کالا باغ ڈیم کی تعمیر ہائیکور ٹ نہیں مشترکہ مفادات کونسل کافیصلہ ہے

کالا باغ ڈیم کی تعمیر ہائیکور ٹ نہیں مشترکہ مفادات کونسل کافیصلہ ہے
کالا باغ ڈیم کی تعمیر ہائیکور ٹ نہیں مشترکہ مفادات کونسل کافیصلہ ہے

  

لاہور ہائیکورٹ نے 29 نومبر 2012ءکو کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے ایک ایسا حکم جاری کیا جو نہ صرف متعلقہ حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے بلکہ کالاباغ ڈیم کی مخالفت میں پیش پیش ”قوتیں“ اس عدالتی فیصلے کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے اختیارات سے آگے بڑھ کر ایک ایسا حکم جاری کردیا ہے جو پنجاب کے سوا دیگر تین صوبوں کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے لئے اپنی طرف سے کوئی نیا حکم جاری نہیں کیا ہے بلکہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے مشترکہ مفادات کی کونسل کی طرف سے 1991ءاور 1998ءمیں کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کا حکم دیا ہے۔ اس سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے مشترکہ مفادات کی کونسل کے مذکورہ فیصلوں کو دیکھنا چاہئے۔ 16 مارچ 1991ءپانی کی بین الصوبائی تقسیم کے علاوہ بجلی کی پیداوار اور آبپاشی کے وسائل میں اضافہ کے لئے نئے ڈیموں کی تعمیر کے لئے مشترکہ مفادات کی کونسل نے چند انتہائی اہم فیصلے کئے اور ایک واضح حکمت عملی طے کی۔ جس کے نتیجے میں چاروں صوبوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس پر اس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ جام صادق علی، وزیراعلیٰ شمال مغربی سرحدی صوبہ (اب خیبر پختونخوا) میر افضل خان، وزیراعلیٰ بلوچستان جام محمد جمالی اور وزیراعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں نے دستخط کئے۔ 21 مارچ 1991ءکو وفاقی کابینہ نے مشترکہ مفادات کی کونسل کے فیصلوں کی منظوری دی۔ مشترکہ مفادات کی کونسل کی پالیسی کی روشنی میں صوبوں کے درمیان طے پانے والے معاہدہ پر اے این پی کے اس وقت کے سربراہ خان عبدالولی خان نے نہ صرف مکمل اطمینان کا اظہار کیا بلکہ اسے صوبوں کے لئے خوش آئند بھی قرار دیا۔ وزیراعلیٰ سندھ جام صادق علی نے اسے اتفاق رائے سے طے پانے والا معاہدہ قرار دیا اور کہاکہ اس معاہدے سے چاروں صوبوں کے مفادات کا تحفظ ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدہ سے صوبہ سندھ کو 13 فی صد زیادہ پانی ملے گا۔ صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ سرحد میر افضل خان کا کہنا تھا کہ صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) کو 1983ءکے معاہدہ کی نسبت 50 فی صد زیادہ پانی ملے گا۔ میر افضل خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ایک اقتصادی مسئلہ ہے، لیکن اس سے وفاق کے استحکام میں مدد ملے گی۔ اسی طرح بلوچستان کے وزیراعلیٰ تاج محمد جمالی کا کہنا تھا کہ پانی کے اس معاہدہ سے صوبہ بلوچستان کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا جس سے 10 لاکھ ایکڑ اضافی زمین زراعت کے لئے قابل استعمال ہو جائے گی۔

16 مارچ 1991ءکو ہونے والے مشترکہ مفادات کی کونسل کے فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے 16 ستمبر 1998ءکو مشترکہ مفادات کی کونسل میں مزید فیصلے کئے گئے۔ مشترکہ مفادات کی کونسل کے فیصلوں کے پیراگراف نمبر 5 میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے واضح کیا گیا کہ یہ پروجیکٹ دس سال میں مکمل کر لیا جائے گا۔ اس حوالے سے رائے عامہ ہموار کرنے، صوبوںکے تحفظات کے خاتمے، فنڈز کے انتظام اور تعمیراتی تخمینہ جات کے لئے مختلف اقدامات بھی تجویز کئے گئے۔ نہ صرف یہی بلکہ اس پروجیکٹ کی 2004ءمیں تکنیکی مطالعہ جاتی رپورٹ بھی تیار کی گئی جس کی چاروں صوبوں نے منظوری دی اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو قابل عمل منصوبہ قرار دیا گیا۔ واپڈا اور وفاقی وزارت پانی و بجلی کی طرف سے پہلے ہی اسے قابل عمل اور ملک کے لئے ضروری منصوبہ قرار دیا جاچکا تھا۔ اس سلسلے میں ایک رپورٹ بھی تیار ہوچکی تھی جس میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے مضرات کے حوالے سے تمام خدشات کے جواب موجود ہیں۔

مشترکہ مفادات کی کونسل آئین کے آرٹیکل 153 کے تحت قائم کی جاتی ہے جو پارلیمینٹ کو جواب دہ ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم سے قبل وزیراعظم کے لئے کونسل کا رکن ہونا ضروری نہیں تھا۔ تاہم اب وزیراعظم نہ صرف کونسل کا لازمی رکن ہوگا بلکہ کونسل کی سربراہی کا بھی ذمہ دار ہوگا۔ اسی طرح آئین کا آرٹیکل 154 مشترکہ مفادات کی کونسل کے کارہائے منصبی اور قواعد و ضوابط سے متعلق ہے۔ اس آرٹیکل کے ذیلی آرٹیکل (7) میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر وفاقی حکومت یا کوئی صوبائی حکومت مشترکہ مفادات کی کونسل کے کسی فیصلے سے غیر مطمئن ہو تو وہ اس معاملے کو پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں اٹھا سکتی ہے، اس بارے میں پارلیمینٹ کا فیصلہ حتمی تصور کیا جائے گا۔ مشترکہ مفادات کی کونسل کے 1991ءاور 1998ءکے فیصلوں کو کسی حکومت نے پارلیمینٹ میں چیلنج نہیں کیا، جب تک پارلیمینٹ ان فیصلوں کو ختم، منسوخ یا ان میں کوئی ترمیم نہ کردے،کونسل کے یہ فیصلے نافذ العمل رہیں گے۔ لاہور ہائیکورٹ نے کونسل کے فیصلوں پر عمل درآمد کا حکم دیا ہے اور یہ حکم آئینی تقاضوں کے پیش نظر جاری کیا گیا ہے۔ مشترکہ مفادات کی کونسل کے مذکورہ فیصلوں پر اگر کسی حکومت کو اعتراض ہے تو اسے پارلیمینٹ میں اٹھایا جانا چاہئے تھا۔ ہائیکورٹ نے اپنے طور پر تو کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا حکم جاری نہیں کیا بلکہ حکومت کو اسی کے کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کی ہدایت کی ہے۔ دوسرے لفظوں میں مشترکہ مفادات کونسل کے مردہ ہوجانے والے فیصلوں کو نئی زندگی دی ہے، جسے حکومت چاہے تو پارلیمینٹ کے ذریعے غیر مو¿ثر بھی بنا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ پر ایسی تنقید مناسب نہیں جس سے تعصب کی بو آئے۔

مزید :

تجزیہ -