بیورو کریسی کو یونیورسٹیوں سے دورر کھا جائے

بیورو کریسی کو یونیورسٹیوں سے دورر کھا جائے

  

پاکستان کے ممتاز سائنسدان اور ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاءالرحمن نے ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی سیکرٹری تعلیم میجر(ر)قمر زمان کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر بنائے جانے کو غیر قانونی اور توہین عدالت کے مترادف قرار دیا ہے ۔ انہوں نے اسے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے خلاف سازش قرار دیا اور کہا کہ حکومت کی طرف سے ہائر ایجوکیشن کمیشن پر تسلط کی سازش کے پیچھے اس ادارے کا پینتالیس ارب روپے کا بجٹ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے بھتیجے ، بھتیجیوں اور بھانجے بھانجیوں کے میرٹ کے بغیر داخلوں اور انہیں سکالرشپ دلانے اور جعلی ڈگریوں کی تصدیق کرانے میں ناکامی کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن سے انتقام لیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی طرف سے وفاقی سیکرٹری کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا اضافی چارج دینا غیر قانونی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن ایکٹ کے تحت اٹھارہ رکنی کمیشن جس کے وزیر اعظم سربراہ ہیں تمام افسروں کا تقرر خود کرسکتا ہے۔

ڈاکٹر عطاءالرحمن نہ صرف پاکستان کے لائق احترام سائنسدان اور ماہر تعلیم ہیں بلکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بانی چیئرمین اور سابق وزیر تعلیم بھی ہیں۔ ان کے علاوہ اس پریس کانفرنس میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے سابق چیئرمین اور ممتاز سائنسدان ڈاکٹر ایم۔ ڈی ۔ شامی اور ڈاکٹر خالد محمود خان بھی موجود تھے ۔ یہ حضرات ملک میں ہائر ایجوکیشن کی ترقی اور فروغ کے لئے سنجیدہ اورٹھوس خدمات سرانجام دینے والی شخصیات ہیں جنہوں نے قوم کے علاوہ عالمی اداروں کی طرف سے بھی خراج تحسین وصول کیا ہے ۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ادارے کو دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے لئے قابل تقلید ادارہ بنا دینے والی ان بلند قامت شخصیات کو قومی زندگی میں بے حد عزت و احترام حاصل ہے ، ان کی طرف سے جس اہم قومی معاملے پر توجہ دلائی گئی ہے ، حکمرانوں کو اس پر فوری غور کرنا چاہئے۔

ہماری حکومت بیوروکریسی کے ذریعے جس طرح ملک کے تمام بڑے بڑے اداروں کو اپنی مفاد پرستی کے لئے تباہ کرچکی ہے ، اسی طرح اس کی نظریں مسلسل ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ادارے پر بھی ہیں۔ یہ ادارہ پاکستان کی تمام پبلک یونیورسٹیوں میں ان کی ضرورت کے مطابق فنڈ ز کی تقسیم اور ان کے معیار کو عالمی سطح پر لانے اور اعلی سطح پر معیار ی تعلیم اور تحقیق کو فروغ دینے کا ذمہ دار ہے۔ اس کے انتظام و انصرام کے لئے بے حد قابلیت ، اعلی تعلیم اور فہم و تدبر رکھنے والے ماہرین کی ضرورت ہے۔ معمولی تعلیم اور محض انتظامی تجربہ رکھنے والے لوگوں کا اس ادارے کے اعلی عہدوں سے نہ کوئی تعلق ہے اور نہ ان میں اس کا کام آگے بڑھانے کی صلاحیت ۔ ملک میں ہر شعبہ زندگی میں قیادت کے لئے انتہائی مہارت و قابلیت اور اعلی تعلیم یافتہ افراد فراہم کرنے کا کام کوئی معمولی کام نہیں ۔ یہ قوم کی بنیادیں مضبوط بنانے اور ہر سطح پر قوم کو صحیح سمت دینے کاکا م ہے۔ پوری دنیا کی طرح ہمارے ہاں بھی یونیورسٹیوں کو سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی اندھی مداخلت سے پاک رکھنے کے لئے خود مختاراداروں کی حیثیت دی گئی ہے اسی طرح ان سے حکومتی سطح پر نگرانی اور کنٹرول کا تعلق رکھنے والا ادارہ ہائر ایجوکیشن کمیشن بھی اپنی ساخت میں ایک خو د مختار ادارہ ہے جس کا انتظام بیوروکریسی کے بجائے تعلیم کے اعلی ترین ماہرین کے ہاتھوں میں ہے۔ اسی وجہ سے آج یہ ادارہ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا ایک مثالی ادارہ بننے کے قابل ہوسکا ہے۔

