان کا بڑا محرک پانچ صوبوں کی کانگریسی وزارتوں کو قرار دیتے ہیں۔رفیق زکریا کا بھی یہی نقطہ ءنظر ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پٹیل کانگریس کے پارلیمانی بورڈ کے صدر تھے، لیکن ہندومسلم اتحاد کو نقصان پنڈت جواہر لال کی وجہ سے پہنچا۔وہ کانگریس کے صدر تھے۔انہوں نے وزارت سازی سے پہلے لیگ سے مطالبہ کیا کہ وہ پہلے کانگریس میں ضم ہو جائے۔ گاندھی جی کے سیکرٹری پیارے لال نے بھی لکھا ہے کہ کانگریسی حکمت عملی کی یہ پہلی زبردست غلطی تھی۔مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب” انڈیا ونزفریڈم“ میں تقسیم کی ذمہ داری مہاتما گاندھی ،نہرو اور پٹیل پر ڈالی ہے کہ اگر یہ رہنما کیبنٹ مشن پلان پر قناعت کرلیتے تو ہندوستان تقسیم ہونے سے بچ سکتا تھا۔نہرو نے ایک بیان کے ذریعے جب پلان کے بارے میں اپنے پہلے والے مو¿قف سے روگردانی کی تو قائداعظمؒ نے بھی کابینہ مشن پلان کو مسترد کردیا۔رفیق زکریا نے مولانا آزاد کے سیکرٹری ہمایوں کبیر کا بیان کیا ہے کہ مولانا آزاد اپنے آخری ایام میں اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ پٹیل کے بارے میں ان کی رائے غلط تھی۔انہوں نے ہمایوں کبیر سے کہا تھا کہ انیس سو چھیالیس میں کانگریس کی صدارت کے لئے نہرو کی بجائے پٹیل کا نام پیش کرنا چاہیے تھا۔پٹیل نہرو کے مقابلے میں زیادہ بہتر وزیراعظم ثابت ہوتے“۔

رفیق زکریا کے نزدیک برصغیر کی تقسیم اس لئے بھی ناگزیر ہوگئی ، کیونکہ عبوری حکومت میں شامل مسلم لیگی وزراءاور مسلمان ملازمین نے مل کر حکومت کی راہ میں روڑے اٹکانے شروع کردیئے تھے۔اس سے سردار پٹیل برافروختہ ہوئے اور انہوں نے نہرو اور مہاتما گاندھی کے ساتھ مل کر فیصلہ کرلیا کہ تقسیم کو قبول کرلیا جائے۔

حیدرآباد کیخلاف ہونے والے پولیس ایکشن کی ذمہ داری عام طور پر پٹیل پر ڈالی جاتی ہے، اس حوالے سے کتاب کے مصنف کا نقطہ ءنظر یہ ہے کہ سقوط حیدرآباد کی وجہ خود ریاست کے نواب عثمان علی خان بنے تھے، کیونکہ وہ کوئی فیصلہ نہیں کرپا رہے تھے۔پٹیل نے انہیں ریاست کی معروضی پوزیشن تفصیل سے بتائی اور ریاست کے بھارتی یونین میں ضم ہونے کی صورت میں کافی مراعات کی بھی یقین دہانیاں کرائیں، لیکن وہ جواب میں کوئی ٹھوس بات نہیں کرتے تھے۔ان کے تذبذب میں رہنے سے بھارتی حکومت کو اقدام کرنا پڑا۔ زیر تبصرہ کتاب دراصل دوطویل لیکچرز ہیں جو مصنف نے آل انڈیا ریڈیو کی دعوت پر 29،30 اکتوبر1996ءکو نیشنل میوزیم آڈیٹوریم دہلی میں دیئے تھے۔ان میں دونوں ملکوں کے عوام کے لئے یہ پیغام ہے کہ ہمیں پرانے تعصبات کو ایک طرف رکھ کر حالات و واقعات کی اصلی تصویر دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

زیر نظر کتاب کے ابتدائی صفحات میں پروفیسر امجد علی شاکر (پرنسپل اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور) کے علاوہ بھارتی دانشوروں علی سردار جعفری ، خلیق انجم اور مترجم مظہر محی الدین نے بھی اظہار خیال کیا ہے۔ہمارا نقطہ ءنظر یہ ہے کہ مصنف نے بلاشبہ اپنے موقف کے حق میں کچھ معقول دلائل ہی دیئے ہیں، لیکن سردار پٹیل جیسی متنازعہ شخصیت کے مسلمانوں کے بارے رویئے کے حوالے سے ابھی مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔ مصنف نے سردار پٹیل کے مسلمانوں کے بارے میں شدید رویئے کی ایک وجہ یہ بتائی ہے کہ انہیں مسلمانوں کو نزدیک سے دیکھنے اور سمجھنے کے مواقع نہ ملے تھے۔دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ سردار صاحب خلافت تحریک کے حامی تھے اور عدم تعاون کی تحریک کے دوران بھی مسلمانوں کے شانہ بشانہ کام کرتے رہے۔

فکشن ہاﺅس نے بھلا کیا کہ اس کتاب کو پاکستانی معاشرے میں بھی متعارف کروا دیا،کیونکہ ستمبر1965ءکی جنگ کے بعد دونوں ملکوں کا لٹریچر ایک دوسرے تک پہنچنا بند ہوگیا تھا۔یہ کتاب تو خیر ایک متنازعہ سیاستدان کے بارے میں ہے، ادبی، دینی اور اخلاقی کتابوں کا بھی ادھر نہ آ سکنابہت بڑاالمیہ ہے۔معلوم نہیں ہمارے ارباب اختیار کب تک علم دانش کی راہ میں دیواریں کھڑی کرتے رہیں گے!  ٭

مزید :

کالم -