خوش قسمتی سے آغاز ہی سے اس ادارے کو ڈاکٹر عطاءالرحمن جیسے عالمی شہرت یافتہ سائنسدان اور ماہر تعلیم کی سرپرستی حاصل ہوگئی ۔ اس کے دوسرے مختلف شعبوں سے بھی انتہائی مخلص اور قابل لوگوں کو منسلک کیا گیا۔ اس ادارے کی طرف سے یونیورسٹی تعلیم کا معیار بہتربنانے، اساتذہ میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے اور یونیورسٹیوں کے ہر کام کو قاعدے قانون اور نظم میں لانے ، کم از کم معیار کی پابندی کرانے اور اساتذہ کی تدریس کا معیار پرکھنے جیسے کام شروع کئے گئے ۔ ابتدا میں پاکستان کی یونیورسٹیوں کے اساتذہ نے محسوس کیا کہ شاید یہ ادارہ یونیورسٹیوں کی خود مختاری میں بے جا مداخلت کر رہا ہے۔ شاید یہ ادارہ بیورکریٹس اور سیاستدانوں کے بھتیجے بھتیجیوں اور بھانجے بھانجیوں کے لئے راستے ہموار کرنے کے کام کرے گا۔ لیکن اس ادارے کی وجہ سے ٹیچرز کو اپنے کام میں باقاعدہ ہونا پڑا تو ان کی طرف سے کچھ عرصہ تک اس کے کام سے عدم تعاون کا رویہ بھی اختیار کیا گیا۔ لیکن بہت جلد یونیورسٹی ٹیچرز کو یہ احساس ہو گیا کہ یہ ادارہ یونیورسٹیوں کو سیاست اور بیوروکریسی سے آزاد رکھنے اور یونیورسٹی تعلیم کو حقیقی معیار سے ہمکنار کرنے کے لئے ہے بیوروکریسی یا سیاستدانوں کے مقاصد پو رے کرنے کے لئے نہیں۔ اس کے بعد اعلی سطح کی تعلیم کے مقاصد کے لئے یونیورسٹی اساتذہ اور ان کے ساتھ یونیورسٹی طلبہ و طالبات بھی اپنے اس ادارے کے پیچھے کھڑے ہوگئے جس کا مظاہرہ انہوں نے اس وقت کیا جب اراکین اسمبلی کی جعلی ڈگریوں کے سیکنڈلز کے بعد موجودہ حکومت نے تین سال قبل اعلی تعلیم کے فنڈز میں نمایاں کمی کی کوشش کی ۔

حکمرانوں پر واضح رہنا چاہئیے کہ اس وقت تک ہائر ایجوکیشن کمیشن اپنے تمام شعبوں کی شاندار کارکردگی کے ساتھ قوم کے ایک قابل فخر ادارے کے طور پر مستحکم ہوچکا ہے۔ گذشتہ کچھ برسوں میں قائم ہونے والی بیسیوں نئی یونیورسٹیوں او ر پہلے سے قائم پبلک یونیورسٹیوں کے تعلیمی اور تحقیقی معیار کو آگے لے جانا اور نئی یونیورسٹیوں کا ہاتھ پکڑ کر ہر پہلو سے انہیں مکمل رہنمائی اور معاونت کے ذریعے ترقی دیناقوم کی بنیادیں مضبوط کردینے والا کام ہے ،جو صرف قوم و ملک کے دشمنوں ہی کو ناپسند ہو سکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جس طرح اعلی عدالتوں کے ججوں کے تقرر میں سپریم جوڈیشل کونسل کے کردار کی وجہ سے اعلی سطح پر انصاف کے ذمہ داروں کی سیاسی بنیادوں پر تقرر نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ارکان کا خود اپنے ادارے میں اعلی ترین ماہرین کا تقرر ممکن ہو ا ہے۔ اس کے کام میں مزید وسعت پیدا کرکے اچھے کام کو آگے بڑھانے کے بجائے اسے بیورو کرٹیس کے سپرد کر نے کے فیصلے سے دو ہی باتیں سامنے آتی ہیں کہ یا تو اس کے پیچھے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ادارے کو انتخابات سے قبل سیاسی بنیادوں پر نالائق لوگوں سے بھر نے کی خواہش ہے ، یا پھر ہمارے حکمرانوں کو کسی بھی ادارے کا قومی مفاد میں کام کرنا پسند نہیں ہے۔

اس سلسلے میں انتخابات قریب ہونے کی حقیقت زیادہ قرین قیاس ہے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل پنجا ب اسمبلی نے پبلک سیکٹر یونیورسٹیز (ترمیمی ) ایکٹ منظور کرکے یونیورسٹیوں میں فوری ضرورت کی صورت میں وائس چانسلر کے عارضی تقرر کے اختیارات پر بھی قدغن لگا دی ہے اور انہیں پابند کر دیا گیا ہے کہ اگر ایسا کیا جائے تو وہ اس کی سات دن کے اندر پرووائس چانسلر( جو صوبائی وزیر تعلیم ہے ) کو اطلاع کریں ۔ اس طرح وزیر تعلیم کو درمیان میں ڈالنے کا مقصد بھی اس کام میں سیاست کو گھسیٹنا سمجھا جا رہا ہے ۔ اس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ سیاسی حکومتیں اس وقت زیادہ سے زیادہ اختیارات بیوروکریسی یا سیاستدانوں کے ہاتھ میں دینا چاہتی ہیں تاکہ وہ سیاسی بنیادوں پر نااہل لوگوں پر نوازشات کرکے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرسکیں۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سلسلے میںتو حکومت اس قوم کی حالت پر رحم ہی کرے تو مناسب ہے ۔ اگر اس عظیم ادارے کو بھی بیورو کریسی کے چنگل میں دینے کی کوشش کی گئی تو پھر قوم یہ سوچنے پر مجبور ہو گی کہ میڈیا کی آزادی، عوام کے ابھرتے ہوئے شعور اور آزاد عدلیہ کی موجودگی میں سیاستدانوں کے رویے میں تبدیلی کی جو توقع کی جارہی تھی وہ عبث ثابت ہوئی ہے ۔ انتخابات کے قریب ہر کام اپنا ووٹ بنک مضبوط کرنے کی بنیاد پر ہو رہا ہے ، جس طرح کا ماحول گذشتہ روز کے ضمنی انتخابات کے موقع پر دیکھا گیا اس سے شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ کہیں ہمارے سیاسی حکمران اداروں کی تباہی میں رہی سہی کسر بھی پوری نہ کردیں۔

ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ بالآخر حکمرانوں کے یہ رویے عوام اور حکمرانوں کو تصادم کی طرف لے جائیں گے۔ یونیورسٹی ایڈمنسٹریشن، اساتذہ اور لاکھوں باشعور طلبہ و طالبات کے ساتھ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کا تصادم کسی کے بھی مفاد میں نہیں ۔ بہتر یہی ہے کہ اس مرحلے پر حکمران ایسے خطرناک اقدامات سے گریز کریں جن کے نتیجے میں ایسے رد عمل کی توقع ہو جس سے انتخابات کے ملتوی ہوجانے کا بھی خطرہ پیدا ہو جائے۔ ڈاکٹر عطاءالرحمان جیسی غیر متنازعہ شخصیت کی طرف سے جو مشورہ حکمرانوں کودیا جا رہا ہے اسے قبول کرنے ہی میں قوم کا بھلا ہے۔

مزید :

اداریہ -